عالمی سطح پر پاکستان کا بڑھتا ہوا سفارتی کردار،تجزیہ:شہزاد قریشی
نقطہ نظر
فیلڈ مارشل عاصم منیر، وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور ان کی ٹیم کی سفارت کاری؛ عالمی سطح پر پاکستان کے وقار میں اضافہ
وزارتِ خارجہ کی مؤثر سفارت کاری، عسکری قیادت کا کردار؛ پاکستان عالمی منظرنامے پر نئی شناخت کی جانب گامزن
اسحاق ڈار اور وزارتِ خارجہ کی ٹیم کی سفارتی کوششیں؛ پاکستان عالمی طاقتوں کے ساتھ تعلقات کے نئے دور میں داخل
تجزیہ شہزاد قریشی
پاکستان کی حالیہ سفارتی پیش رفت کا جائزہ لیا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ ملک عالمی سطح پر اپنے تشخص کو بہتر بنانے اور بین الاقوامی معاملات میں مؤثر کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وزارتِ خارجہ کی ٹیم کی سفارتی سرگرمیاں اس حوالے سے خصوصی اہمیت رکھتی ہیں۔ ایک وقت تھا جب پاکستان کو عالمی سطح پر دہشت گردی، انتہا پسندی اور علاقائی عدم استحکام کے حوالے سے سخت سوالات کا سامنا تھا۔بھارت بھی مختلف عالمی فورمز پر پاکستان کے خلاف الزامات پیش کرتا رہا، جنہیں پاکستان مسترد کرتا آیا ہے۔ ان حالات میں پاکستان کے لیے ضروری تھا کہ وہ محض اپنے دفاع میں مؤقف پیش کرنے کے بجائے عالمی برادری کے ساتھ مؤثر سفارتی روابط قائم کرے اور اپنے قومی مفادات کو بہتر انداز میں اجاگر کرے۔ امریکہ کے ساتھ اعلیٰ سطح کے روابط، یورپی یونین کے ساتھ اسٹریٹجک مذاکرات اور مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششیں اس بدلتے ہوئے کردار کی اہم مثالیں ہیں۔ بالخصوص امریکہ اور ایران کے درمیان رابطوں اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں پاکستان کی سرگرمیوں نے اسے بین الاقوامی سفارت کاری میں ایک اہم موقع فراہم کیا ہے۔ اس پیش رفت میں عسکری قیادت اور سیاسی حکومت کے درمیان رابطہ، وزارتِ خارجہ کی سفارتی کوششیں اور عالمی طاقتوں کے ساتھ متوازن تعلقات کی اہمیت نمایاں ہے۔ تاہم کسی ملک کی اصل کامیابی صرف عالمی رہنماؤں سے ملاقاتوں یا سفارتی پذیرائی سے نہیں ناپی جاتی، بلکہ اس سے پیدا ہونے والے عملی نتائج بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ پاکستان کو اب اس سفارتی گنجائش کو معاشی استحکام، غیر ملکی سرمایہ کاری، برآمدات میں اضافے، دہشت گردی کے خاتمے اور علاقائی امن کے لیے استعمال کرنا ہوگا۔ امریکہ، چین، یورپی یونین اور خلیجی ممالک کے ساتھ متوازن تعلقات پاکستان کے لیے نئے امکانات پیدا کر سکتے ہیں، بشرطیکہ داخلی سیاسی استحکام اور قانون کی حکمرانی کو بھی مضبوط بنایا جائے۔پاکستان کی حقیقی کامیابی یہ ہوگی کہ دنیا اسے صرف ایک اہم عسکری قوت یا سفارتی رابطہ کار کے طور پر نہیں، بلکہ ایک پُرامن، مستحکم، معاشی طور پر مضبوط اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر پہچانے۔ عالمی سطح پر حاصل ہونے والی پذیرائی اسی وقت دیرپا قومی کامیابی بنے گی جب اس کے ثمرات پاکستان کی معیشت اور عام شہری کی زندگی میں بھی نمایاں ہوں گے۔
مزید پڑھیں





