جمعرات، 15 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

پی ٹی آئی کو صرف پی ٹی آئی ہی ختم کر سکتی اور وہ قریباً کامیاب ہو چکی ہے ،تحریر: نعیم خان

نقطہ نظر
naeem khan blog

سیاسی جماعتیں ہمیشہ مخالفین کی سازشوں سے زوال پذیر نہیں ہوتیں بعض اوقات ان کی قیادت کے فیصلے ، کارکنوں سے بے اعتنائی اور اقتدار کی مصلحتیں ہی ان کی بنیادیں کھوکھلی کر دیتی ہیں۔ پاکستان تحریکِ انصاف کی کہانی میں مجھے یہی المیہ دکھائی دیتا ہے۔

میں یہ بات کسی سیاسی مخالف کے طور پر نہیں بلکہ ایک ایسے سابق کارکن کی حیثیت سے لکھ رہا ہوں جس نے اس جماعت کی جدوجہد میں حصہ لیا دھرنے دیے ، جلسوں میں وقت صرف کیا اور اسلام آباد کے 120 روزہ دھرنے سمیت اس تحریک کے نشیب و فراز قریب سے دیکھے۔ میں لاہور کی مقامی سیاسی قیادت کا حصہ رہا ہوں اس لیے میرے لیے یہ محض سیاسی تجزیہ نہیں ، ایک ذاتی تجربہ اور ادھورا رہ جانے والا خواب بھی ہے۔

2017ء کی بات ہے۔ عبدالعلیم خان کی قیادت میں ہمیں بنی گالا میں عمران خان سے ملاقات کے لیے بلایا گیا۔ نشست میں جہانگیر خان ترین ، عبدالعلیم خان ، شاہ محمود قریشی ، شعیب صدیقی ، جمشید اقبال چیمہ ، شبیر گجر ، مہر واجد عظیم ، جمشید بٹ اور لاہور کی مقامی قیادت کے لگ بھگ چالیس افراد موجود تھے۔

مجھے وہ منظر آج بھی یوں یاد ہے جیسے کل کی بات ہو۔ ہم عمران خان سے چند نشستوں کے فاصلے پر بیٹھے تھے۔ گفتگو جاری تھی کہ اچانک شبیر گجر اپنی جگہ سے اٹھے۔ ان کے لہجے میں احترام تھا ، انداز میں اپنائیت اور بات میں کارکن کا وہ اعتماد جو اپنے قائد سے کچھ عرض کرنے کا حق سمجھتا ہے۔

انہوں نے کہا، خان صاحب ! میں آپ کو ایک مشورہ دینا چاہتا ہوں۔

ابھی ان کے الفاظ فضا میں گونج ہی رہے تھے کہ عمران خان نے فوراً جواب دیا ، جو مجھے مشورہ دینا چاہتا ہے ، پہلے دس ہزار روپے دے پھر مشورہ دے۔

ایک لمحے کو جیسے محفل پر سکوت اتر آیا۔ میں نے اپنے کانوں سے یہ الفاظ سنے میرے لیے یہ محض ایک جملہ نہیں تھا بلکہ قائد اور کارکن کے درمیان فاصلے کا ایسا احساس تھا جس نے دل میں کئی سوال جگا دیے۔ شبیر گجر زمینی سیاست کی بات کرنا چاہتے تھے ، ان ووٹروں کی ، ان مسائل کی اور ان حقیقتوں کی جن سے کارکن روزانہ روبرو ہوتا ہے۔ مگر اس لمحے مجھے یوں محسوس ہوا جیسے کارکن کی آواز سے پہلے اس کی جیب دیکھی جا رہی ہو۔

یہ جواب میرے لیے کسی دھچکے سے کم نہ تھا۔ ایک مقامی رہنما اپنے علاقے کے مسائل، ووٹروں کی ترجیحات اور انتخابی حکمتِ عملی پر بات کرنا چاہتا تھا وہ زمینی حقائق سے قیادت کو آگاہ کرنے آیا تھا مگر مشورے کی دہلیز پر رقم کا سوال آ کھڑا ہوا۔ میں نے حاضرین کے چہروں کی طرف دیکھا ! وہاں لاہور کی مقامی قیادت کے متعدد رہنما موجود تھے سب نے یہ مکالمہ اپنے کانوں سے سنا مگر اس کے بعد نہ کسی نے مشورہ دینے کی ہمت کی ، نہ کسی نے کوئی سوال اٹھایا۔ جیسے ایک جملے نے پوری محفل کی آواز سلب کرلی ہو۔ میں بھی خاموش بیٹھا رہا لیکن میرے اندر سوالوں کا شور بڑھتا چلا گیا۔ مجھے یقین ہے کہ اس نشست میں موجود دوسرے رہنما بھی اپنے اپنے مشاہدے کی روشنی میں اس واقعے کی تصدیق یا وضاحت کر سکتے ہیں۔

