مسئلہ کشمیر کاآغاز،پاک بھارت جنگیں،آپریشن جبرالٹراور مسلح تحریک آزادی،تاریخ کے اہم اوراق ،تحریر:انعام الحسن کاشمیری
نقطہ نظر
قانون تقسیم ہند 1947ء کے منصوبے کے تحت وزیراعظم برطانیہ اور اس کی کابینہ نے ہندوستان کی تقسیم اور بھارت و پاکستان کے قیام کے لیے ایک واضح لائحہ عمل مرتب کرکے دے دیا تھا۔ اس کے تحت اگرچہ تقسیم کا یہ عمل 1948ء میں پایہ تکمیل تک پہنچنا تھا لیکن ناگزیر وجوہات کی بناء پر اس پراگست 1947ء ہی سے عمل درآمد شروع کردیا گیا۔ یہ ایک مکمل شفاف، واضح اور ابہام سے پاک منصوبہ تھا جس میں مسلمانوں کے مطالبہ سے مزین پاکستان کے حوالے سے تمام امور طے کردیے گئے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہندوستان کی 562کے لگ بھگ شاہی ریاستوں کے لیے بھی ایک روڈ میپ دے دیا گیا تھا۔ اُن کے لیے طے کیا گیا کہ وہ مقررہ وقت میں غالب اکثریتی آبادی کی بنیاد پر پاکستان یا بھارت ، دونوں میں سے کسی ایک کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کریں گی تاہم اس فیصلے میں جغرافیائی حالات کو مدنظر رکھاجائے گا۔ یہ قانون تقسیم ہند کی سب سے اہم شق تھی جس میں شاہی ریاستوں کے مستقبل کا فیصلہ انصاف پر مبنی تھا۔
قانون تقسیم ہند کے تحت پنجاب کی مشرقی اور مغربی حصوں میں تقسیم کے لیے ایک برطانوی وکیل سیرل ریڈکلف کو مامور کیا گیا۔ ریڈکلف نے ہندوستان میں کوئی نمایاں انتظامی نوعیت کی خدمات انجام نہ دی تھیں اور وہ اس پیچیدہ عمل کا کوئی تجربہ نہ رکھتا تھا مگر اس کے باوجود اُسے حدبندی کمیشن کا سربراہ بنا کر بھیج دیا گیا۔ اس حد بندی کمیشن میں مسلمان اور ہندو نمائندے شامل تھے۔ سیرل نے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی رہنمائی میں سرحدوں کی نشاندہی کا کام شروع کیا۔ کشمیر کا مسئلہ اہم نوعیت کا تھا جہاں مسلمانوں کی غالب اکثریت تھی اور وہ پاکستان کے ساتھ الحاق کے ضمن میں نہ صرف یقین رکھے ہوئے تھے، بلکہ اس حوالے سے قرارداد بھی منظور کرچکے تھے۔ ماؤنٹ بیٹن نے گاندھی اور جواہرلال نہرو کے زیراثر سیرل کو ریاست جموں وکشمیر میں بھارت کے لیے آسان زمینی راستہ فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ اس مقصد کے لیے سیرل نے ضلع گورداسپور کی مسلم اکثریتی تحصیل پٹھانکوٹ کو بھارت میں شامل کردیا۔ ماؤنٹ بیٹن ہی کی ہدایت پر اس ضلع سے کشمیر کو جانے والی خستہ اور ٹوٹی پھوٹی سڑک کی دوبارہ تعمیر و مرمت کئی ماہ قبل ہی شروع کردی گئی تھی۔ جس کا واضح مقصد یہی تھا کہ جب قانون تقسیم ہند کا منصوبہ عمل پزیر ہو، تو بھارتی فوج کے لیے ریاست میں داخل ہونے کا راستہ مہیا کیاجاسکے۔ یہ واحد سڑک ہے جو بھارت کو زمینی راستے سے کشمیر میں داخلے کا راستہ مہیا کرتی ہے۔ چنانچہ جب بھارت نے پاکستان پر الزام عائد کیا، کہ اُس نے قبائلی مسلمانوں کو ریاست پر قبضہ کرنے کے لیے بھیجا ہے، اور اس کی آڑ میں 26اور 27اکتوبر کی درمیانی رات کو سرینگر میں سکھ بٹالین اتاری، تو باقی فوج اسی سڑک کے ذریعے کشمیر میں داخل کی گئی۔ صرف یہی نہیں، اس سے قبل بھی بھارتی فوج کی کئی بٹالین اسی سڑک کے ذریعے خاموشی کے ساتھ ریاست میں داخل ہوچکی تھیں۔ نیز مہاراجہ ہری سنگھ نے مسلمانانِ کشمیر کے جس قتل عام کا منصوبہ بنارکھا تھا ،اور اس کے لیے بھارتی پنجاب کی سکھ ریاستوں سے جو فوجی، آرایس ایس کے غنڈے، اکالی دل کے کارکن اور دیگر عناصر کو درآمد کیا ، اُن کی آمدورفت بھی اسی سڑک کے ذریعے ممکن ہوئی تھی۔ اس طرح بجا طور پر کہاجاسکتا ہے کہ ، بھارت نے ریاست میں قبائلیوں کی آمد سے قبل ہی ریاست میں دراندازی کا منصوبہ بنالیا تھا۔ قبائلی 22اکتوبر کو ریاست میں داخل ہوئے تھے جن کا روٹ گڑھی حبیب اللہ ، مظفرآباد اور چکوٹھی سے بارہ مولا تھا۔ دیگر محاذوں پر خود کشمیری مجاہدین ڈوگرہ فوج کے ساتھ برسرپیکار تھے۔
کشمیری مجاہدین نے اپنے زور بازو سے آزادکشمیر کا موجودہ خطہ اور گلگت بلتستان سکاؤٹس اور مقامی حریت پسندوں سے جی بی کا موجودہ علاقہ ڈوگرہ فوج سے آزاد کروایا۔ کشمیری مجاہدین اور عوام پہلے ڈوگرہ حکمرانوں اور اُن کی فوج کے خلاف سینہ سپر تھے۔ پھر اُن کی یہ جدوجہد بھارتی فوج کی دراندازی اور بھارت کے ریاست پر غاصبانہ قبضہ کے خلاف حصول آزادی میں مبدل ہوگئی جو آج پون صدی کے بعد بھی پوری آب وتاب سے جاری ہے۔ پاکستان نے روزِ اول سے اپنے کشمیری بھائیوں کی جدوجہد آزادی کی اخلاقی، سفارتی اور سیاسی سطح پر مدد، تعاون اور پشتیبانی کی روایت ہمیشہ قائم رکھی۔ اس مسئلے کی آڑ میں بھارت نے پاکستان کو نقصان پہنچانے کی ہمیشہ کوشش کی۔ بھارتی بنیاؤں نے پاکستان کے قیام کو کبھی تسلیم نہیں کیا۔ انھوں نے منصوبہ قانون تقسیم ہند کو اس امید پر بادل نخواستہ قبول کرلیا تھا کہ نوزائیدہ ریاست پاکستان لاکھوں مہاجرین کا بوجھ، فوجوں اور آلاتِ حرب کی شدید کمی اور وسائل کی عدم دستیابی کے باعث زیادہ دیر تک اپنا وجود برقرار نہ رکھ پائے گی اور اکھنڈبھارت منصوبے کے تحت جلد ہی بھارت کا دوبارہ سے حصہ بن جائے گی۔ یہ اکھنڈبھارت منصوبہ یا خواب ہے جس کی تکمیل کے لیے بھارت نے پاکستان کو زک پہنچانے کے لیے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں جانے دیا اورکوئی کسر باقی نہیں چھوڑی۔ چنانچہ جب گزشتہ 80برسوں کی اس باہمی مخاصمت، محاذ آرائی اور بھارتی ریشہ دوانیوں پر نظر دوڑائی جائے تو ایک طویل فہرست سامنے آتی ہے۔ 1948 ء، 1965اور1971ء کی پاک بھارت جنگیں، 1984ء میں بھارت کی جانب سے سیاچن پر قبضے کے بعد جنم لینے والا تنازع، 1988ء میں کشمیریوں کی مسلح جدوجہد آزادی کی تحریک کا آغاز، کارگل جنگ 1999، سن2000ء سے لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد پر شروع ہونے والی جھڑپیں، بالاکوٹ فضائی حملہ2019، پھر 2025ء میں آپریشن بنیان المرصوص اور بھارت کی فاش شکست ۔ اس نوعیت کی بے شمار کارروائیاں بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف کی گئیں جن کا جواب پاکستان نے بھرپور انداز میں دیا۔
