Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

معلم کا رتبہ،تحریر: سید علی جبران نقوی

نقطہ نظر

والدین سے لے کر شفیق اساتذہ تک کی علمی و فکری چھاؤں


دنیا کے کسی بھی معاشرے کی تشکیل، اخلاقی اقدار کی ترویج اور فکری بلوغت میں اساتذہ کا کردار ہمیشہ سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ ہر سال دنیا بھر میں یومِ اساتذہ منایا جاتا ہے، مگر میرے لیے یہ دن محض کیلنڈر پر درج ایک تاریخ یا رسمی تقریب کا نام نہیں۔ یہ دراصل رک کر اپنے ماضی کو دیکھنے، ان چہروں کو یاد کرنے اور ان محسنوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا دن ہے جنہوں نے ہماری شخصیت کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈالا۔

استاد صرف وہ شخص نہیں جو جماعت کے کمرے میں کتاب کھول کر سبق پڑھاتا ہے۔ استاد وہ ہے جو سوال کرنے کا حوصلہ دیتا ہے، غلطی سے سیکھنے کا سلیقہ سکھاتا ہے، سوچنے کے زاویے عطا کرتا ہے اور زندگی کے نشیب و فراز میں راستہ تلاش کرنے کی صلاحیت پیدا کرتا ہے۔ استاد ایک ایسا چراغ ہے جو صرف راستہ روشن نہیں کرتا بلکہ دوسروں کو بھی روشنی بانٹنے کا ہنر سکھاتا ہے۔

اور اگر استاد کی تعریف اتنی وسیع ہے تو اس سفر کا آغاز کہاں سے ہوتا ہے؟

میرے نزدیک اس کا آغاز گھر سے ہوتا ہے۔ انسان کا پہلا مدرسہ اس کا گھر اور پہلے معلم اس کے والدین ہوتے ہیں۔ ماں کی گود اور باپ کی شفقت وہ پہلی درسگاہ ہے جہاں بچے کو الفاظ سے پہلے رویے پڑھنے کو ملتے ہیں۔ والدین انگلی پکڑ کر چلنا ہی نہیں سکھاتے، بلکہ اچھے اور برے، درست اور غلط، حق اور باطل کے درمیان فرق کرنا بھی سکھاتے ہیں۔ ان کی خاموش قربانیاں، دعائیں، نصیحتیں اور کبھی کبھی سختی بھی دراصل زندگی کے ان اسباق کا حصہ ہوتی ہیں جن کی اہمیت ہمیں اکثر بہت دیر سے سمجھ آتی ہے۔

میرے لیے میرے والدین بھی اسی عظیم سلسلۂ معلمین کی پہلی کڑی ہیں۔ انہوں نے میرے اندر سیکھنے کی خواہش پیدا کی اور پھر زندگی نے مجھے ایسے اساتذہ عطا کیے جنہوں نے اس خواہش کو علم اور شعور کی سمت دی۔

سکول کی دہلیز پر قدم رکھا تو ایک نئی دنیا سامنے تھی۔ کتابیں تھیں، بستے تھے، کلاس روم تھے اور ان سب کے درمیان ایسے شفیق اساتذہ تھے جن کی شخصیتیں آج بھی یادوں کے دریچوں میں روشن ہیں۔ ان اساتذہ کی فہرست میرے لیے محض ناموں کی فہرست نہیں بلکہ میری زندگی کے مختلف ادوار، یادوں اور سیکھنے کے تجربات کی ایک خوبصورت داستان ہے۔

شہزادہ عاصم علیم صاحب، یامین صاحب،عتیق الرحمن صاحب نے میرے تعلیمی سفر میں اپنی اپنی جگہ اہم کردار ادا کیا۔ ان سے ملنے والی تعلیم صرف کتاب کے صفحات تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے سوچنے اور سمجھنے کے انداز کو بھی متاثر کیا۔