اسی لمحے میرے ذہن میں ایک بنیادی سوال نے جنم لیا: اگر قائد اپنے کارکن کی بات سننے پر آمادہ نہ ہو تو وہ زمینی حقائق سے آگاہ کیسے ہوگا ؟ سیاست میں کارکن محض نعرہ لگانے والا ہجوم نہیں ہوتا وہ قیادت کی آنکھ بھی ہوتا ہے اور کان بھی۔ وہ گلیوں ، محلوں اور ووٹروں کے دروازوں سے اٹھنے والی آواز اپنے قائد تک پہنچاتا ہے۔ جب یہی آواز خاموش ہونے لگے تو قیادت کے گرد لوگ تو باقی رہ جاتے ہیں مگر حقیقت رفتہ رفتہ اس سے دور ہونے لگتی ہے۔

بنی گالا ہی کا ایک اور منظر میری یادداشت میں آج بھی پوری جزئیات کے ساتھ محفوظ ہے۔ عمران خان کی رہائش گاہ تک پہنچنے کے لیے دو چیک پوسٹوں سے گزرنا پڑتا تھا۔ پہلی جگہ نام ، شناخت اور ملاقات کی اجازت کی جانچ ہوتی پھر مرکزی دروازے پر ایک اور مرحلہ درپیش ہوتا۔ سکیورٹی کے یہ انتظامات اپنی جگہ قابلِ فہم تھے مگر اسی سخت پہرے کے درمیان ایک ایسا منظر دیکھنے کو ملا جس نے میرے ذہن میں کئی سوالات چھوڑ دیے۔

مجھے آج بھی وہ شخص یاد ہے جو ہلکے آسمانی رنگ کی شلوار قمیض پہنے ہوئے تھا۔ اس کے ساتھ نو یا دس برس کا ایک بچہ بھی تھا جس کی معصوم موجودگی اس منظر کو میرے لیے اور بھی یادگار بنا گئی۔ اس شخص نے ڈونیشن دینے کی بات کی تو اسے اندر جانے کی اجازت مل گئی۔ میں نے اسے آگے بڑھتے دیکھا تو بے اختیار خیال آیا کہ شاید وہ اپنے بچے کی خوشی کے لیے اسے عمران خان سے ملوانا چاہتا تھا ، ممکن ہے اس نے چندہ دینے کے ذریعے اپنے بیٹے کی اس خواہش کو پورا کرنے کا راستہ نکالا ہو ، یہ اس کی نیت کے بارے میں میرا محض اندازہ تھا مگر اس لمحے کا منظر میری آنکھوں میں ثبت ہوگیا۔

عمران خان بھی آج تک مجھے اسی طرح یاد ہیں سیاہ پاجامے کے ساتھ آسمانی رنگ کی دھاریوں والی شرٹ پہنے ، جاگنگ سوٹ میں ملبوس۔ کبھی کبھی یادداشت برسوں پرانے منظر کو بھی یوں محفوظ رکھتی ہے جیسے وقت نے اس پر گرد پڑنے ہی نہ دی ہو۔ میں نے اس شخص کو اندر جاتے دیکھا اور میرے ذہن میں اس کارکن کا خیال ابھرا جو ملاقات کی امید لیے دروازوں اور اجازت کے مراحل سے گزرتا ، شاید کئی بار مایوس لوٹ جاتا تھا۔

میں یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ کسی ایک واقعے سے کسی پورے نظام کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی چندے کے بدلے ملاقات کو میں اپنی آنکھوں کے سامنے کسی باقاعدہ طے شدہ اصول کے طور پر ثابت کر سکتا ہوں۔ مگر میرے مشاہدے نے میرے اندر یہ تاثر ضرور گہرا کیا کہ مالی معاونت رکھنے والوں کے لیے قیادت تک پہنچنے کا راستہ شاید نسبتاً آسان تھا جب کہ عام کارکن کے لیے وہی دروازہ دشوار دکھائی دیتا تھا۔