دونوں ممالک کے درمیان پہلی طویل جنگ 1948ء میں لڑی گئی۔ اس جنگ میں اگرچہ فرنٹ لائن پر کشمیری مجاہدین تھے تاہم انھیں قبائلیوں، اور پاک فوج کی سٹریٹیجک مدد حاصل تھی۔ بعد میں جب بھارتی فوج نے چند مقامات پر آگے بڑھ کر پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو پاک فوج کی جوابی کارروائی سے اُسے پسپا ہونا پڑا۔ یہ جنگ ایک طرح سے اگست 1947ء میں شروع ہوئی اور یکم جنوری 1949ء کو جب اقوام متحدہ نے دونوں متحارب گروپوں میں جنگ بندی کروائی تو اس طویل محاذ آرائی کا وقتی طور پر خاتمہ ممکن ہوا۔
سیزفائرلائن کو کشمیری قوم نے کبھی تسلیم نہیں کیا۔ وہ سمجھتے تھے کہ اس پر عمل درآمد سے ریاست جموں وکشمیر کی بھارت سے آزادی کا معاملہ دب جائے گا ۔ آنے والے وقت نے اسے ثابت کردیا۔ چنانچہ آزادکشمیر کے موجودہ خطے پر قائم ہونے والی حکومت کو بیس کیمپ کا درجہ دیتے ہوئے سفارتی، سیاسی طور پر جہادِ کشمیر کو جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔ دوسری جانب مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھی عوام نے سیاسی جدوجہد کو اپنا مطمح نظر بناتے ہوئے غاصب بھارتی فوج کے انخلاء کے لیے نئی جدوجہد کی بنیاد رکھی ۔ اقوام متحدہ کی مداخلت اور جنگ بندی کے باوجود مسئلہ کشمیر کے حل کی جانب کوئی مثبت پیش رفت نہ کی گئی۔ بھارت نے اگرچہ متعدد بار وعدہ کیا کہ وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی منشاء کے بعد مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ضروری اقدامات بروئے کار لائے گا لیکن عملی طور پر وہ کشمیر پر اپنی گرفت مضبوط تر کرنے کے لیے تمام تر کوششوں کو عملی جامہ پہنانے لگا اور دھیرے دھیرے ریاست پر اُس کا قبضہ مستحکم ہوتا چلا گیا۔ بھارت کے دوغلے پن، اُس کی وعدہ خلافی، عالمی برادری کو گمراہ کرنے کی کوششوں اور کشمیری عوام پر ظلم وجبر کے نت نئے سلسلے شروع کرنے کی پاداش میں کشمیری عوام میں غم وغصے کی شدید لہر اٹھی ۔ کشمیری مسلمانوں نے سیاسی نوعیت کے مختلف اقدامات کیے جیسے کہ کشمیر پولیٹیکل کانفرنس اور اس طرح کی دیگر سرگرمیاں مسلسل جاری رکھیں تاکہ بھارت پر دباؤ ڈالاجاسکے نیز عالمی برادری کے سامنے کشمیری عوام کے مطالبہ حق خودارادیت کو بھرپور انداز میں پیش کیاجاسکے۔ کشمیری عوام کی ان سرگرمیوں سے بوکھلا کر اور ان کے بھڑکتے جذبات کو کچلنے کے لیے بھارتی فوج نے دسمبر1963ء میں درگاہ حضربل سے موئے مبارک کو چرالیا۔ موئے مبارک کی چوری نے کشمیری مسلمانوں کے جذبات کو شدید انداز میں برانگیختہ کردیا۔ پوری ریاست میں شدیداحتجاج شروع ہوگیا۔ ہنگامے پھوٹ پڑے ۔ آخربھارتی حکومت نے گھٹنے ٹیک دیے اور جنوری کے دوسرے ہفتے میں موئے مبارک بازیاب کرواکر درگاہ میں رکھ دیا گیا۔ بھارتی حکومت کے اس مذموم اقدام نے کشمیری عوام کے غصے پر تیل ڈالنے کا کام کیا۔
