نمازِ جمعہ کی اہمیت، فضائل اور مسنون اعمال،تحریر: ام ہانی بنت آصف
نقطہ نظرنمازِ جمعہ دینِ اسلام کا ایک عظیم الشان شعار ہے جو بیک وقت گہری انفرادی عبادت اور بے مثال معاشرتی اتحاد کا مظہر ہے۔ اسلام میں اس دن اور اس کی نماز کو جو مرکزیت حاصل ہے، وہ کسی دوسرے دن کو حاصل نہیں۔ یہ دن مسلمانوں کے لیے ہفتہ وار عید کی حیثیت رکھتا ہے، جس میں روحانی تربیت، جسمانی پاکیزگی اور اجتماعی ہم آہنگی کا خوبصورت امتزاج پایا جاتا ہے۔
1۔ قرآنی حکم
قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے سورۃ الجمعہ (آیت 9) میں ارشاد فرمایا:
"اے ایمان والو! جب جمعہ کے دن نماز کے لیے اذان دی جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرو اور خرید و فروخت چھوڑ دو۔"
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ جمعہ کی اذان ہوتے ہی مسلمانوں پر تمام تجارتی اور دنیاوی معاملات کو معطل کرنا فرض ہو جاتا ہے۔ اسلام کاروبار سے منع نہیں کرتا، بلکہ نظم و ضبط سکھاتا ہے۔ چنانچہ نماز کے فوراً بعد زمین میں پھیل کر رزقِ حلال تلاش کرنے کی اجازت دی گئی ہے، جس سے کاروبار میں برکت ہوتی ہے۔
2۔ احادیث کی روشنی میں فضائل
* دنوں کا سردار: نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جمعہ کا دن تمام دنوں کا سردار ہے۔ اسی مبارک دن حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق ہوئی اور اسی دن قیامت قائم ہوگی۔
* گناہوں کی معافی: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص اچھی طرح غسل یا وضو کرے، جمعہ کے لیے آئے اور خاموشی سے خطبہ سنے، تو اس کے اس جمعہ سے لے کر اگلے جمعہ تک (کل 10 دن) کے صغیرہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔
* مساکین کا حج: غریب مسلمانوں کے لیے، جو حج کی استطاعت نہیں رکھتے، نمازِ جمعہ کی مخلصانہ ادائیگی کو حج کے برابر ثواب کا باعث قرار دیا گیا ہے۔
* فرشتوں کی حاضری: جمعہ کے دن مسجد کے دروازوں پر فرشتے آنے والوں کے نام لکھتے ہیں۔ جو پہلے آتا ہے اسے زیادہ ثواب ملتا ہے۔ جیسے ہی امام خطبے کے لیے بیٹھتا ہے، فرشتے رجسٹر بند کر کے خطبہ سننے میں مشغول ہو جاتے ہیں۔
* قبولیت کی گھڑی: اس دن ایک ایسی مختصر گھڑی آتی ہے جس میں بندہ جو بھی جائز دعا مانگے، اللہ تعالیٰ اسے لازمی قبول فرماتا ہے۔ اکثر علما کے نزدیک یہ عصر سے مغرب کے درمیان کا وقت ہے۔
3۔ معاشرتی و اخلاقی اہمیت
* اتحاد اور ملاقات: محلے اور شہر کے لوگ جو مصروفیات کی وجہ سے نہیں مل پاتے، وہ ایک جگہ جمع ہوتے ہیں۔ اس سے باہمی محبت بڑھتی ہے اور ایک دوسرے کے احوال سے آگاہی ملتی ہے۔
* تربیتی خطبہ: خطبہ جمعہ کے ذریعے مسلمانوں کو دینی تعلیمات، اخلاقیات اور وقت کے اہم مسائل پر رہنمائی فراہم کی جاتی ہے، جو معاشرتی اصلاح کا بڑا ذریعہ ہے۔
4۔ مستحب اعمال اور ان کے فوائد
* غسل، لباس اور خوشبو: اس سے جسمانی پاکیزگی حاصل ہوتی ہے، تھکن دور ہوتی ہے اور دوسرے نمازی آپ کے پسینے کی بو سے محفوظ رہتے ہیں۔
* مسواک اور ناخن کاٹنا: ناخنوں کی صفائی جراثیم سے بچاتی ہے اور مسواک سے منہ کی بدبو ختم ہو کر نماز میں خشوع حاصل ہوتا ہے۔
* سورہ کہف کی تلاوت: یہ عمل دونوں جمعوں کے درمیان ایمان کا نور روشن رکھتا ہے اور فتنۂ دجال سے حفاظت کا قلعہ ہے۔
* کثرتِ درود شریف: جمعہ کے دن پڑھا جانے والا درود حضور ﷺ پر پیش ہوتا ہے، جو قیامت کے دن آپ ﷺ کے قرب اور دعاؤں کی قبولیت کا ذریعہ ہے۔
* مسجد جلدی جانا اور خاموشی: اول وقت پیدل مسجد جانے سے ہر قدم پر نفلی عبادت کا ثواب ملتا ہے، اور خطبہ خاموشی سے سننے پر ہی گناہوں کی مغفرت کا وعدہ ہے۔
حاصلِ کلام:
نمازِ جمعہ اور اس کی سنتیں مومن کی باطنی صفائی اور معاشرتی مضبوطی کی ضامن ہیں۔ جو قومیں اس دن کی قدر کرتی ہیں، اللہ انہیں دنیا و آخرت میں سرخرو فرماتا ہے۔
مزید پڑھیں