تب میرے دل میں ایک سوال نے جنم لیا: کیا برسوں جماعت کے لیے اپنا وقت ، توانائی اور خواب قربان کرنے والے کارکن کی قدر بھی کسی مالی عطیے کے برابر تھی ؟ سوال سکیورٹی کا نہیں تھا سوال اس احساس کا تھا جو کارکن اپنے قائد کے دروازے پر کھڑے ہوکر اپنے ساتھ لے کر واپس جاتا ہے۔ کیونکہ کارکن جب دروازے سے لوٹتا ہے تو صرف ملاقات نہیں کھوتا ، کبھی کبھی اپنے قائد سے قربت کا وہ یقین بھی کھو بیٹھتا ہے جس کے سہارے وہ برسوں سفر کرتا آیا ہوتا ہے۔

لاہور کے فلیٹیز ہوٹل کا وہ منظر بھی میرے دل پر نقش ہے۔ عبدالعلیم خان کی جانب سے ایک دعوت کا اہتمام تھا، جس میں مقامی قیادت کے ساتھ عمران خان بھی شریک تھے۔ محفل میں سیاسی گفتگو ، میل ملاپ اور ملاقاتوں کا سلسلہ جاری تھا۔ میرے لیے یہ محض ایک رسمی تقریب نہیں تھی سامنے وہ شخص موجود تھا جس کے لیے میں نے سڑکوں پر لاک ڈاؤن کیا ، احتجاجوں میں شرکت کی اور جس کے خواب کو کبھی اپنا خواب سمجھا تھا۔ سو ، جب قریب سے ملاقات کا موقع ملا تو دل میں ایک فطری سی خوشی جاگی۔

میں آگے بڑھا ، گرم جوشی سے ہاتھ ملایا اور لاہوریانہ بے تکلفی میں اپنائیت کے اظہار کے طور پر ان کی کمر پر ہاتھ رکھ دیا۔ مگر اگلے ہی لمحے وہ پیچھے ہٹے اور بار بار کہنے لگے: ہاتھ ، ہاتھ ، ہاتھ !

میں ٹھٹھک کر رہ گیا۔ جس بے تکلفی کو میں نے محبت کا اظہار سمجھا تھا ، وہ شاید ان کے لیے ذاتی حدود میں مداخلت تھی۔ میں ان کے ردِعمل پر حیران ہوا پھر فوراً خود کو سنبھالا اور خوفزدگی کے عالم میں تقریباً دس فٹ پیچھے ہٹ گیا۔ مجھے احساس تھا کہ ہر انسان کو اپنی ذاتی حدود کے تعین کا حق حاصل ہے۔ میرا دکھ اس حق سے انکاری نہیں تھا۔ دکھ تو اس فاصلے کا تھا جو اس مختصر سے لمحے میں میرے اور میرے تصور کے قائد کے درمیان محسوس ہوا۔

میں وہاں سے ہٹ تو گیا مگر میرے اندر جیسے کوئی خاموشی سے بیٹھ گیا۔ شاید انہیں یاد بھی نہ رہا ہو کہ ابھی کیا ہوا تھا مگر میرے لیے وہ چند لفظ دیر تک گونجتے رہے۔ ایک طرف وہ قائد تھا جس کے لیے میں نے قربت اور اپنائیت کا رشتہ محسوس کیا تھا ، دوسری طرف میں تھا ایک عام نظریاتی کارکن ، جو چند لمحوں کی ملاقات میں بھی اپنے پن کی جھلک ڈھونڈ رہا تھا۔ میں نے ہاتھ تو پیچھے کر لیا مگر دل میں اٹھنے والی کسک کو کہاں رکھتا ؟

بنی گالا کا واقعہ پہلے ہی میرے ذہن میں ایک سوال چھوڑ چکا تھا ، فلیٹیز ہوٹل کے اس مختصر سے لمحے نے اس سوال کو اور گہرا کر دیا۔ کیا کارکن اور قائد کا رشتہ صرف سیاسی وفاداری تک محدود رہ گیا تھا ؟ کیا برسوں کی جدوجہد کے بعد بھی کارکن کی قربت ، قائد کے لیے محض ایک اجنبی کی بے تکلفی تھی ؟

میں عمران خان کے ذاتی مزاج یا حدود پر حکم لگانے نہیں بیٹھا۔ میں صرف اپنے اس لمحے کی بات کر رہا ہوں جب ایک معمولی سی ملاقات میرے لیے غیر معمولی یاد بن گئی۔ شاید میرے چہرے پر اس وقت کچھ دکھائی نہ دیا ہو ، شاید میں چند قدم پیچھے ہٹ کر دوبارہ محفل کا حصہ بھی بن گیا ، مگر میرے اندر جو کارکن اپنے قائد کو اپنا سمجھتا تھا وہ اس روز پہلے جیسا نہ رہا۔ بعض اوقات دل ایک ہی لمحے میں نہیں ٹوٹتا ، پہلے ایک واقعہ اس میں دراڑ ڈالتا ہے پھر دوسرا اس دراڑ کو نمایاں کر دیتا ہے۔ اور آدمی بہت دیر بعد سمجھ پاتا ہے کہ اس کے اندر کچھ خاموشی سے ٹوٹ چکا تھا۔

