پارلیمنٹ میں آئین کی آواز کمزور، ذاتی مفادات کا شور بلند،تجزیہ : شہزاد قریشی
نقطہ نظر
پارلیمنٹ میں آئین و قانون کی آواز دب گئی، ذاتی مفادات اور اقتدار کی جنگ غالب!
سرحدوں پر فوج، شہروں میں پولیس ذمہ دارِ تحفظ؛ پارلیمنٹ میں عوامی خدمت کے بجائے ذاتی مفادات کی سیاست!
عمر گزر گئی پارلیمنٹ کے ایوانوں میں ایک دوسرے پر الزامات، بہتان تراشی، سیاسی پروپیگنڈے اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوششیں سنتے ہوئے۔ افسوس کہ آج بھی منظرنامہ بڑی حد تک وہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا پارلیمنٹ کا مقصد صرف ایک دوسرے پر انگلیاں اٹھانا، سیاسی مخالفین کو برا بھلا کہنا اور ذاتی مفادات کی جنگ لڑنا رہ گیا ہے؟
ایک بین الاقوامی جمہوری تناظر میں دیکھا جائے تو پارلیمنٹ کسی بھی ریاست کا محض ایک سیاسی ایوان نہیں، بلکہ آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی، قومی پالیسی سازی اور عوامی حقوق کے تحفظ کا بنیادی ادارہ ہوتی ہے۔ دنیا کی مضبوط جمہوریتوں میں پارلیمانی نمائندوں کی کارکردگی کو ان کی تقریروں کی تلخی سے نہیں، بلکہ قانون سازی، عوامی مسائل کے حل اور قومی مفادات کے تحفظ سے جانچا جاتا ہے۔
لیکن جب پارلیمانی بحث کا محور عوامی مشکلات کے بجائے ذاتی اختیارات، سیاسی پروٹوکول، اقتدار کی کشمکش اور جماعتی مفادات بن جائیں تو جمہوری اداروں پر عوام کا اعتماد کمزور ہونے لگتا ہے۔ پارلیمنٹ میں آئین اور قانون کی بات کرنے والے افراد یقیناً موجود ہیں، مگر اصل ضرورت یہ ہے کہ آئینی اصول محض تقریروں تک محدود نہ رہیں، بلکہ عملی سیاست کا حصہ بنیں۔
یہ سوال کسی ایک سیاسی جماعت، مذہبی جماعت یا مخصوص نظریے سے تعلق رکھنے والوں تک محدود نہیں۔ چاہے کوئی سیاست دان ہو، مذہبی رہنما ہو یا کسی بھی سیاسی و مذہبی جماعت کا نمائندہ، اس کے کردار کا معیار ایک ہی ہونا چاہیے: کیا وہ قومی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دیتا ہے؟ کیا وہ عوام کے حقوق کے لیے کھڑا ہوتا ہے؟ کیا وہ آئین اور قانون کی پاسداری کرتا ہے؟
دوسری جانب ملک کا دفاع اور داخلی امن بھی قومی ذمہ داریوں میں بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ پاکستان کی مسلح افواج ملکی سرحدوں کے دفاع کی ذمہ داریاں انجام دیتی ہیں، جبکہ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے شہریوں کے تحفظ اور امن و امان کے قیام میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ ان اداروں کی خدمات کا تقاضا ہے کہ ریاست کے تمام ستون اپنی آئینی حدود میں رہتے ہوئے قومی سلامتی، استحکام اور عوامی فلاح کے لیے کام کریں۔
یاد رکھنا چاہیے کہ ریاستیں صرف نعروں، تقریروں اور سیاسی دعوؤں سے مضبوط نہیں ہوتیں؛ انہیں مضبوط بنانے کے لیے دیانت دار قیادت، مؤثر قانون سازی، جواب دہی اور قومی مفاد سے وفاداری ضروری ہوتی ہے۔
پارلیمنٹ کے معزز اراکین کو خود سے یہ سوال کرنا چاہیے کہ تاریخ انہیں کس حیثیت سے یاد رکھے گی: ایسے نمائندوں کے طور پر جنہوں نے اپنے دورِ اقتدار میں ذاتی مفادات کو ترجیح دی، یا ایسے رہنماؤں کے طور پر جنہوں نے آئین کی بالادستی، عوامی حقوق اور پاکستان کے مستقبل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کیں؟
میری نظر میں پارلیمنٹ کی اصل طاقت بلند آواز، سخت الفاظ یا مخالفین پر الزامات میں نہیں، بلکہ اس کردار میں ہے جو عوام کے مسائل حل کرے، قومی اداروں کو مضبوط بنائے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک مستحکم ریاست کی بنیاد رکھے۔
کیونکہ اقتدار عارضی ہوتا ہے، عہدے بدل جاتے ہیں، پروٹوکول ختم ہو جاتا ہے، لیکن قومیں اپنے حکمرانوں اور نمائندوں کو ان کے کردار، فیصلوں اور قومی خدمات کی بنیاد پر یاد رکھتی ہیں۔
مزید پڑھیں





