Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

ہاتھوں میں ڈگریاں،آنکھوں میں خواب، مگر روزگار کہاں؟تحریر: مہر بشارت صدیقی

نقطہ نظر

ہمارے معاشرے کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ آج نوجوانوں کے ہاتھوں میں اعلیٰ تعلیمی ڈگریاں تو موجود ہیں، لیکن ان ڈگریوں کے مطابق روزگار کے مواقع میسر نہیں۔ والدین اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی بچوں کی تعلیم پر خرچ کر دیتے ہیں۔ انہیں امید ہوتی ہے کہ ایک دن ان کے بچے اچھی تعلیم حاصل کرکے اپنے پاؤں پر کھڑے ہوں گے، خاندان کا سہارا بنیں گے اور ملک و قوم کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ لیکن جب یہی نوجوان ڈگریاں لے کر ملازمت کی تلاش میں دربدر کی ٹھوکریں کھاتے ہیں تو ان کے خواب ٹوٹنے لگتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر آج کا نوجوان کرے تو کیا کرے؟


بے روزگاری صرف ایک فرد کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے خاندان اور معاشرے کا مسئلہ ہے۔ جب ایک تعلیم یافتہ نوجوان طویل عرصے تک روزگار حاصل کرنے میں ناکام رہتا ہے تو اس کی خود اعتمادی متاثر ہوتی ہے، گھر کے اخراجات پورے کرنا مشکل ہو جاتا ہے اور والدین کی امیدیں بھی دم توڑنے لگتی ہیں۔ مہنگائی کے اس دور میں جب روزمرہ کی ضروریات پوری کرنا عام آدمی کے لیے مشکل ہوتا جا رہا ہے، وہاں بے روزگار نوجوان کے لیے زندگی کی گاڑی چلانا کسی بڑے امتحان سے کم نہیں۔


ایک طرف سرکاری ملازمتوں کے مواقع محدود ہیں، دوسری طرف نجی شعبے میں بھی ہر تعلیم یافتہ نوجوان کو اس کی قابلیت اور ضرورت کے مطابق ملازمت نہیں مل پاتی۔ بعض اداروں میں تجربے کی شرط ایسے نوجوانوں کے لیے رکاوٹ بن جاتی ہے جو ابھی عملی زندگی کا آغاز کرنا چاہتے ہیں۔ نوجوان سوال کرتے ہیں کہ اگر ملازمت کے لیے تجربہ ضروری ہے تو انہیں تجربہ حاصل کرنے کا موقع کون فراہم کرے گا؟ یہی وہ سوال ہے جس کا جواب ہمارے تعلیمی اداروں، صنعت کاروں اور متعلقہ حکومتی اداروں کو مل کر تلاش کرنا ہوگا۔


ہمیں یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ صرف ڈگری حاصل کر لینا کامیابی کی ضمانت نہیں۔ تعلیم کے ساتھ عملی مہارت، جدید ٹیکنالوجی سے واقفیت، محنت اور اپنے شعبے میں تجربہ بھی ضروری ہے۔ اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ڈگری کی اہمیت ختم ہو گئی ہے، بلکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ تعلیم کو روزگار کی حقیقی ضروریات سے ہم آہنگ کیا جائے۔


میٹرک کے بعد نوجوان کیا کریں؟


یہ وہ اہم مرحلہ ہے جہاں ایک طالب علم کی زندگی کا رخ متعین ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں اکثر بچے میٹرک کے بعد محض دوسروں کی دیکھا دیکھی کسی تعلیمی شعبے کا انتخاب کر لیتے ہیں۔ بعض والدین بھی بچوں کی دلچسپی اور صلاحیتوں کو سمجھے بغیر ان پر اپنی مرضی مسلط کر دیتے ہیں۔ نتیجتاً کئی سال تعلیم حاصل کرنے کے باوجود نوجوان عملی زندگی میں مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں۔


