پیر، 2 نومبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

ملکی سیاسی منظرنامہ،تحریر: راؤ غلامصطفی

نقطہ نظر

سیاست ایک ایسے نازک دوراہے پر کھڑی ہے جہاں سیاسی اختلافات، معاشی مشکلات، امن و امان کے چیلنجز اور ریاستی اداروں کے درمیان اختیارات کی کشمکش نے قومی معاملات کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ خیبرپختونخوا کی موجودہ صورتحال اس مجموعی سیاسی بحران کا ایک اہم اور حساس پہلو بن چکی ہے۔ وفاقی حکومت اور پان تحریک انصاف کے درمیان جاری کشیدگی نے صوبائی سیاست کو قومی سیاست کا مرکز بنا دیا ہے۔جبکہ دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات نے حالات کی سنگینی میں مزید اضافہ کیا ہے۔ ایسے حالات میں بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا سیاسی قوتیں باہمی اختلافات کو آئینی اور جمہوری دائرے میں حل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں یا ملک ایک مرتبہ پھر محاذ آرائی کے ایسے سلسلے میں داخل ہو رہا ہے جس کا نقصان بالآخر عام شہریوں کو اٹھانا پڑے گا؟


وفاقی حکومت کے فیصلے کے بعد صدر مملکت آصف علی زرداری نے صوبے میں ہنگامی حالت نافذ کرنے اور گورنر راج کے اقدامات کی منظوری دی۔ وفاقی حکومت نے اس اقدام کا جواز دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائیوں میں مبینہ عدم تعاون اور امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کو قرار دیا۔جبکہ تحریک انصاف نے اسے اپنے سیاسی مینڈیٹ اور صوبائی خودمختاری کے خلاف اقدام قرار دیا۔ 15 اکتوبر کو پارلیمان کے مشترکہ اجلاس نے بھی متعلقہ قراردادوں کی منظوری دے دی۔ یوں صوبے میں وفاقی مداخلت محض سیاسی بیان بازی کا معاملہ نہیں رہی بلکہ اس نے آئینی، قانونی اور جمہوری سطح پر ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔اس فیصلے کو سمجھنے کے لیے خیبرپختونخوا کے مخصوص حالات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ افغانستان سے ملحقہ سرحدی علاقوں میں دہشت گردی، مسلح گروہوں کی سرگرمیاں، شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں پر حملے اور ریاستی عمل داری برقرار رکھنے کے مسائل ایک عرصے سے موجود ہیں۔ ایک بنیادی نکتہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ دہشت گردی کا مسئلہ محض سیاسی الزامات سے حل نہیں ہو سکتا۔ اگر کسی حکومت پر سکیورٹی معاملات میں غفلت یا عدم تعاون کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔ تو اس کے شواہد سامنے لانا، متعلقہ ذمہ داریوں کا تعین کرنا اور آئینی طریقہ کار کے مطابق کارروائی کرنا ضروری ہے۔ اسی طرح صوبائی حکومت کو بھی اپنے انتظامی اقدامات، سکیورٹی پالیسی اور دستیاب وسائل کے استعمال کے حوالے سے جواب دہ ہونا چاہیے۔ قومی سلامتی جیسے حساس معاملے کو سیاسی مقابلے کا ہتھیار بنانے کے بجائے شفاف احتساب اور مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے آگے بڑھانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔


گورنر راج کے نفاذ نے صوبائی خودمختاری اور عوامی مینڈیٹ کے حوالے سے بھی اہم سوالات اٹھائے ہیں۔ پاکستان کے آئین میں ہنگامی حالت اور صوبائی حکومت کے معاملات میں وفاقی مداخلت کے لیے مخصوص شرائط اور طریقہ کار موجود ہیں۔ ان اختیارات کا استعمال غیر معمولی حالات میں ریاستی نظم و نسق برقرار رکھنے کے لیے کیا جا سکتا ہے۔لیکن ان کا اطلاق آئینی تقاضوں، قانونی حدود اور عدالتی نگرانی کے اصولوں کے مطابق ہونا چاہیے۔ کسی بھی غیر معمولی اقدام کی کامیابی کا انحصار صرف انتظامی اختیار پر نہیں بلکہ اس کی قانونی بنیاد، شفافیت اور عوامی قبولیت پر بھی ہوتا ہے۔تحریک انصاف کے لیے بھی یہ صورتحال ایک بڑا سیاسی امتحان ہے۔ پارٹی قیادت اپنے بانی عمران خان کی رہائی، سیاسی کارکنوں کے خلاف کارروائیوں اور سیاسی حقوق کے معاملات کو اپنی جدوجہد کا بنیادی حصہ قرار دیتی ہے۔ دوسری طرف وفاقی حکومت امن و امان اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات کو اپنی ذمہ داری کا اہم تقاضا سمجھتی ہے۔ ان دونوں مؤقفوں کے درمیان کشمکش نے قومی سیاست میں مذاکرات کے امکانات کو محدود کیا ہے۔ اگر تحریک انصاف اپنی سیاسی قوت کو مؤثر بنانا چاہتی ہے تو اسے عوامی مسائل، صوبائی انتظامی کارکردگی، دہشت گردی کے خلاف عملی اقدامات اور پارلیمانی جدوجہد پر بھی بھرپور توجہ دینا ہوگی۔ اسی طرح وفاقی حکومت کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ اختلافی آوازوں کو سیاسی عمل کا حصہ سمجھے اور اختلافات کے حل کے لیے مذاکرات کے دروازے کھلے رکھے۔ سیاست میں موجودہ کشیدگی سے سیاسی جماعتوں کے درمیان اعتماد کی فضا کمزور ہو چکی ہے۔ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال کو معاشی صورتحال سے الگ نہیں دیکھا جا سکتا۔ مہنگائی، بجلی اور گیس کے اخراجات، بے روزگاری، کاروباری سرگرمیوں میں مشکلات اور متوسط طبقے کی گھٹتی ہوئی قوت خرید نے عام شہری کی زندگی کو متاثر کیا ہے۔ ایسے حالات میں عوام سیاسی جماعتوں سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ محض اقتدار کی کشمکش میں الجھنے کے بجائے روزگار، تعلیم، صحت، توانائی اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی پر توجہ دیں۔ سیاسی استحکام معاشی سرگرمیوں کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے میں مدد دیتا ہے۔جبکہ مسلسل محاذ آرائی سرمایہ کاروں اور کاروباری طبقے کے اعتماد کو متاثر کر سکتی ہے۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں کو یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ عوام کے معاشی مسائل کسی ایک جماعت کے نہیں بلکہ پوری ریاست کے لیے ایک مشترکہ چیلنج ہیں۔اس تمام صورتحال میں پارلیمان، عدلیہ اور سیاسی جماعتوں کا کردار غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ پارلیمان کو ایسے فورم کے طور پر کام کرنا چاہیے جہاں قومی سلامتی، صوبائی خودمختاری اور سیاسی حقوق کے معاملات پر سنجیدہ بحث ہو سکے۔ عدلیہ کو آئینی تنازعات کا غیر جانب دارانہ جائزہ لینے اور بنیادی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کا موقع ملنا چاہیے۔ سیاسی جماعتوں کو بھی اپنے اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ اگر ہر مسئلے کا جواب سڑکوں پر احتجاج، گرفتاریوں، پابندیوں یا انتظامی فیصلوں میں تلاش کیا جائے گا۔تو سیاسی عدم اعتماد مزید گہرا ہونے کا خدشہ رہے گا۔پاکستان کو اس وقت محاذ آرائی سے زیادہ سیاسی بصیرت، الزام تراشی سے زیادہ شفافیت اور وقتی سیاسی فائدے سے زیادہ قومی مفاد کی ضرورت ہے۔ خیبرپختونخوا میں قیام امن اور آئینی نظم کی بحالی کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کرنے کے بجائے دونوں مقاصد کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا۔ وفاقی حکومت کو اپنے اقدامات کی قانونی بنیاد اور عملی نتائج واضح کرنے چاہییں، جبکہ سیاسی مخالفین کو بھی امن و امان اور عوامی تحفظ کے معاملات پر ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا چاہیے۔ اختلاف رائے جمہوریت کا حصہ ہے، لیکن قومی سلامتی اور عوامی حقوق کے تحفظ پر اتفاق رائے ریاستی ذمہ داری ہے۔ پاکستان کے سیاسی مستقبل کا انحصار اس بات پر ہے کہ سیاسی قیادت موجودہ بحران سے کیا سبق حاصل کرتی ہے۔ پاکستان کو ایسے سیاسی ماحول کی ضرورت ہے جہاں حکومت اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرے، اپوزیشن اپنے آئینی کردار کو مؤثر انداز میں ادا کرے ۔ عوام کا اصل مطالبہ اقتدار کی جنگ میں کسی ایک فریق کی فتح نہیں بلکہ امن، انصاف، معاشی آسودگی اور باوقار زندگی ہے۔ یہی وہ پیمانہ ہے جس پر ملک کی سیاسی قیادت اور حکومتی فیصلوں کو پرکھا جانا چاہیے۔