ضلعی محکمہ صحت ننکانہ صاحب کی ابتر صورتحال بڑا چیلنج بن گئی

ننکانہ صاحب
(احسان اللہ ایاز نامہ نگار باغی ٹی وی)
نواحی قصبہ بچیکی کی اسٹینڈرڈ کلینک لیںب کے معاملے نے ضلعی محکمہ صحت کی کارروائی اور کارکردگی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے،
غیر رجسٹرڈ ہونے اور مجاز فردکی عدم موجودگی پر سیل ہونے والی لیبارٹری چند روز بعد دوبارہ کھل گئی22 ستمبر کو مالک کے خلاف ایف آئی آر درج، اگلے روز بھی لیبارٹری کھلی ہونے کا دعویٰ،
سیل کس نے کی، ڈی سیل کس کے حکم پر ہوئی قانونی تقاضے پورے ہوئے یا نہیں لیبارٹری دوبارہ کھولنے میں مبینہ رشوت اور سازباز کے سنگین الزامات، آزادانہ تصدیق تاحال باقی،ڈاکٹر حسن افتخار ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کی کارروائی پر سوالات محکمانہ نگرانی اور عملدرآمد کا نظام بھی زیرِ سوال نئے تعینات ہونے والے سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر ساریہ بن نسیم خان کے لیے ضلعی محکمہ صحت کی صورتحال بڑا چیلنج بن گئی
ڈپٹی کمشنر رعنا حمید اور سی ای او ہیلتھ سے فوری نوٹس، شفاف انکوائری اور ذمہ داروں کے تعین کا مطالبہ
ننکانہ صاحب ضلعی محکمہ صحت ننکانہ صاحب میں کارروائیوں کے طریقہ کار اور اختیارات کے مبینہ استعمال سے متعلق سوالات کے درمیان بچیکی کی اسٹینڈرڈ کلینک لیںب کا معاملہ بھی سامنے آگیا ذرائع کے مطابق لیبارٹری کو تقریباً دو ہفتے قبل ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر نے ڈاکٹر حسن افتخار نے مبینہ طور پر اس بنیاد پر سیل کیا کہ وہاں پر کوالیفائی پرسن موجود نہیں تھا اور پی ایچ سی رجسٹریشن بھی نہیں تھی۔ذرائع کا دعویٰ ہے کہ سیل کیے جانے کے صرف چند روز بعد لیبارٹری مبینہ طور پر دوبارہ کھول دی گئی اور گزشتہ کئی روز سے کام جاری ہے۔ معاملہ مزید سنگین اس وقت ہواجب22 ستمبر کو لیبارٹری کے مالک کے خلاف مقدمہ درج کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں، تاہم مبینہ طور پر اگلے روز بھی لیبارٹری کھلی نظر آئی ذرائع کی جانب سےلیبارٹری کی مبینہ ڈی سیلنگ میں رشوت اور سازباز کے سنگین الزامات بھی سامنے آئے ہیں، تاہم ان الزامات کی آزادانہ تصدیق تاحال نہیں ہو سکی اگر یہ دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو معاملہ صرف لیبارٹری کی خلاف ورزی تک محدود نہیں رہے گا بلکہ سرکاری کارروائی کو مبینہ طور پر غیر مؤثر بنانے والے عناصر کا تعین بھی ضروری ہوگا، اب بنیادی سوال یہ ہے کہ سیل کس کے حکم پر ہوئی، ڈی سیل کس نے کی اور کس قانونی اختیار کے تحت کی گئی کیا اس دوران ہی ایچ سی لائسنس اور سے متعلق تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے, اگر نہیں تو سیل شدہ لیبارٹری دوبارہ فعال کیسےہوئی,محکمہ صحت کے سابقہ انتظامی دور اور ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر حسن افتخار کے کردار کے حوالے سے بھی سوالات اٹھ رہے ہیں، تاہم کسی افسر کے خلاف الزامات کی حتمی حیثیت باقاعدہ انکوائری اور سرکاری ریکارڈ کی جانچ کے بعد ہی طے ہو سکتی ہے،نئے تعینات ہونے والے سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر ساریہ بن نسیم خان کے لیے ضلعی محکمہ صحت کی یہ صورتحال ایک بڑا انتظامی چیلنج بن گئی ہے، شہریوں نے ڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب رعنا حمید اور سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر ساریہ بن نسیم خان سے فوری نوٹس لے کر غیر جانب دارانہ انکوائری کا مطالبہ کیا ہے
مطالبہ کیا گیا ہے کہ سیلنگ میمو، انسپیکشن رپورٹ، ڈی سیلنگ کا حکم، پی ایچ سی رجسٹریشن،لائسنس، کوالیفائیڈ ہرسن کا ریکارڈ اور ایف آئی آر سمیت تمام دستاویزات کی جانچ کی جائے اور اگر اختیارات کے ناجائز استعمال، غفلت، ملی بھگت یا رشوت کے الزامات ثابت ہوں تو ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے،اصل سوال اب بھی برقرار ہے: جس لیبارٹری کو قانونی تقاضے پورے نہ ہونے پر سیل کیا گیا، وہ چند روز بعد دوبارہ کیسے کھل گئی،
مزید پڑھیں




