جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

ننھے قدم، بھاری سزائیں،تحریر:انعم عباسی

نقطہ نظر
anam abbasi

صبح کے وقت کسی اسکول کے دروازے پر کھڑے ہو کر دیکھیے تو آپ کو کئی ننھے چہرے نظر آئیں گے۔ کسی کی آنکھوں میں نیند ہوگی، کوئی ماں کی انگلی مضبوطی سے تھامے کھڑا ہوگا، کوئی ابھی گھر کی گرم آغوش سے نکلنے کے دکھ میں ہوگا، اور کوئی اپنی چھوٹی سی دنیا سے پہلی بار دور ہونے کے خوف میں مبتلا ہوگا۔ یہ بچے تین، ساڑھے تین یا چار سال کے ہوتے ہیں۔ عمر ایسی کہ ابھی انہیں زندگی کے بنیادی آداب سیکھنے ہیں، اپنے جذبات کو سمجھنا ہے اور دنیا کو پہچاننا ہے۔ مگر افسوس کہ ہمارے بعض اسکولوں میں ان ننھے قدموں سے بھی ایسی پابندیوں کی توقع کی جاتی ہے، جیسے وہ کسی دفتر کے ملازم ہوں اور چند منٹ کی تاخیر پر ان کے خلاف کارروائی ضروری ہو۔


سوال یہ ہے کہ آخر اتنی سی عمر میں بچے سے ہم کیا چاہتے ہیں؟ کیا ہم چاہتے ہیں کہ وہ صبح سویرے آنکھ کھلتے ہی گھڑی کا پابند بن جائے، اپنی نیند، تھکن اور جذبات کو بھول کر سیدھا اسکول پہنچے اور اگر کسی وجہ سے دیر ہو جائے تو ڈانٹ، سزا یا تضحیک کا سامنا بھی کرے؟


تعلیم کا مقصد تو انسان بنانا ہے، مگر جب تعلیم کے ابتدائی دروازے ہی پر بچے کو خوف کا سامنا ہو تو اس کے دل میں علم سے محبت کیسے پیدا ہوگی؟


تین سال کا بچہ اور وقت کی پابندی کا امتحان


ہمارے معاشرے میں والدین اپنے بچوں کو بہتر مستقبل دینے کی خواہش میں کم عمری ہی سے اسکول بھیجنے لگتے ہیں۔ بعض اوقات تین یا ساڑھے تین سال کے بچے کو بھی پریپ یا ابتدائی جماعت میں داخل کروا دیا جاتا ہے۔ والدین کی نیت یقیناً اچھی ہوتی ہے؛ وہ چاہتے ہیں کہ ان کا بچہ دوسروں سے آگے رہے، جلد سیکھے اور مستقبل میں کامیاب ہو۔ لیکن اس دوڑ میں ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ بچپن کوئی ریس نہیں جس میں جتنی جلدی دوڑنا شروع کیا جائے، اتنی ہی بڑی کامیابی حاصل ہو جائے۔


اس عمر کے بچے کی نیند، جذباتی کیفیت، جسمانی ضرورتیں اور سیکھنے کی رفتار بڑے بچوں سے مختلف ہوتی ہیں۔ اگر وہ رات کو دیر سے سویا ہو، صبح اس کی نیند پوری نہ ہوئی ہو یا اسے گھر سے نکلنے میں دشواری پیش آئی ہو تو وہ چڑچڑا بھی ہو سکتا ہے، رو بھی سکتا ہے اور اسکول پہنچنے میں تاخیر بھی کر سکتا ہے۔ ایسے میں اس کی کیفیت کو سمجھے بغیر اسے ڈانٹنا یا سزا دینا کس قسم کی تربیت ہے؟


یہاں ایک بات واضح رہنی چاہیے کہ وقت کی پابندی اپنی جگہ اہم ہے، لیکن ہر عمر کے بچے سے ایک جیسی توقعات رکھنا دانش مندی نہیں۔ چھوٹے بچے کو وقت کا پابند بنانا ہے تو پہلے اسے وقت کی اہمیت سمجھائیے، اس کے لیے مناسب معمول بنائیے اور گھر و اسکول مل کر اس کی مدد کیجیے۔ گھڑی کی سوئیوں سے لڑنے والے بچے کو پہلے اپنے جذبات سنبھالنا تو سیکھنے دیجیے۔