دسمبر1964ء میں بھارتی وزیراعظم لال بہادر شاستری نے ایک بیان میں کہا کہ ہمارے پاکستان کے ساتھ تعلقات بڑے مضبوط ہیں اور ان میں مسئلہ کشمیر کو ثانوی حیثیت حاصل ہے۔ اس بیان کا مقصد پاکستان کو خوش کرنا تھا جبکہ اس کے درپردہ بھارتی آئین میں ریاست جموں وکشمیر کو حاصل خصوصی حیثیت کا خاتمہ کرنا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ آئین کی شقوں 356-357کو ریاست پر لاگو کرنے کی کوششیں شروع کردیں جن کا مقصد ریاست میں انتظامی اور قانون سازی کے اختیارات سنبھالنا تھا۔ بھارت کے اس اقدام کا واضح مطلب ایک جانب اقوام متحدہ کی قراردوں کی نفی اور دوسری جانب عالمی برادری، پاکستان اور مسئلے کے اہم ترین فریق کشمیری عوام سے کیے گئے وعدوں کا مذاق اڑانا تھا۔ پاکستان نے بھارت کے ان اقدامات کی سخت مذمت کی۔ ریاست میں ہنگامے پھوٹ پڑے جنھوں نے پوری ریاست میں آگ لگادی۔ بھارتی حکومت نے ان ہنگاموں کو سرد کرنے کے لیے سخت ترین اقدامات بروئے کار لائے جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات بے حد کشیدہ ہوگئے۔
بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں وکشمیر پر اپنی گرفت اور قبضہ مستحکم کرنے جیسے اقدامات پر پاکستان کو سخت تشویش ہوئی۔ سمجھ لیا گیا کہ اب بھارت کسی صورت مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل نہیں ہونے دے گا۔ چنانچہ ایک منصوبہ تشکیل دیا گیا جس کانام آپریشن جبرالٹررکھا گیا۔ اس منصوبے میں آزادکشمیر کے مقامی نوجوان، مقبوضہ جموں وکشمیر کے مقامی نوجوان بڑی تعداد میں شامل ہوئے جنھوں نے مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارتی تنصیبات، چوکیوں، یونٹوں اور فوجی اہمیت کے حامل دیگر مقامات کو بڑی تعداد میں نقصان پہنچایا۔ علاوہ ازیں بھارتی فوجیں بین الاقوامی سرحد پر بھی چھیڑ چھاڑ میں مصروف تھیں۔ رن کچھ کے علاقے میں چھوٹے پیمانے پر جھڑپیں شروع تھیں ۔ خطرہ تھا کہ بھارتی فوج کسی بھی لمحے پاکستان پر حملہ کردے گی۔ چنانچہ آپریشن جبرالٹرکے تحت بھارتی فوج کو مقبوضہ جموں وکشمیر میں زبردست نقصان پہنچایاگیا ۔ چنانچہ جب بھارت نے پاکستان کے خلاف ستمبر1965ء کی جنگ شروع کی اور بھارتی فوجیں رن کچھ میں چھیڑ چھاڑ کے بعد اچانک لاہور پر حملہ آورہوئیں تو پاک فوج نے بھرپورانداز میں وطن عزیز کا دفاع کیا۔ آپریشن جبرالٹرکی بھارت کو خبر ہوچکی تھی اور اس میں حصہ لینے والے متعدد مجاہد گرفتار کرلیے گئے تھے یہ آپریشن اگرچہ چند تکنیکی اور لاجسٹک خامیوں کی وجہ سے کامیابی سے ہم کنار نہ ہوسکا لیکن اس آپریشن نے ثابت کردیا کہ اگر جہادی سرگرمیاں بڑے پیمانے پر شروع کی جائیں تو بھارتی فوج کو ریاست میں پسپائی کا سامنا کرنا پڑسکتاہے۔ اس آپریشن نے ایک طرح سے بھارتی فوج کی کمر توڑدی۔ اس کے نتیجے میں مقبوضہ جموں وکشمیر میں مقامی مجاہدین نے بھارتی فوج کے خلاف گوریلا کارروائیاں شروع کیں جو1988ء میں مسلح تحریک کی صورت اختیار کرگئیں۔ یہ تحریک آج بھی جاری ہے ۔ کشمیریوں کا اول و آخرمقصد بھارت سے آزادی کا حصول اور پاکستان کے ساتھ الحاق کے ارادوں کو پایہ تکمیل تک پہنچاناہے۔ جدوجہد آزادئ کشمیر کو 80برس ہوچکے ہیں۔ کشمیریوں کی تیسری کے بعد چوتھی نسل قربانیوں کے لیے تیار ہوچکی ہے۔ بھارت کی کوشش ہے کہ وہ نئی نسل کو اس تحریک سے برگشتہ کردے لیکن ننھے ننھے بچوں نے پیلٹ گنوں کے چھروں سے اپنی آنکھیں ضائع کرواکر ثابت کردیا ہے کہ وہ اس عظیم مقصد میں اپنے بڑوں کے شانہ بشانہ شریک ہیں۔ ٭٭٭
مزید پڑھیں




