نتیجہ آ گیا، مگر نظام کا امتحان ابھی باقی ،تحریر:انعم عباسی
نقطہ نظر
نتائج کا اعلان ہو چکا ہے۔ کہیں خوشی کے چراغ روشن ہیں، کہیں والدین اپنے بچوں کو مبارک باد دے رہے ہیں، کہیں طلبہ اپنی کامیابی پر مسکرا رہے ہیں اور کہیں ایسے گھر بھی ہیں جہاں خاموشی نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ کسی بچے کی آنکھوں میں مستقبل کے خواب ہیں تو کسی کے ذہن میں ایک ہی سوال گردش کر رہا ہے کہ آخر اس کے نمبر کم کیوں آئے؟
لیکن کراچی میں نویں جماعت کے حالیہ نتائج نے ایک ایسا سوال بھی کھڑا کر دیا ہے جس کا جواب صرف طلبہ سے نہیں، بلکہ پورے تعلیمی نظام سے مانگا جانا چاہیے۔ کیا ہماری تعلیم کا مقصد صرف نتیجہ جاری کرنا ہے یا واقعی بچوں کو علم، قابلیت اور مستقبل کے لیے تیار کرنا بھی ہماری ترجیحات میں شامل ہے؟
کراچی بورڈ کے سائنس گروپ کے نتائج کے مطابق کامیابی کی شرح 69.56 فیصد رہی، جبکہ گزشتہ برس یہی شرح 78.26 فیصد رپورٹ ہوئی تھی۔ جنرل گروپ میں بھی کامیابی کی شرح کم رہی۔ یہ اعدادوشمار بذاتِ خود اس بات کا ثبوت نہیں کہ نقل ہوئی یا امتحانی نظام میں کسی مخصوص نوعیت کی بے ضابطگی ہوئی، لیکن یہ ضرور تقاضا کرتے ہیں کہ تعلیمی معیار، تدریسی عمل، امتحانی طریقۂ کار اور طلبہ کی تیاری کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے۔
اصل سوال یہ ہے کہ اگر بچہ ناکام ہوا ہے تو کیا صرف بچہ ہی ذمہ دار ہے؟
ہمارے ہاں امتحانات کا موسم آتے ہی طلبہ پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ والدین کی توقعات، اساتذہ کی ذمہ داریاں، اسکولوں کی کارکردگی اور اچھے نمبروں کی دوڑ، سب مل کر بچے کے ذہن پر ایک بوجھ ڈال دیتے ہیں۔ پھر جب نتیجہ توقع کے مطابق نہیں آتا تو انگلی فوراً بچے کی طرف اٹھتی ہے۔ اسے محنت نہ کرنے والا، لاپروا یا پڑھائی سے بھاگنے والا قرار دے دیا جاتا ہے۔
لیکن کیا ہم نے کبھی یہ جاننے کی کوشش کی کہ بچے نے کس ماحول میں تعلیم حاصل کی؟ کیا اسے معیاری تدریس میسر تھی؟ کیا اس کے تصورات واضح کیے گئے؟ کیا اس کی تعلیمی مشکلات کو سمجھا گیا؟ اور کیا امتحان میں اس کی صلاحیت جانچنے کا طریقہ واقعی منصفانہ تھا؟
یہ سوالات اٹھانا بچے کو ہر غلطی سے بری الذمہ قرار دینا نہیں، بلکہ انصاف کے تقاضوں کو سمجھنا ہے۔
نقل: چند نمبروں کی کامیابی یا مستقبل کی ناکامی؟
امتحانات کے حوالے سے سب سے زیادہ تشویش ناک مسئلہ نقل کا رجحان ہے۔ نقل کی شکایات سامنے آئیں تو ان کی غیر جانب دارانہ تحقیقات ہونی چاہییں، کیونکہ الزام لگانا آسان ہے لیکن حقیقت تک پہنچنا ضروری ہے۔