فن لینڈ سے کچھ سیکھنے میں حرج ہی کیا ہے؟


دنیا کے مختلف ممالک میں ابتدائی تعلیم کے طریقوں پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ بہت سے تعلیمی نظام چھوٹے بچوں کی عمر، نشوونما اور نفسیاتی ضروریات کو خاص اہمیت دیتے ہیں۔


مثلاً فن لینڈ میں ابتدائی بچپن کی تعلیم میں کھیل کے ذریعے سیکھنے، بچے کی ہمہ جہت نشوونما اور اس کی فلاح و بہبود کو اہم مقام حاصل ہے۔ وہاں تعلیم کو محض کتابیں پڑھنے، ہوم ورک مکمل کرنے یا قواعد یاد کروانے تک محدود نہیں سمجھا جاتا۔ بچوں کو کھیل، میل جول اور روزمرہ کی سرگرمیوں کے ذریعے سیکھنے کے مواقع دیے جاتے ہیں۔ اس نظام میں والدین اور تعلیمی اداروں کے باہمی تعاون کو بھی اہمیت حاصل ہے۔ (حوالہ: فن لینڈ کی قومی ایجنسی برائے تعلیم)


اب ذرا اپنے اسکولوں کا تصور کیجیے۔ کیا ہم اپنے بچوں کے لیے ایسا ماحول نہیں بنا سکتے جہاں انہیں کلاس میں داخل ہوتے ہی سلام کرنا، اپنی باری کا انتظار کرنا، دوسروں کی بات سننا، کھلونے اور کتابیں سنبھالنا، اپنی جگہ پر بیٹھنا اور ساتھیوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا سکھایا جائے؟


یہ سب بھی تعلیم ہی کا حصہ ہے۔ بلکہ کم عمری میں تو یہی بنیادی تربیت مستقبل کی تعلیم کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے۔


ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ڈسپلن کا مطلب صرف خاموش بیٹھنا، حکم ماننا اور مقررہ وقت پر حاضر ہونا نہیں۔ حقیقی نظم و ضبط یہ ہے کہ بچہ آہستہ آہستہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے لگے، اپنے جذبات پر قابو پانا سیکھے اور دوسروں کے حقوق کا احترام کرے۔


جاپان کی مثال اور ہماری ترجیحات


جاپان کے ابتدائی تعلیمی ماحول میں بھی اجتماعی زندگی، روزمرہ کے معمولات، دوسروں کے احترام اور چھوٹی چھوٹی ذمہ داریوں میں بچوں کی شرکت کو اہمیت دی جاتی ہے۔ بچوں کو اجتماعی سرگرمیوں، اپنی چیزیں سمیٹنے اور دوسروں کے ساتھ مل کر کام کرنے جیسے تجربات کے ذریعے سماجی آداب سیکھنے کے مواقع ملتے ہیں۔


اس مثال سے ہمارے لیے سبق یہ ہے کہ تربیت صرف ڈانٹنے سے نہیں ہوتی؛ تربیت کا ایک بڑا حصہ بچے کو خود عمل کر کے دکھانے اور پھر اس عمل کی مشق کا موقع دینے سے مکمل ہوتا ہے۔


ہمارے اسکولوں میں بھی اگر بچے کو یہ سکھایا جائے کہ کلاس میں کیسے داخل ہونا ہے، استاد سے کیسے بات کرنی ہے، قطار میں کیسے کھڑا ہونا ہے، کسی ساتھی کی چیز اجازت کے بغیر نہیں لینی اور اپنی باری کا انتظار کیسے کرنا ہے، تو آہستہ آہستہ اس کے اندر نظم و ضبط پیدا ہو سکتا ہے۔


آخر ہم کب تک یہ سمجھتے رہیں گے کہ سخت لہجہ ہی اچھے استاد کی پہچان ہے؟ ایک اچھا استاد وہ بھی ہو سکتا ہے جس کی بات بچے محبت سے سنیں، جس کے سامنے وہ سوال کرنے سے نہ گھبرائیں اور جس کی موجودگی انہیں خوف نہیں بلکہ تحفظ کا احساس دے۔


