حضور اکرم ﷺ بہترین استاد مگر ہم اچھے شاگرد نہیں ،تحریر:ندیم یعقوب گوہر
نقطہ نظر
انسانی تاریخ گواہ ہے کہ نظریات اور فلسفے کتابوں کے اوراق میں دم توڑ جاتے ہیں اگر انہیں عمل کا پیکر عطا کرنے والی کوئی مخلص اور صاحبِ کردار شخصیت میسر نہ آئے۔ چودہ سو برس قبل ریگزارِ عرب کے تپتے ہوئے ماحول میں ایک ایسی ہستی مبعوث ہوئی جس نے ببانگِ دہل اعلان فرمایا کہ مجھے تو معلم بنا کر ہی بھیجا گیا ہے۔ رسولِ کریم ﷺ کا یہ دعویٰ محض لفظی نہیں تھا بلکہ تاریخ نے دیکھا کہ اس معلمِ اعظم نے اونٹ چرانے والے بدویوں، خونی قبائلی جھگڑوں میں الجھی ہوئی قوم اور اخلاقی پستیوں میں گھری سوسائٹی کو محض دو دہائیوں کے مختصر عرصے میں دنیا کے سب سے مہذب اور باوقار رہنماؤں میں بدل دیا۔ مگر آج جب ہم اپنے گریبان میں جھانکتے ہیں اور معاصر امتِ مسلمہ کا جائزہ لیتے ہیں تو دل خون کے آنسو روتا ہے کہ استاد تو بے مثال تھا، مگر ہم ان کے نہایت نالائق اور غافل شاگرد ثابت ہوئے۔
حضور اکرم ﷺ کی استاد کے طور پر عظمت کا راز ان کا وہ منفرد اسلوب تھا جس کی مثال پوری انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔ آپ صرف الفاظ کے سوداگر نہیں تھے، بلکہ جو کہتے تھے پہلے خود اس پر عمل پیرا ہو کر دکھاتے تھے۔ ام المومنین حضرت عائشہؓ کے بقول آپ کا اخلاق ہی مجسم قرآن تھا۔ آپ کا اندازِ تدریس جبر، خوف یا تضحیک پر نہیں بلکہ بے پایاں شفقت، نفسیاتی ادراک اور حکمت پر استوار تھا۔ جب ایک بدوی نے مسجدِ نبوی کے تقدس کو پامال کیا تو صحابہ غصے میں آ گئے، مگر معلمِ اعظم نے اس کی غلطی کو شرمندگی بنائے بغیر محبت اور نرمی سے سمجھایا۔ آپ نے سوالات کے ذریعے تجسس بیدار کیا، اشاروں اور تمثیلوں سے حقائق واضح کیے اور ہر شاگرد کے فطری رجحان کو پہچان کر اسے وہی ذمہ داری سونپی جو اس کی استعداد کے عین مطابق تھی۔ خالد بن ولیدؓ کی عسکری مہارت، معاذ بن جبلؓ کی فقہی بصیرت، اور زید بن ثابتؓ کی لسانی صلاحیتوں کو تراش کر ایسا ہیرا بنانا اسی استاد کی نگاہِ کیمیا اثر کا کرشمہ تھا۔
اس کے بالکل برعکس، بحیثیتِ شاگرد ہمارا رویہ تضادات اور منافقت کا دردناک نوحہ ہے۔ ہم نے استاد سے عقیدت کا اظہار تو بے تحاشا کیا، نعتیں پڑھیں، محافل سجائیں اور جذباتی نعرے لگائے، لیکن ان کے بتائے ہوئے اسباق اور نصابِ حیات سے آنکھیں چرا لیں۔ دنیا کے کسی بھی مدرسے میں ایسا شاگرد کبھی کامیاب نہیں کہلا سکتا جو استاد کی تعریف میں قصیدے پڑھے مگر امتحانی پرچے میں ان کی سکھائی ہوئی باتوں کے برعکس عمل کرے۔ ہماری سب سے بڑی المیہ یہ ہے کہ ہم نے اپنے استاد کے دیے ہوئے دین کو دو حصوں میں بانٹ دیا ہے۔ مسجدوں کی چاردیواری کے اندر ہم عبادات کی پابندی میں آگے نظر آتے ہیں، لیکن جونہی بازار، دفتر، سڑک یا ایوانِ اقتدار میں قدم رکھتے ہیں، ہمارے معاملات اور اخلاق استاد کے اصولوں سے کوسوں دور ہو جاتے ہیں۔ ناپ تول میں ہیرا پھیری، جھوٹ، وعدہ خلافی، ملاوٹ، رشوت، اور کمزوروں کا استحصال ہمارا روزمرہ کا معمول بن چکا ہے، جبکہ استاد نے صریح حکم دیا تھا کہ مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے محفوظ رہیں۔
ہم اس لیے اچھے شاگرد نہ بن سکے کیونکہ ہم نے سچی اطاعت کے کٹھن راستے کو چھوڑ کر کھوکھلی رسم پرستی کا آسان راستہ چن لیا۔ صحابہ کرامؓ کے سامنے جب استاد کا کوئی فرمان آتا تھا تو وہ اپنی صدہا سال پرانی انا، ذاتی مفادات اور قبائلی تعصبات کو ایک لمحے میں روند ڈالتے تھے۔ ان کے نزدیک علم صرف یاد کرنے کا نام نہیں تھا بلکہ اپنی روح اور کردار کو اس کے سانچے میں ڈھالنے کا نام تھا۔ اس کے برعکس ہم نے علم کو محض مناظروں، فرقہ ورانہ بحثوں اور سوشل میڈیا پر اپنی برتری ثابت کرنے کا کھلونا بنا لیا ہے۔ استاد امت کو ایک لڑی میں پرونے آئے تھے، مگر ہم نے انہی کے نام پر مسلکوں، فرقوں اور لسانی عصبیتوں کے لاتعداد مورچے کھود رکھے ہیں۔ ہم نے ان کی بتائی ہوئی میانہ روی اور اعتدال کو پسِ پشت ڈال کر یا تو مجرمانہ غفلت اپنائی یا پھر انتہا پسندی اور شدت پسندی کی راہ اختیار کر لی۔
ہمیں درحقیقت کیسا شاگرد ہونا چاہیے تھا؟ ایک اچھے شاگرد کا اولین فرض یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے استاد کے اخلاق، مزاج اور افکار کا سچا آئینہ دار بنے۔ ہمیں چاہیے تھا کہ ہم معاملات اور دیانت کو عبادات کا لازمی جزو سمجھتے۔ ہماری دکانوں پر بیٹھا تاجر اپنے گاہک کے ساتھ وہ دیانت برتتا جو صادق اور امین ﷺ کا شعار تھی، ہمارے سرکاری دفاتر میں کام کرنے والا فرد وقت اور اختیارات کو اللہ اور اس کے رسول کی سونپی ہوئی امانت سمجھتا، اور ہمارے اسکول اور یونیورسٹیاں رٹا بازی کے بجائے کردار سازی اور انسانی خدمت کے ادارے بنتے۔ ہمیں ایک ایسا شاگرد بننا تھا جو عفو و درگزر، صبر اور وسعتِ ظرفی سے مخالفین کے دل جیتتا، نہ کہ نفرت اور الزام تراشی کی سیاست چمکاتا۔
وقت کا تقاضا ہے کہ اب ہم رسمی دعووں کے خول سے باہر نکلیں اور اپنے باطن کا بے لاگ محاسبہ کریں۔ شاگردی کا اصل حق تب ادا ہوگا جب ہماری عملی زندگی کو دیکھ کر دنیا یہ گواہی دے کہ اس قوم کا استاد واقعی محسنِ انسانیت تھا۔ جب تک ہم معلمِ اعظم ﷺ کے اسوہ حسنہ کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا منشور نہیں بنائیں گے، تاریخ کی عدالت میں ہمارا شمار ایک بے مثال استاد کے نالائق اور نامراد شاگردوں میں ہی ہوتا رہے گا۔





