جمعرات، 29 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

معاشرتی تماشائی اور اخلاقی زوال،تحریر: مہوش بنت بشارت

نقطہ نظر

آج صبح ایک دل دہلا دینے والا منظر سامنے آیا۔ شہر کی ایک مصروف شاہراہ پر دو گاڑیوں کا ہولناک حادثہ ہوا۔ جس میں کئی لوگ شدید زخمی ہو کر سڑک پر تڑپ رہے تھے۔ ایسے نازک اور لرزہ خیز وقت پر وہاں موجود ہجوم کا ردِعمل دیکھ کر انسانیت کا سر شرم سے جھک گیا۔ زخمیوں کو ہسپتال پہنچانے یا ان کی مرہم پٹی کرنے کے بجائے وہاں کھڑے درجنوں نوجوان اپنے مہنگے موبائل فون نکال کر اس خونی منظر کی ویڈیوز بنا رہے تھے۔ لائیو سٹریمنگ کر رہے تھے۔ تڑپتے ہوئے انسانوں کی چیخیں گونج رہی تھیں اور لوگ زیادہ سے زیادہ 'ویوز' اور 'لائکس' سمیٹنے کی دوڑ میں مصروف تھے۔ یہ تماشہ صرف کسی ایک سڑک کا نہیں ہے۔ اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں تو ہم ایک ایسے بے حس معاشرے میں تبدیل ہو چکے ہیں جہاں ہر حادثہ، ہر لڑائی اور ہر کسی کی مجبوری صرف ایک تماشہ بن کر رہ گئی ہے۔ سوشل میڈیا کی اس ورچوئل دنیا نے ہم سے ہماری حقیقی ہمدردی، انسانیت اور اخلاقی اقدار کو چھین لیا ہے۔ ہم اب انسان نہیں رہے بلکہ صرف 'کیمرہ مین' اور 'تماشائی' بن چکے ہیں۔ جنہیں دوسروں کے دکھ میں بھی اپنے لیے تفریح کا سامان نظر آتا ہے۔ کسی کا گھر اجڑ رہا ہو کوئی، غریب سڑک پر بلک رہا ہو یا کسی کی عزت اچھالی جا رہی ہو۔ ہماری انگلیاں فوری طور پر ویڈیو شیئر کرنے کے بٹن کی طرف لپکتی ہیں۔ نفسیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ جب کوئی معاشرہ اخلاقی طور پر بانجھ ہو جاتا ہے تو اس کے افراد دوسروں کے کرب اور تکلیف سے تسکین حاصل کرنے لگتے ہیں۔ ہم نے سکرین پر آنے والے نوٹیفکیشنز کو اتنا اہم بنا دیا ہے کہ سامنے تڑپتے ہوئے زندہ انسان کی قیمت ہماری نظر میں ختم ہو گئی ہے۔ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کا مقصد لوگوں کو قریب لانا اور معلومات کا تبادلہ تھا۔ لیکن ہم نے اسے دوسروں کی تذلیل، سستی شہرت اور ذہنی پستی کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ کسی کی نجی زندگی کا کلپ ہو یا کسی کی کمزوری ہم اسے سیکنڈوں میں وائرل کر کے خود کو بہت بڑا باخبر انسان سمجھنے لگتے ہیں۔ یہ سوچے بغیر کہ اس کے پیچھے کتنے خاندان جیتے جی مر جاتے ہیں۔

ہمارا دین اور ہماری مشرقی روایات ہمیں ایک دوسرے کا درد بانٹنے، مصیبت میں کام آنے اور دوسروں کے عیبوں پر پردہ ڈالنے کی سخت تاکید کرتی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانِ عالی شان ہے کہ "مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرا مسلمان محفوظ رہے"۔

ایک اور جگہ ارشاد ہوا کہ "جو شخص کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی فرمائے گا"۔

لیکن آج ہم سستی واہ واہ اور چند فالوورز بڑھانے کی خاطر اپنے ہی بھائی کی رسوائی کا تماشہ سرِعام بازاروں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لگاتے ہیں اور اس پر فخر محسوس کرتے ہیں۔

معاشرے کی یہ اخلاقی گراوٹ ایک خاموش زہر کی طرح ہماری رگوں میں اتر رہی ہے۔ اگر ہم نے وقت رہتے اپنے اس رویے کی اصلاح نہ کی تو آنے والی نسلیں مکمل طور پر پتھر کے دلوں کے ساتھ پیدا ہوں گی۔ جنہیں کسی کے مرنے پر بھی کوئی افسوس نہیں ہوگا۔ ایک بااخلاق اور زندہ معاشرہ وہ ہوتا ہے جہاں کسی ایک فرد کی تکلیف پورے جسم کی طرح محسوس کی جائے۔ نہ کہ اس تکلیف کو تفریح کا ذریعہ بنا کر انٹرنیٹ پر سجا دیا جائے۔ ہمیں اس ذہنی پستی سے نکلنے کے لیے فوری طور پر اپنے رویوں کو بدلنا چاہیے۔ سب سے پہلے ہمیں اپنے اندر 'احساس' کو دوبارہ بیدار کرنا ہوگا۔ اگلی بار جب آپ کے سامنے کوئی حادثہ پیش آئے، کوئی مجبور انسان نظر آئے، یا کوئی لڑائی ہو رہی ہو تو موبائل نکالنے کے بجائے سب سے پہلے مدد کے لیے آگے بڑھیں۔ ویڈیو بنانے سے کسی کی جان نہیں بچتی بلکہ آپ کا ہاتھ بڑھانے سے کسی کو نئی زندگی مل سکتی ہے۔ دوسرا سوشل میڈیا پر شیئرنگ کرنے سے پہلے خود سے یہ سوال ضرور پوچھیں کہ اگر اس زخمی یا مجبور انسان کی جگہ میرا کوئی اپنا ہوتا تو کیا میں اس کی ویڈیو وائرل کرنا پسند کرتا؟ ڈیجیٹل دنیا کے منفی استعمال کو روکنے کے لیے ہمیں اپنے بچوں کی تربیت کرنی چاہیے کہ انٹرنیٹ ایک آلہ ہے۔ کوئی تماشہ گاہ نہیں۔ آخر میں میں صرف اتنا کہنا چاہوں گی کہ انسان کی اصل خوبصورتی اس کی ڈگریوں اس کی دولت یا اس کے سوشل میڈیا فالوورز سے نہیں بلکہ اس کے اندر موجود انسانیت اور ہمدردی سے ظاہر ہوتی ہے۔ کسی کی مجبوری کا تماشہ بنا کر حاصل ہونے والی شہرت دراصل آپ کی اخلاقی موت کا سرٹیفکیٹ ہے۔

اس لیے تماشائی نہ بنیں بلکہ ایک ذمہ دار اور دردِ دل رکھنے والے انسان کا کردار ادا کریں۔ اس سے پہلے کہ ہمارے دل مکمل طور پر بنجر ہو جائیں۔ اپنے اندر کے انسان کو بیدار کریں اور دوسروں کی زندگیوں کا احترام کرنا سیکھیں۔