اسلام بھی تربیت میں عمر اور مرحلے کی اہمیت بتاتا ہے


ہمارا دین بھی بچوں کی تربیت کے معاملے میں عمر کے مختلف مراحل کی طرف توجہ دلاتا ہے۔ سنن ابی داؤد، حدیث 494 میں بچوں کو سات سال کی عمر میں نماز کی تلقین کرنے کا ذکر ملتا ہے۔ اس سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ بچوں کو عبادت کی باقاعدہ عادت ڈالنے کے لیے بھی عمر کے ایک مرحلے کا تعین کیا گیا ہے۔ (حوالہ: سنن ابی داؤد، کتاب الصلاۃ)


یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ اس حدیث کا مطلب یہ نہیں کہ سات سال سے پہلے بچے کو نماز سے متعارف ہی نہ کروایا جائے یا اس سے کوئی بات نہ کی جائے۔ والدین اپنے عمل سے پہلے بھی بچے کو نماز، دعا اور اچھے اخلاق سے محبت سکھا سکتے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ تربیت اور جبر میں فرق کیا ہے، اور بچے کی عمر و استعداد کو سامنے رکھ کر اس سے توقعات کیسے وابستہ کی جائیں۔


جب ہم اپنے دین کی تعلیمات سے رہنمائی لیتے ہیں تو ہمیں حکمت، تدریج اور تربیت کے مفہوم پر بھی غور کرنا چاہیے۔ تین سال کے بچے سے ایسی پختگی کی توقع رکھنا جو ابھی اس کی عمر کا تقاضا ہی نہیں، آخر کہاں کی دانش مندی ہے؟


اور اگر ہم ایک بچے کو اچھے اخلاق، عبادت، سچائی اور ذمہ داری کا احساس دلانا چاہتے ہیں تو کیا یہ سب خوف کے بجائے محبت، مثال اور مسلسل رہنمائی سے زیادہ مؤثر انداز میں نہیں سکھایا جا سکتا؟


سزا سے نہیں، سمجھانے سے سیکھتے ہیں بچے


سب سے زیادہ تشویش ناک بات اس وقت سامنے آتی ہے جب اسکول میں دیر سے آنے والے چھوٹے بچوں کو ڈانٹا جاتا ہے، سب کے سامنے شرمندہ کیا جاتا ہے یا جسمانی سزا دی جاتی ہے۔ اگر کسی ادارے میں ایسا رویہ اختیار کیا جا رہا ہے تو اس پر سنجیدگی سے نظرثانی ہونی چاہیے۔


بچے کو مارنا یا خوف زدہ کرنا وقت کی پابندی سکھانے کا مناسب طریقہ نہیں۔ اس سے وقتی طور پر بچہ خاموش تو ہو سکتا ہے، لیکن خاموشی اور تربیت ایک چیز نہیں۔ خوف کے باعث فرمانبرداری دکھانے والا بچہ ضروری نہیں کہ اپنے عمل کی وجہ بھی سمجھ گیا ہو۔


اگر بچہ مسلسل دیر سے آ رہا ہے تو اسکول کو والدین سے بات کرنی چاہیے۔ ممکن ہے گھر سے اسکول کا فاصلہ زیادہ ہو، آمدورفت کا مسئلہ ہو، گھر میں کوئی مشکل ہو یا بچے کے سونے جاگنے کا معمول درست نہ ہو۔ وجہ معلوم کیے بغیر سزا دینا مسئلے کو حل کرنے کے بجائے مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔


اسکولوں کو چاہیے کہ وہ پریپ اور نرسری کے بچوں کے لیے عمر کے مطابق نرم اور واضح اصول بنائیں، والدین کو مناسب نیند اور صبح کے معمولات کے بارے میں رہنمائی دیں اور تاخیر کی صورت میں بچے کو ذلیل کرنے کے بجائے مسئلے کی وجہ سمجھنے کی کوشش کریں۔


نظم و ضبط ضرور ہو، لیکن اس کی بنیاد احترام، مستقل مزاجی اور مثبت تربیت ہو؛ تحقیر، خوف اور جسمانی سزا نہیں۔


