فیملی ولاگنگ کے معاشرے پر اثرات،تحریر: ایمن ریاض
نقطہ نظر
دولت کی حسیں شالوں پر لوگ غیرت کو آرام سے سلا دیتے ہیں۔ ایک وقت تھا جب طوائفوں کو برا سمجھا جاتا تھا اور اب ایک وقت یہ ہے جب تقریباً ہر گھر میں ہی ”ڈیجیٹل طوائفیں“ موجود ہیں۔
سوشل میڈیا کے موجودہ دور میں نت نئے رجحانات فروغ پا رہے ہیں، ان میں سے ایک ”فیملی ولاگنگ“ بھی ہے۔
آج جب اس فیملی ولاگنگ میں بیٹیاں اپنے باپ سے اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ وقت گزارنے اور سگریٹ پینے کے بارے میں بات کرتی دکھائی دیتی ہیں یا جب ایک ماں اپنی جوان بیٹی کو غربت کارڈ استعمال کرتے ہوئے اس جنسی درندوں کے معاشرے میں ”ڈیجیٹل طوائف“ بنا رہی ہوتی ہے تو اس نئے پنپتے ہوئے رجحان سے ہماری معاشرتی اقدار کہیں دور کھڑی ہم پر ہنستی دکھائی دیتی ہیں۔
ایک وقت تھا کہ میاں بیوی کا رشتہ اس قدر مقدس تھا کہ محرم ہونے کے باوجود دونوں اکٹھے باہر نکلنے سے ہچکچاتے تھے اور ایک یہ دور ہے جب شادی کے اگلے روز ہی دلہنیا گیلے بالوں کے ساتھ موبائل سکرین پر نظر آتی ہے یا بیوی کے باتھ روم میں ہی کیمرے لگا دیے جاتے ہیں، یا جہاں نئی نویلی دلہن کی منہ دکھائی دولہا کے فینز ”بھابھی کتنی ہاٹ ہے“ کہہ کر کرتے ہیں۔
فیملی ولاگنگ معاشرتی ناسور ہے جو بے حیائی، گھٹیا پن، عیاشی، رقص، فضول خرچی، جھوٹ اور جوئے کی تشہیر کا مرکب ہے۔
ڈریں اس وقت سے جب آپ کا بچہ اس ناسور کا شکار ہو کر آپ ہی کی خواب گاہ میں گھسے گا اور اگر یہ سلسلہ اسی طرح چل رہا تو یقین مانیں کہ وہ وقت دور نہیں ہے جب آپ کی بیٹی ”دارو کوئین“ یا اس طرح کی دیگر کئی ولاگرز کے زیرِ اثر آپ کے ہاتھ سے نکل جائے گی ”کیونکہ جو نصیحت نہیں سنتے، وہ آئندہ آنے والوں کے لیے عبرت بن جاتے ہیں۔“
فیملی ولاگرز ایسا کوڑے کا ڈھیر ہیں جہاں خاندانی حرمتیں نیلام ہوتی ہیں اور معصومیت کو کیمرے کی قید میں نچایا جاتا ہے۔
سماجی اقدار کے قاتل یہ لوگ شہرت کی ہوس میں ہر اخلاقی سرحد عبور کرتے ہیں۔
ان ولاگرز کے محلات ”کچرا اور ایوانِ جہالت“ ہیں۔
ان کی ہر ویڈیو نمائش گاہ ہے جہاں حیا کے پردے چاک ہو رہے ہیں۔
ان کی زندگی کا ہر پل بے روح تماشا ہے جہاں صداقت مرثیہ خواں ہے اور حیا خاک نشیں۔
فیملی ولاگنگ مشرقی معاشرے کی اقدار پر تازیانہ ہے۔
ہیرا منڈی ویران ہے اور شریفوں کا گھر کوٹھا بن گیا ہے۔
”اپنے گھروں میں قرار پکڑو“، یہ تو پرانی بات ہے، یہ مولویوں کی باتیں ہیں؛ اب تو موبائل پکڑو اور ویڈیوز میں قرار پکڑو۔
اس جنسی درندوں کے معاشرے میں، جہاں ایک سال کی بچی سے لے کر پچیس سال کے جوان لڑکے کی عزت تک محفوظ نہیں ہے، وہاں اپنی بہن بیٹی دکھاؤ، غربت کارڈ استعمال کرو اور کامیاب ہو جاؤ۔کیمرے کے سامنے آنے کے لئے ہر وہ بے حیائی کا کام کرو جس سے معاشرے میں بے حیائی پھیلے، ایسے رویئے درست نہیں، سوشل میڈیا پر آنے والی ویڈیوز ،ز یادتی کے بڑھتے واقعات،غور کریں،سوچیں ،معاملہ اب نہ رکا تو انجام کیا ہو گا اور پھر اس انجام کا ذمہ دار کون ہو گا، آپ، معاشرہ ؟ جواب کوئی نہیں دے گا
بقولِ شاعر:
ہوئی اس دور میں منسوب جہالت کس سے؟
رہیں گے ننگِ زمانہ یہ کمالاتِ جدید!
مزید پڑھیں