میٹرک کے بعد طلبہ کو اپنی دلچسپی، صلاحیت، تعلیمی کارکردگی اور مستقبل میں دستیاب مواقع کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلہ کرنا چاہیے۔ جو طلبہ طب، انجینئرنگ، تدریس، کمپیوٹر سائنس یا دیگر شعبوں میں آگے بڑھنا چاہتے ہیں، وہ انٹرمیڈیٹ اور اعلیٰ تعلیم کا راستہ اختیار کر سکتے ہیں۔ دوسری طرف جن نوجوانوں کے لیے طویل تعلیمی سفر جاری رکھنا مالی طور پر مشکل ہو، ان کے لیے فنی اور پیشہ ورانہ تعلیم ایک مؤثر راستہ بن سکتی ہے۔


الیکٹریشن، سولر ٹیکنالوجی، موبائل فون ریپئرنگ، آٹو مکینک، ریفریجریشن، پلمبنگ، ویلڈنگ، کمپیوٹر ہارڈویئر، گرافک ڈیزائننگ اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ جیسے شعبوں میں مہارت حاصل کرکے نوجوان اپنے لیے روزگار کے مواقع پیدا کر سکتے ہیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ کسی مستند ادارے سے تربیت حاصل کریں اور عملی کام میں مہارت پیدا کریں۔


ہمارے تعلیمی اداروں کو بھی چاہیے کہ وہ طلبہ کو صرف امتحانات میں کامیابی تک محدود نہ رکھیں بلکہ انہیں کیریئر کونسلنگ، عملی تربیت اور روزگار کے بدلتے تقاضوں سے آگاہ کریں۔ میٹرک کے بعد درست رہنمائی ایک نوجوان کو کئی سال کی بے مقصد تعلیم اور مالی مشکلات سے بچا سکتی ہے۔


سرکاری نوکری نہیں تو اپنا کاروبار کیوں نہیں؟


ہمارے معاشرے میں سرکاری ملازمت کو کامیابی اور عزت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ بلاشبہ سرکاری ملازمت اپنی جگہ اہم ہے، لیکن کیا زندگی میں کامیابی کا واحد راستہ یہی ہے؟ کیا ایک نوجوان اپنا کاروبار کرکے باعزت زندگی نہیں گزار سکتا؟ کیا ہنر مند کاریگر، چھوٹا دکاندار، آن لائن خدمات فراہم کرنے والا یا اپنا ادارہ چلانے والا شخص معاشرے کا مفید فرد نہیں بن سکتا؟


ضرورت اس سوچ کو بدلنے کی ہے کہ نوکری ہی زندگی کا واحد مقصد ہے۔ اگر کسی نوجوان کو سرکاری ملازمت نہیں مل رہی تو اسے اپنی صلاحیتوں اور وسائل کے مطابق کاروبار کے امکانات پر بھی غور کرنا چاہیے۔ کوئی نوجوان موبائل ریپئرنگ کی دکان کھول سکتا ہے، کوئی سولر سسٹم کی تنصیب اور مرمت کا کام سیکھ سکتا ہے، کوئی آن لائن فری لانسنگ کے ذریعے خدمات فراہم کر سکتا ہے اور کوئی چھوٹے پیمانے پر تجارت یا گھریلو صنعت کا آغاز کر سکتا ہے۔


تاہم کاروبار شروع کرنا محض ایک مشورہ نہیں بلکہ ذمہ داری کا تقاضا بھی ہے۔ اس کے لیے مارکیٹ کی سمجھ، کام کا تجربہ، منصوبہ بندی، سرمایہ اور مستقل مزاجی ضروری ہیں۔ نوجوانوں کو چاہیے کہ بغیر تحقیق قرض لے کر یا اپنی جمع پونجی خطرے میں ڈال کر کاروبار شروع نہ کریں۔ پہلے چھوٹے پیمانے پر کام سیکھیں، گاہکوں کی ضروریات سمجھیں، اخراجات اور آمدن کا حساب رکھیں اور پھر بتدریج اپنے کام کو وسعت دیں۔


حکومت، بینکوں اور نجی اداروں کو بھی چاہیے کہ نوجوانوں کے لیے آسان شرائط پر کاروباری قرضوں، فنی تربیت اور رہنمائی کے پروگرام متعارف کرائیں۔ محض قرض دینا کافی نہیں؛ کاروبار کی منصوبہ بندی، مالی نظم و ضبط اور مارکیٹ تک رسائی میں مدد فراہم کرنا بھی ضروری ہے۔