والدین بھی اپنی ذمہ داری سمجھیں


اس سارے معاملے میں والدین کو بھی بری الذمہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اگر بچے کو رات گئے تک موبائل، ٹی وی یا دوسری سرگرمیوں میں مصروف رکھا جائے، اس کے سونے جاگنے کا کوئی معمول نہ ہو اور پھر صبح اس سے بروقت اسکول پہنچنے کی توقع کی جائے تو یہ بھی بچے کے ساتھ ناانصافی ہے۔


والدین کو چاہیے کہ بچے کی عمر کے مطابق نیند کا مناسب انتظام کریں، رات کا معمول بہتر بنائیں اور صبح اسکول جانے کے لیے اسے مناسب وقت دیں۔ بچے کی ہر تاخیر کو معمول سمجھ لینا بھی درست نہیں۔ البتہ اصلاح کا طریقہ ایسا ہونا چاہیے جس میں بچے کی عزتِ نفس اور جذبات کا خیال رکھا جائے۔


والدین اور اسکول اگر ایک دوسرے پر الزام لگانے کے بجائے تعاون کریں تو بچے کے لیے زیادہ بہتر ماحول پیدا کیا جا سکتا ہے۔


ہمارے محلّے کے اسکول کب بدلیں گے؟


اصل سوال یہ نہیں کہ فن لینڈ یا جاپان کے اسکول اچھے کیوں ہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ ہم اپنے بچوں کے لیے اچھا تعلیمی ماحول کیوں نہیں بنا سکتے؟


ہمارے محلّے کے اسکولوں میں بھی ایسا نظام قائم ہو سکتا ہے جہاں پریپ کے بچوں کو ابتدا میں کتابوں کے بوجھ سے زیادہ زندگی کے بنیادی آداب سکھائے جائیں۔ انہیں کھیل کے ذریعے سیکھنے دیا جائے، کلاس میں داخل ہونے سے لے کر اپنی چیزیں سمیٹنے تک چھوٹی چھوٹی ذمہ داریاں سکھائی جائیں۔ استاد بچے کو غلطی پر رسوا کرنے کے بجائے درست طریقہ سمجھائے اور بچے کی عمر کے مطابق توقعات وابستہ کرے۔


اسکول کے دروازے پر وقت کی پابندی کا اصول ضرور ہونا چاہیے، مگر اس اصول کو نافذ کرنے کا طریقہ بھی بچوں کی عمر کے مطابق ہونا چاہیے۔ اگر تین سال کا بچہ دیر سے پہنچا ہے تو اس کی اصلاح کا مقصد اسے خوف زدہ کرنا نہیں، بلکہ اسے آہستہ آہستہ معمول کا عادی بنانا ہونا چاہیے۔


ہمیں ایسے اسکول چاہییں جہاں بچے کو یہ محسوس ہو کہ وہ سیکھنے آیا ہے، سزا پانے نہیں؛ جہاں استاد کا احترام خوف کی وجہ سے نہیں بلکہ اس کے کردار اور شفقت کی وجہ سے کیا جائے؛ جہاں نظم و ضبط کے ساتھ انسانیت بھی سکھائی جائے۔


یاد رکھیے، بچپن زندگی کی وہ بنیاد ہے جس پر شخصیت کی عمارت تعمیر ہوتی ہے۔ اگر اس بنیاد میں خوف، تحقیر اور بے جا سختی بھر دی جائے تو ہم ایک فرمانبردار دکھائی دینے والا بچہ تو شاید حاصل کر لیں، لیکن ضروری نہیں کہ ایک پراعتماد، ذمہ دار اور خوش مزاج انسان بھی بنا سکیں۔


بچوں کو وقت کا پابند ضرور بنائیے، مگر ان کے بچپن کو سزا کا پابند مت بنائیے۔


اور آخر میں ایک سوال ہمارے اسکولوں کی انتظامیہ، اساتذہ اور والدین سب کے لیے:


جب دنیا کے کئی تعلیمی نظام چھوٹے بچوں کو محبت، کھیل اور مثبت تربیت کے ذریعے سیکھنے کا موقع دے سکتے ہیں، تو ہمارے محلّے کے اسکول ایسا کیوں نہیں کر سکتے؟