عبدالعلیم خان کا ذکر کیے بغیر میری یہ داستان ادھوری رہے گی۔ میرے مشاہدے میں وہ ان لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے تحریکِ انصاف کے لیے اپنا وقت ، وسائل اور سیاسی توانائیاں صرف کیں۔ میں نے کارکنوں کو سڑکوں پر اور رہنماؤں کو جلسوں کے انتظامات میں سرگرم دیکھا مگر لاہور میں عمران خان کی سیاسی جدوجہد اور جماعتی تنظیم کے لیے عبدالعلیم خان کا کردار مجھے سب سے نمایاں دکھائی دیا۔ انہوں نے اپنی مالی استطاعت سے بڑھ کر تعاون کیا اور اس جدوجہد کو محض ایک فرد کی حمایت نہیں بلکہ سیاسی تبدیلی کے خواب کی تعبیر سمجھ کر آگے بڑھایا۔

عبدالعلیم خان کی قربانیوں کا ذکر ہو اور ان کے ساتھ ہونے والی زیادتی کا باب ادھورا چھوڑ دیا جائے یہ میرے لیے ممکن نہیں۔ انہوں نے تحریکِ انصاف کے لیے اپنے وسائل ، وقت اور سیاسی توانائیاں صرف کیں ، لاہور میں عمران خان کی کامیابی کے لیے سرگرم رہے اور جماعت کے مشکل دنوں میں اپنا حصہ ڈالا۔ مگر جب پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ کا مرحلہ آیا تو انہیں نظرانداز کرکے عثمان بزدار کو ’’وسیم اکرم پلس‘‘ قرار دیا گیا۔ میرے نزدیک یہیں سے ایک ایسی سیاسی رفاقت کا المیہ نمایاں ہوا جس میں قربانیاں دینے والا ساتھی رفتہ رفتہ خود کو بے دخل محسوس کرنے لگا۔

پھر فروری 2019ء میں نیب نے عبدالعلیم خان کو گرفتار کرلیا۔ وہ تقریباً سو روز قید میں رہے اور مئی میں لاہور ہائی کورٹ سے ضمانت پر رہائی ملی۔ عبدالعلیم خان کا مؤقف تھا کہ ان کے خلاف الزامات بے بنیاد ہیں اور ان کے اثاثوں کی تفصیلات پہلے ہی ظاہر کی جا چکی ہیں۔ میرے نزدیک اس سارے واقعے کا سب سے دل خراش پہلو یہ ہے کہ جس شخص نے جماعت کے لیے اتنا کچھ کیا اسے وزارتِ اعلیٰ کے فیصلے کے بعد قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کرنا پڑیں۔ میں اسے محض سیاسی اتفاق نہیں بلکہ اپنے حق کی بات کرنے والے ایک سابق ساتھی کے لیے سخت تنبیہ کے طور پر دیکھتا ہوں گویا اقتدار کے ایوانوں میں اس کے لیے جگہ نہ تھی اور آواز اٹھانے کی قیمت تنہائی اور قید بن گئی۔

سوچیے ! اس شخص کے دل پر کیا گزری ہوگی جس نے ایک سیاسی خواب کی تعبیر کے لیے اپنا سرمایہ اور محنت صرف کی مگر وقت آنے پر اسی خواب کی حکومت میں خود کو بے بس پایا۔ میرے نزدیک یہ احسان شناسی کا نہیں ، احسان فراموشی کا المیہ ہے۔ اقتدار تک پہنچنے کے لیے جن کندھوں کا سہارا لیا جائے ، اگر منزل پر پہنچ کر انہی کندھوں کو نظرانداز کردیا جائے تو صرف ایک شخص کا دل نہیں ٹوٹتا پوری جماعت کے کارکنوں کے اعتماد میں دراڑ پڑتی ہے۔ عبدالعلیم خان کی داستان میرے لیے اسی ٹوٹے ہوئے اعتماد کی کہانی ہے۔