بیرونِ ملک جانے کا خواب اور غریب نوجوان کی مجبوری


آج بہت سے نوجوان بہتر مستقبل کی تلاش میں بیرونِ ملک جانے کے خواہش مند ہیں۔ کچھ خاندان اپنی زمین، زیورات یا دیگر اثاثے فروخت کرکے بچوں کو روزگار کے لیے دوسرے ممالک بھیجنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بیرونِ ملک ملازمت حاصل کرنے والے بعض افراد اپنے خاندانوں کی مالی حالت بہتر بنانے میں کامیاب بھی ہوتے ہیں، لیکن ہر شخص کے لیے یہ راستہ آسان نہیں۔


اصل مسئلہ ان غریب نوجوانوں کا ہے جن کے پاس بیرونِ ملک جانے کے لیے مطلوبہ سرمایہ نہیں۔ وہ نہ بھاری اخراجات برداشت کر سکتے ہیں اور نہ ہی کسی ایجنٹ کو لاکھوں روپے ادا کرنے کی استطاعت رکھتے ہیں۔ بعض نوجوان بہتر روزگار کی امید میں اپنی جمع پونجی ایسے افراد کے حوالے کر دیتے ہیں جو انہیں ملازمت اور ویزے کے جھوٹے وعدے کرتے ہیں۔ نتیجتاً وہ مالی نقصان کے ساتھ شدید ذہنی پریشانی کا بھی شکار ہو جاتے ہیں۔


بیرونِ ملک روزگار حاصل کرنا ایک جائز اور بہتر موقع ہو سکتا ہے، لیکن اس کے لیے قانونی طریقہ اختیار کرنا، ملازمت کی تصدیق کرنا اور متعلقہ اخراجات و شرائط کو اچھی طرح سمجھنا ضروری ہے۔ نوجوانوں کو چاہیے کہ غیر مصدقہ ایجنٹوں اور غیر حقیقی وعدوں سے محتاط رہیں۔ حکومت کو بھی بیرونِ ملک ملازمتوں کے لیے شفاف بھرتی، مستند معلومات اور کم آمدن والے افراد کے لیے رہنمائی کے مؤثر انتظامات کرنے چاہییں۔


لیکن ایک بنیادی سوال اپنی جگہ موجود ہے: کیا ہمارے نوجوانوں کے لیے اپنے ہی ملک میں باعزت روزگار کے مواقع پیدا نہیں ہونے چاہییں؟ آخر کب تک نوجوان اپنے خاندانوں سے دور رہ کر روزگار تلاش کرنے پر مجبور رہیں گے؟ ملک کی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب یہاں سرمایہ کاری بڑھے، صنعتوں کو فروغ ملے، چھوٹے کاروبار مضبوط ہوں اور نوجوانوں کو اپنی صلاحیتیں اپنے وطن میں استعمال کرنے کا موقع ملے۔


بے روزگاری کا حل صرف نوجوان کی ذمہ داری نہیں


یہ کہنا آسان ہے کہ نوجوان محنت کریں، ہنر سیکھیں اور اپنا کاروبار شروع کریں، لیکن ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ کیا ہر نوجوان کو معیاری تعلیم، فنی تربیت، سرمایہ اور مناسب مواقع دستیاب ہیں؟ ایک غریب گھرانے کا نوجوان اگر دن بھر مزدوری کرکے اپنے گھر کا خرچ پورا کرتا ہے تو وہ تربیتی کورس کی فیس اور کاروبار کا ابتدائی سرمایہ کہاں سے لائے گا؟


اسی لیے بے روزگاری کے مسئلے کا حل صرف انفرادی کوششوں میں تلاش نہیں کیا جا سکتا۔ حکومت کو روزگار دوست معاشی پالیسیاں بنانے، صنعتی ترقی کو فروغ دینے، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کی حوصلہ افزائی کرنے اور فنی تعلیم کو عام کرنے کی ضرورت ہے۔ تعلیمی اداروں کو صنعتوں کے ساتھ روابط بڑھانے چاہییں تاکہ طلبہ کو دورانِ تعلیم عملی تربیت اور ملازمت کے مواقع میسر آ سکیں۔