اگر کسی امتحانی مرکز میں نقل کی اجازت دی جاتی ہے، اگر نگرانی کے فرائض درست طور پر ادا نہیں ہوتے، یا اگر کسی طالب علم کو ناجائز سہولت ملتی ہے، تو اس کا نقصان صرف ایک امتحان تک محدود نہیں رہتا۔ اس سے محنت کرنے والے طالب علم کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے اور میرٹ پر اعتماد کمزور پڑتا ہے۔
ذرا سوچیے، ایک بچہ راتوں کو جاگ کر تیاری کرتا ہے، اپنے پسندیدہ مشاغل چھوڑتا ہے، والدین کی امیدوں کو پورا کرنے کے لیے محنت کرتا ہے، جبکہ دوسرا بچہ ناجائز طریقے سے نمبر حاصل کر لے۔ اگر دونوں کو یکساں قابلیت کا حامل سمجھ لیا جائے تو محنت کی قدر کہاں باقی رہ جائے گی؟
نقل کرنے والا طالب علم شاید وقتی طور پر کامیابی حاصل کر لے، لیکن وہ علم حاصل کرنے کے اصل مقصد سے دور ہو جاتا ہے۔ اسے یہ یقین ہونے لگتا ہے کہ کامیابی محنت سے نہیں، کسی شارٹ کٹ سے بھی حاصل کی جا سکتی ہے۔ یہی سوچ آگے چل کر عملی زندگی میں بھی مسائل پیدا کر سکتی ہے۔
ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ آج کا طالب علم کل کا ڈاکٹر، انجینئر، استاد، محقق یا کسی ادارے کا ذمہ دار فرد بنے گا۔ اگر اس کی بنیاد علم کے بجائے دھوکے پر رکھی گئی تو اس کی قیمت صرف وہ خود نہیں، پورا معاشرہ ادا کر سکتا ہے۔
امتحانی بدنظمی کا بوجھ آخر کون اٹھائے گا؟
کراچی جیسے بڑے شہر میں لاکھوں طلبہ کے امتحانات کا انتظام معمولی ذمہ داری نہیں۔ امتحانی مراکز کا انتخاب، طلبہ کی تقسیم، مناسب نشستوں کا انتظام، نگرانی، پرچوں کی حفاظت، شکایات کا ازالہ اور نتائج کی شفاف تیاری، یہ سب ایک مربوط نظام کا تقاضا کرتے ہیں۔
اگر امتحانی مراکز کی تبدیلیوں، نگرانی یا انتظامی معاملات پر سوالات اٹھتے ہیں تو متعلقہ حکام کی ذمہ داری ہے کہ وہ حقائق سامنے لائیں۔ جہاں کوتاہی ثابت ہو، وہاں قواعد کے مطابق کارروائی کی جائے، اور جہاں انتظامات درست ہوں، وہاں ریکارڈ اور شواہد کے ذریعے اعتماد بحال کیا جائے۔
صرف انکوائری کا اعلان کافی نہیں۔ اس کے نتائج، سفارشات اور ان پر ہونے والی کارروائی بھی واضح ہونی چاہیے۔ امتحانی نظام کی شفافیت کسی ایک افسر یا ادارے کی ساکھ کا معاملہ نہیں؛ یہ ہزاروں خاندانوں کے اعتماد کا سوال ہے۔
حکام کو یہ بھی یقینی بنانا چاہیے کہ کسی طالب علم کے نمبروں میں تبدیلی کی صورت میں اس کا باقاعدہ ریکارڈ موجود ہو، نتائج کی جانچ پڑتال کا مؤثر طریقہ ہو اور کسی غلطی کی نشاندہی ہونے پر طالب علم کو انصاف حاصل کرنے کا موقع ملے۔
والدین اور تعلیمی اداروں کو بھی اپنا کردار دیکھنا ہوگا
اس تمام صورتِ حال میں والدین اور اسکولوں کی ذمہ داری بھی کم نہیں۔ بچوں سے اچھے نمبروں کی توقع رکھنا غلط نہیں، لیکن نمبروں کو بچے کی ذہانت، کردار اور مستقبل کا واحد پیمانہ بنا دینا مناسب نہیں۔