عبدالعلیم خان کے اس کردار کو دیکھتے ہوئے میرے ذہن میں ایک بنیادی سوال اٹھتا ہے: جس شخص نے مشکل وقت میں جماعت کا ساتھ دینے کے لیے اپنے وسائل ، وقت اور سیاسی مفادات داؤ پر لگائے ہوں ، اقتدار ملنے کے بعد اس کے ساتھ تعلقات کن اصولوں کے تحت نبھائے جانے چاہییں ؟

میرے نزدیک یہ محض کسی ایک رہنما کے حق یا مخالفت کا معاملہ نہیں بلکہ سیاسی اخلاقیات ، باہمی احترام اور وفاداری کی قدر کا سوال ہے۔ بالخصوص کارکن کے لیے یہ سوال اہم ہے کیونکہ وہ قیادت کے فیصلوں کے اثرات زمینی سطح پر محسوس کرتا اور انہی کی بنیاد پر جماعت پر اپنے اعتماد کو پرکھتا ہے۔

یہ تحریر کسی ایک شخصیت کی غیر مشروط حمایت یا کسی دوسرے رہنما پر حتمی الزام عائد کرنے کے بجائے میرے سیاسی مشاہدے اور تاثر کی ترجمانی ہے۔ اقتدار عارضی ہوتا ہے ، عہدے بدلتے رہتے ہیں اور سیاسی اتحاد وقت کے ساتھ نئی شکل اختیار کرتے ہیں۔ تاہم کسی بھی قیادت کی ساکھ اس بات سے ضرور متاثر ہوتی ہے کہ وہ اپنے سابق ساتھیوں اور کارکنوں کے ساتھ اختلاف کے باوجود کس قدر احترام ، انصاف اور شفافیت کا مظاہرہ کرتی ہے۔ عبدالعلیم خان کا معاملہ اسی وسیع تر سوال کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ سیاسی کامیابی میں شریک افراد کو بعد کے مراحل میں کس طرح یاد رکھا ، سنا اور برتا جاتا ہے۔

اقتدار میں آنے کے بعد کسی جماعت کی اصل آزمائش شروع ہوتی ہے۔ کیا وہ اپنے کارکن کو فیصلہ سازی میں جگہ دیتی ہے ؟ کیا ٹکٹ میرٹ پر تقسیم ہوتے ہیں ؟ کیا قیادت تنقید سننے کا حوصلہ رکھتی ہے یا کارکن صرف احتجاج ، دھرنے اور انتخابی مہم کے لیے یاد آتا ہے ؟ جبکہ اقتدار کے وقت دروازے چند بااثر افراد کے لیے کھلتے ہیں ؟

میں نے تحریکِ انصاف کو امید کی نگاہ سے دیکھا تھا۔ آج جب ماضی کے ان واقعات کو یاد کرتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ کارکن کی مایوسی محض ایک شخص کا دکھ نہیں ، کسی جماعت کے تنظیمی بحران کی علامت بھی ہو سکتی ہے۔ کارکن پہلے خاموش ہوتا ہے پھر پیچھے ہٹتا ہے اور بالآخر وہ جذبہ ماند پڑ جاتا ہے جس نے کبھی جماعت کو قوت بخشی تھی۔

میری چشم دید گواہی کا مقصد کسی کی تضحیک نہیں بلکہ اس سیاسی تضاد کو سامنے لانا ہے جس میں کارکن کی قربانیوں سے اقتدار کا راستہ تو ہموار ہوتا ہے مگر اقتدار ملنے کے بعد اسی کارکن کی آواز کمزور پڑ جاتی ہے۔

جس نے پی ٹی آئی کو اپنے خوابوں سے سینچا تھا اسی کے ہاتھوں آج اس کے خواب بکھر چکے ہیں یہ سیاست کا عجب المیہ ہے کہ کبھی کبھی معمار ہی اپنی تعمیر کردہ عمارت کو زمین بوس کر دیتا ہے۔ کیونکہ کسی جماعت کی بنیاد صرف مخالفین نہیں ہلاتے کبھی ایک نہ سنا گیا مشورہ ، ایک نظرانداز کیا گیا کارکن اور ایک محسن کے ساتھ روا رکھا گیا نامناسب سلوک بھی اس کی بنیادوں میں دراڑ ڈال دیتا ہے۔

آخر میں سوال عمران خان ہی سے نہیں ، ہر سیاسی قائد سے ہے:

جو جماعت اپنے کارکنوں کی قربانیوں سے اقتدار حاصل کرے کیا وہ انہی کارکنوں کو نظرانداز کرکے اپنی بنیادیں محفوظ رکھ سکتی ہے ؟