اسی علمی سفر میں عبدالرشید صاحب، فتح محمد صاحب، اللہ بخش صاحب جیسے اساتذہ بھی ملے، جن کی شخصیت اور طرزِ تدریس نے یہ احساس پیدا کیا کہ تعلیم محض امتحان پاس کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ شخصیت سازی کا عمل ہے۔ استاد کا ایک جملہ، ایک نصیحت یا کبھی ایک ڈانٹ بھی برسوں بعد یاد آتی ہے اور تب اندازہ ہوتا ہے کہ اس وقت کہی گئی بات دراصل زندگی کے کسی بڑے سبق کی تمہید تھی۔

اصغر علی صاحب، عبدالخالق صاحب، سردار علی صاحب اور ارشاد صاحب کا ذکر بھی اسی احترام کے ساتھ آتا ہے۔ ان جیسے اساتذہ نے علم کو محض ایک مشکل ذمہ داری نہیں رہنے دیا بلکہ اسے ایک دلچسپ اور بامقصد تجربہ بنایا۔ ان کی محنت اور اخلاص نے علم کی وہ پیاس پیدا کی جو عمر کے ساتھ ختم ہونے کے بجائے مزید گہری ہوتی چلی گئی۔

پھرڈاکٹرسعدیہ انور پاشا صاحبہ اور رضوان صاحب بھی میری زندگی کے اس خوبصورت سفر کا حصہ رہے۔ آج جب پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ یہ سب نام محض افراد کے نام نہیں، بلکہ میری تربیت کے مختلف ابواب ہیں۔ کسی نے علم دیا، کسی نے نظم و ضبط سکھایا، کسی نے سوال اٹھانے کی جرات دی اور کسی نے خاموشی سے اپنے کردار کے ذریعے زندگی کا سبق پڑھا دیا۔

استاد کی عظمت کا اندازہ شاید اسی بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ شاگرد اکثر اپنے استاد کی محنت کا اعتراف اس وقت کرتا ہے جب وہ خود زندگی کے میدان میں اترتا ہے۔ کلاس روم میں کہی گئی ایک معمولی سی بات برسوں بعد کسی مشکل فیصلے کے وقت رہنمائی بن جاتی ہے۔ استاد وقت کے ساتھ ہماری نظروں سے اوجھل ہو سکتا ہے، مگر اس کی تعلیم ہمارے کردار میں باقی رہتی ہے۔

آج کے دور میں تعلیم کو اکثر نمبروں، گریڈز، ڈگریوں اور ملازمت کے امکانات سے ناپا جاتا ہے۔ یہ سب اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن تعلیم کا اصل مقصد اس سے کہیں وسیع ہے۔ تعلیم انسان کو صرف روزگار کے قابل نہیں بناتی؛ اسے بہتر انسان، ذمہ دار شہری اور باشعور معاشرے کا رکن بناتی ہے۔ اور اس عمل میں استاد کا کردار بنیادی ہے۔

میرے تمام اساتذہ نے، اپنے اپنے انداز میں، میری زندگی کی تختی پر کچھ نہ کچھ لکھا۔ ممکن ہے وقت کی گرد نے بعض الفاظ کو دھندلا دیا ہو، ممکن ہے بہت سی یادیں ذہن کے کسی گوشے میں خاموش پڑی ہوں، لیکن ان سب کا اثر آج بھی باقی ہے۔

آج یومِ اساتذہ کے موقع پر میں اپنے تمام اساتذہ کو دل کی گہرائیوں سے سلام پیش کرتا ہوں۔ اپنے والدین کو، جو میرے پہلے معلم ہیں ، اور اپنے ان تمام شفیق اساتذہ کو جنہوں نے میرے تعلیمی، اخلاقی اور فکری سفر میں اپنا حصہ ڈالا۔

میرے والدین اوراساتذہ کے لئے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں صحت، سلامتی، عزت اور خوشیوں بھری طویل زندگی عطا فرمائے۔

کیونکہ استاد کا احسان کسی ایک دن کا نہیں ہوتا۔

زندگی میں بہت سے لوگ آتے ہیں اور گزر جاتے ہیں، مگر استاد وہ شخص ہے جو خود گزر کر بھی شاگرد کے اندر باقی رہتا ہے۔

میرے تمام اساتذہ کو سلام۔

آپ نے مجھے صرف پڑھایا نہیں،

مجھے بنانے میں اپنا حصہ ڈالا۔