منگل، 27 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

ماں، تحریر:ردا امانت علی

نقطہ نظر

ماں دنیا کا واحد ایسا رشتہ ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں ہے۔ وہ اپنی اولاد سے بے لوث محبت کرتی ہے۔ دنیا میں ماں سے بڑھ کر اولاد کو چاہنے والا کوئی اور ہو ہی نہیں سکتا۔ ماں اپنے بچوں کے لیے جیتی ہے اور بچے اس کی زندگی کا وہ سب سے بڑا سرمایہ ہوتے ہیں، جس کی خاطر ایک ماں کچھ بھی کر سکتی ہے۔ میرے لیے میری ماں کا چہرہ اس کائنات کا سب سے خوبصورت چہرہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ماں کے قدموں تلے جنت رکھ دی ہے؛ کیونکہ جب کوئی عورت ماں بنتی ہے، تو گویا وہ اپنی جان کی بازی لگا کر اپنی اولاد کو اس دنیا میں لاتی ہے۔

ماں کی محبت کا احساس انسان کو اس دنیا میں قدم رکھتے ہی، پہلی بار آنکھ کھولنے پر ہو جاتا ہے۔ ماں بچے کی پہلی درسگاہ ہے۔ ماں کا نام سنتے ہی بچے کا دل سکون اور اطمینان سے بھر جاتا ہے۔ ماں کچھ کرے یا نہ کرے، وہ صرف گھر کے تخت پر بیٹھی رہے تب بھی یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پورے گھر پر سکون کا ایک ٹھنڈا سایہ قائم ہے۔

اللہ تعالیٰ نے سورۃ بنی اسرائیل (پارہ نمبر 15، آیات 23-24) میں ارشاد فرمایا ہے:

"اور تمہارے رب نے فیصلہ کر دیا ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو۔ اگر ان میں سے کوئی ایک یا دونوں تمہارے سامنے بڑھاپے کو پہنچ جائیں، تو انہیں 'اف' تک نہ کہو اور نہ ہی انہیں جھڑکو، بلکہ ان سے احترام کے ساتھ بات کرو۔ اور شفقت کے ساتھ ان کے آگے عاجزی کا بازو جھکائے رکھو اور دعا کرو کہ: اے میرے رب! ان پر رحم فرما، جس طرح انہوں نے بچپن میں مجھے پالا تھا۔"

میری زندگی میں محبت کا سفر ماں سے شروع ہو کر باپ پر ختم ہوتا ہے، اور میری دنیا بھائی سے شروع ہو کر بہنوں پر مکمل ہوتی ہے۔ ماں کی ڈانٹ میں بھی پیار چھپا ہوتا ہے، جو بچوں کے روشن مستقبل کے لیے ایک بہترین نصیحت کی مانند ہوتا ہے۔ جب میری ماں مسکراتی ہے، تو میری خوشی کی انتہا نہیں رہتی؛ کیونکہ ماں اس دنیا میں عزت کا مان اور آخرت میں نجات کا ذریعہ ہے۔

میری پیاری ماں کی نذر چند اشعار:

کائنات کا انمول رشتہ ہے ماں

جس کی رضا میں چھپی ہو خدا کی رضا

جو خود گیلے پہ سو کر سوکھے پہ سلائے

جو خود روکھی کھا کر ہمیں اچھا کھلائے

جو ہماری اک آہ پہ راتوں کو جاگے

جو اک واہ سن کر فوراً پاس آئے

جو بیماری میں رات بھر جاگتی رہے

ہمیں چوٹ لگے، پر پریشان وہ ہو

جس کی موجودگی روح کا سکون ہو

جس کے بنا بے تاب یہ نگاہیں رہیں

زمانے کی ناپاک نظروں سے جو بچائے

بیٹیاں ہوتی ہیں جس کی پرچھائی

جس کی بانہوں میں سچا سکون میسر ہو

جس کی اک تسلی ہر درد کی دوا بن جائے

جو چہرے کے بدلتے رنگ دیکھ کر پہچان جائے

جو بن کہے دل کی سب بات سمجھ جائے

جسے دیکھ کر دل گواہی دے

اور ہر زباں بس یہی کہتی جائے:

فَبِاَيِّ اٰلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ

جس کی دعائیں ساری بلائیں ٹال دیں

جس کے بہتے آنسو عرش کو ہلا دیں

جس کی اک صدا پہ لبیک کا حکم ہے

جس کے متبرک قدموں تلے جنت ہے

جس کی مسکراہٹ سے چلتی ہو زندگی میری

وہی تو ہے میری پیاری ماں!

میری اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہر ماں کو سلامت رکھے اور ان کا سایہ ان کے بچوں پر تا قیامت قائم رکھے۔ آمین یا رب العالمین!