نجی اداروں کو بھی چاہیے کہ نئے نوجوانوں کو مناسب تربیت کے ساتھ کام کرنے کا موقع دیں۔ اگر ہر ادارہ صرف تجربہ کار افراد کو ملازمت دے گا تو نئے گریجویٹس تجربہ کہاں سے حاصل کریں گے؟ انٹرن شپ، اپرنٹس شپ اور ابتدائی سطح کی ملازمتوں کے مواقع اس خلا کو کم کر سکتے ہیں۔


میڈیا کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ نوجوانوں کو صرف مسائل سے آگاہ نہ کرے بلکہ انہیں ہنر، کاروبار، فنی تربیت اور روزگار کے دستیاب راستوں کے بارے میں بھی معلومات فراہم کرے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کی صلاحیتوں کو پہچانیں، ان کی حوصلہ افزائی کریں اور انہیں کسی ایک پیشے تک محدود کرنے کے بجائے اپنی دلچسپی کے مطابق آگے بڑھنے کا موقع دیں۔


مایوسی نہیں، درست سمت میں عملی قدم ضروری ہے


آج کے نوجوان کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ حالات مشکل ضرور ہیں، لیکن اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنانے اور نئے راستے تلاش کرنے کی کوشش جاری رکھنا ضروری ہے۔ جو نوجوان تعلیم حاصل کر رہے ہیں، وہ اپنی ڈگری کے ساتھ کوئی قابلِ فروخت ہنر بھی سیکھیں۔ جو ملازمت کی تلاش میں ہیں، وہ اپنے شعبے سے متعلق مختصر کورسز، انٹرن شپ اور عملی تجربے کے مواقع تلاش کریں۔ اور جو کاروبار کرنا چاہتے ہیں، وہ اپنی استطاعت کے مطابق چھوٹے قدم سے آغاز کریں۔


یاد رکھیں، ہر نوجوان کے حالات ایک جیسے نہیں ہوتے۔ کسی کے پاس سرمایہ ہے، کسی کے پاس صرف ہنر؛ کسی کے لیے اعلیٰ تعلیم ممکن ہے، کسی کے لیے فوری روزگار ضروری ہے۔ اس لیے کامیابی کا کوئی ایک راستہ سب کے لیے موزوں نہیں ہو سکتا۔ اصل ضرورت اپنی صورتِ حال کو سمجھنے، درست منصوبہ بندی کرنے اور دستیاب مواقع سے فائدہ اٹھانے کی ہے۔


حکومت کو بھی نوجوانوں کے مسائل کو محض اعداد و شمار کے بجائے انسانی مسئلہ سمجھنا ہوگا۔ ایک بے روزگار نوجوان صرف ایک فرد نہیں بلکہ ایک پورے خاندان کی امیدوں کا مرکز ہوتا ہے۔ اسے روزگار ملتا ہے تو ایک گھر میں خوشحالی آتی ہے، بچوں کی تعلیم بہتر ہوتی ہے اور معاشرے میں اعتماد پیدا ہوتا ہے۔


آخر میں میرا سوال اربابِ اختیار، تعلیمی اداروں، صنعت کاروں اور معاشرے کے صاحبِ حیثیت افراد سے ہے: اگر ہمارے نوجوان تعلیم حاصل کرنے کے باوجود روزگار سے محروم رہیں گے تو ملک کا مستقبل کیسے روشن ہوگا؟ کیا وقت نہیں آ گیا کہ ہم ڈگریوں کے ساتھ ہنر، تعلیم کے ساتھ عملی تربیت اور ملازمت کے ساتھ کاروبار کے مواقع پیدا کرنے کو اپنی ترجیح بنائیں؟


ہمارے نوجوان ہمارا مستقبل ہیں۔ ان کے ہاتھوں میں ڈگریاں ہیں، ذہنوں میں صلاحیتیں ہیں اور دلوں میں آگے بڑھنے کی خواہش ہے۔ انہیں صرف نصیحتوں کی نہیں، مواقع، رہنمائی، تربیت اور اعتماد کی ضرورت ہے۔ اگر ہم نے آج اپنے نوجوانوں کو سنبھال لیا، انہیں باعزت روزگار کے راستے دکھا دیے اور ان کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کا موقع فراہم کر دیا تو یہی نوجوان کل پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کی بنیاد بنیں گے۔


کیونکہ نوجوانوں کو روزگار دینا صرف ایک معاشی ضرورت نہیں، بلکہ ایک روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