ہر بچے کی سیکھنے کی رفتار مختلف ہوتی ہے۔ کسی کو ایک مضمون سمجھنے میں زیادہ وقت لگتا ہے، کسی کو اضافی رہنمائی درکار ہوتی ہے اور کوئی اپنی صلاحیت کسی دوسرے شعبے میں بہتر انداز سے ظاہر کرتا ہے۔ ناکامی کی صورت میں بچے کو طعنوں کا نشانہ بنانے کے بجائے اس کی کمزوریوں کی نشاندہی اور بہتری کے لیے عملی منصوبہ بنانا چاہیے۔
اسی طرح اسکولوں کو بھی اپنی کارکردگی کا جائزہ لینا ہوگا۔ اگر بڑی تعداد میں بچے کسی مضمون میں کم نمبر حاصل کرتے ہیں تو صرف ان بچوں کو قصوروار ٹھہرانا کافی نہیں۔ تدریسی معیار، نصاب کی تکمیل، امتحانی تیاری اور طلبہ کی رہنمائی کا جائزہ بھی ضروری ہے۔
اب ضرورت نعروں کی نہیں، عملی اصلاح کی ہے
کراچی کے تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کے لیے چند بنیادی اقدامات ناگزیر ہیں۔ امتحانی مراکز کی نگرانی مؤثر بنائی جائے، نقل کے خلاف قواعد پر یکساں عمل ہو، امتحانی عملے کی ذمہ داریاں واضح ہوں، نتائج کی تیاری اور جانچ پڑتال کا نظام شفاف ہو اور طلبہ و والدین کی شکایات سننے کے لیے قابلِ اعتماد طریقۂ کار موجود ہو۔
اس کے ساتھ ساتھ تعلیمی اداروں میں رٹّے کے بجائے سمجھ کر پڑھنے، سوال کرنے اور اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ بچوں کو یہ باور کرانا ضروری ہے کہ امتحان ان کی تعلیمی پیش رفت جانچنے کا ایک ذریعہ ہے، ان کی پوری شخصیت کا فیصلہ نہیں۔
آخر میں بات پھر وہی ہے کہ نویں جماعت کا نتیجہ صرف نمبروں کی ایک فہرست نہیں، بلکہ ہمارے تعلیمی نظام کے لیے غور و فکر کا موقع بھی ہے۔ کامیاب ہونے والے بچوں کو مبارک باد ملنی چاہیے اور ناکام یا کم نمبر حاصل کرنے والے بچوں کو رہنمائی اور حوصلہ افزائی۔
لیکن اس کے ساتھ یہ سوال بھی اپنی جگہ قائم رہنا چاہیے کہ کیا ہم نے ہر بچے کو منصفانہ موقع فراہم کیا؟ کیا امتحانی عمل شفاف تھا؟ کیا نقل کی شکایات کی تحقیقات ہوئیں؟ اور کیا انتظامی کوتاہیوں کی صورت میں ذمہ داری کا تعین کیا گیا؟
ان سوالات کے جواب تلاش کیے بغیر محض نتائج کا اعلان کر دینا کافی نہیں ہوگا۔
یاد رکھیے! کسی بچے کو کم نمبر ملنا اس کی تعلیمی کمزوری کی نشاندہی ہو سکتا ہے، لیکن اگر نظام میں خامی ہو تو اس کی اصلاح سے آنکھیں چرانا اجتماعی ناکامی ہے۔
ہمیں ایسے نتائج نہیں چاہییں جن پر صرف کامیابی کے جشن منائے جائیں؛ ہمیں ایسا تعلیمی نظام چاہیے جس میں کامیابی محنت کا ثمر ہو، ناکامی اصلاح کا راستہ دکھائے، نقل کے لیے کوئی گنجائش نہ ہو اور ہر بچے کو یقین ہو کہ اس کی محنت کے ساتھ انصاف کیا جائے گا۔
کیونکہ قوموں کا مستقبل صرف امتحانی نتائج سے نہیں، بلکہ اس انصاف، علم اور کردار سے بنتا ہے جو ان نتائج کے پیچھے موجود ہوتا ہے۔..
مزید پڑھیں




