پیر، 19 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

نواز شریف اختلافات سے بالاتر ہو کر قومی خدمات کا اعتراف،تجزیہ:شہزاد قریشی

نقطہ نظر

نواز شریف اور ان کے رفقائے کار پاکستان کی سیاست کا ایک اہم باب

shehzad qureshi098

اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ پاکستان اس وقت مہنگائی، معاشی دباؤ اور متعدد داخلی و خارجی چیلنجز سے دوچار ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی، ایران اور امریکہ کے درمیان معاملات اور آبنائے ہرمز سے وابستہ خدشات نے عالمی معیشت کو غیر یقینی صورتِ حال سے دوچار کر رکھا ہے، جس کے اثرات پاکستان سمیت دنیا کے متعدد ممالک پر مرتب ہو رہے ہیں۔ تاہم، ان حالات میں پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر جو سفارتی اہمیت، پذیرائی اور توجہ حاصل ہو رہی ہے، اس میں موجودہ حکومت کی کوششوں اور اس کی سیاسی قیادت کے کردار کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس سیاسی منظرنامے میں ایک نام خصوصی اہمیت رکھتا ہے، اور وہ ہے میاں محمد نواز شریف۔ نواز شریف کی سیاسی زندگی کا جائزہ لیا جائے تو ان کے ادوارِ حکومت میں پاکستان کے معاشی استحکام، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، توانائی کے منصوبوں اور خارجہ تعلقات کے حوالے سے متعدد اہم اقدامات سامنے آتے ہیں۔ ان کی سیاست سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، ان کے فیصلوں پر تنقید بھی کی جا سکتی ہے، لیکن قومی ترقی کے لیے ان کی خدمات کا غیر جانب دارانہ جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔ ان کے سابقہ ادوار میں ایک مرحلہ ایسا بھی آیا جب پاکستان کو معاشی خودمختاری کی جانب لے جانے اور آئی ایم ایف پر انحصار کم کرنے کے عزائم ظاہر کیے گئے۔ اس وقت کے وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار بھی اس معاشی حکمتِ عملی اور اس دور کے حالات کے اہم کرداروں میں شامل تھے۔ تاہم، آئی ایم ایف سے مکمل نجات کے قریب پہنچ جانے کے دعوے کو تاریخی معاشی اعدادوشمار اور قرضوں کی اصل صورتِ حال کی روشنی میں پرکھنا چاہیے۔ پاکستان کی تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ سیاسی عدم استحکام نے بارہا معاشی پالیسیوں کے تسلسل کو متاثر کیا۔ نواز شریف کی اہمیت صرف ان کی ذات تک محدود نہیں رہی، بلکہ ان کے ساتھ کام کرنے والے تجربہ کار اور باصلاحیت سیاسی رفقا بھی ان کے سیاسی سفر کا حصہ رہے ہیں۔ ان میں سینیٹر پرویز رشید ایک نمایاں نام ہیں، جنہوں نے طویل عرصے تک مسلم لیگ ن کی سیاسی فکر، ابلاغ اور جمہوری مؤقف کی ترجمانی کی۔ اسی طرح ان کے مختلف ادوار میں کئی ایسے افراد نے بھی ذمہ داریاں نبھائیں جن کی انتظامی، معاشی اور سیاسی صلاحیتوں نے حکومتی معاملات میں اپنا کردار ادا کیا۔ یہاں ایک اہم نکتہ سمجھنے کی ضرورت ہے: قومیں صرف حکومتیں بدلنے سے ترقی نہیں کرتیں، بلکہ اداروں کے استحکام، پالیسیوں کے تسلسل، اہل قیادت اور قومی مفادات کو ذاتی و جماعتی اختلافات پر ترجیح دینے سے آگے بڑھتی ہیں۔ آج اگر پاکستان کو عالمی سطح پر سفارتی مواقع میسر آ رہے ہیں تو ان سے فائدہ اٹھانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ لیکن سفارتی پذیرائی اسی وقت حقیقی کامیابی میں تبدیل ہو گی جب اس کے ثمرات عام آدمی تک پہنچیں گے، مہنگائی میں کمی آئے گی، روزگار کے مواقع بڑھیں گے اور ملکی معیشت قرضوں کے بوجھ سے نکل کر پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن ہو گی۔


نواز شریف سے اختلاف رکھنے والوں کو بھی ان کے سیاسی کردار کا جائزہ تعصب کے بجائے حقائق کی بنیاد پر لینا چاہیے۔ اسی طرح ان کے حامیوں کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ ان کی کامیابیوں کے ساتھ ساتھ ان کی حکومتوں کی ناکامیوں اور متنازع فیصلوں کا اعتراف کریں۔ یہی سیاسی بلوغت ہے اور یہی جمہوری معاشروں کا حسن ہے۔ تاریخ کا فیصلہ محض نعروں، مخالفت یا عقیدت کی بنیاد پر نہیں ہوتا؛ تاریخ ان رہنماؤں کو ان کے فیصلوں، ان کی خدمات اور ان کے دور کے قومی نتائج کی بنیاد پر پرکھتی ہے۔ نواز شریف کی سیاسی میراث پر بحث جاری رہ سکتی ہے، لیکن پاکستان کو آگے لے جانے کے لیے ضروری ہے کہ شخصیات کی مخالفت سے بلند ہو کر قومی مفاد، معاشی خودمختاری، سفارتی وقار اور عوامی خوشحالی کو اپنی سیاست کا اصل مرکز بنایا جائے۔ یہی پاکستان کی ضرورت ہے اور یہی کسی بھی حقیقی قیادت کا امتحان ہے۔