بدھ، 21 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

پختہ عزم،تحریر: نادر فہمی

نقطہ نظر
nadirfehmi

علی اپنے کمرے میں میز پر کتاب کھولے بیٹھا تھا۔ اس کی آنکھوں میں تھکن تھی اور چہرے پر مایوسی۔ وہ دو گھنٹے سے ایک ہی سبق یاد کرنے کی کوشش کر رہا تھا لیکن سبق تھا کہ ذہن میں بیٹھ ہی نہیں رہا تھا۔ آخر تنگ آ کر اس نے کتاب بند کی اور آواز لگا کر اپنی اماں کو بلایا۔


نہیں اماں یہ مجھ سے نہیں ہوگا میں نے بہت کوشش کر لی پر مجھ سے نہیں ہوتا سبق یاد۔ علی نے افسردہ لہجے میں اپنی اماں سے کہا۔ اس کی آواز میں بے بسی تھی۔


علی کی والدہ جو کچن میں کام کر رہی تھیں فورا اس کے پاس آئیں۔ انہوں نے پیار سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور نرم لہجے میں بولیں۔

ہمت کرنے والوں کی کبھی ہار نہیں ہوتی بیٹا۔ یہ تو صرف ایک سبق ہے تم تو بہت ذہین ہو۔


علی پھر سے افسردہ لہجے میں کہنے لگا۔

اور کتنی ہمت کروں اماں جی دو گھنٹے سے تو مسلسل یاد کر رہا ہوں نہیں ہو رہا۔ مجھے لگتا ہے میرا دماغ ہی کمزور ہے۔ سب بچوں کو یاد ہو جاتا ہے بس مجھے ہی نہیں ہوتا۔ کل استاد جی نے کہا تھا جو سبق یاد نہ کر کے آیا اسے سزا ملے گی۔


علی کی والدہ مسکرائیں اور اس کے برابر کرسی پر بیٹھ گئیں۔ انہوں نے کہا۔

بیٹا انسان کا دماغ کمزور نہیں ہوتا بس اس کا عزم کمزور ہوتا ہے۔ کوشش جاری رکھنا چاہیے۔ اگر انسان کوئی کام کرنے کا پختہ عزم کر لے تو دنیا کی کوئی طاقت اسے روک نہیں سکتی۔ اللہ تعالی بھی اسی بندے کی مدد کرتا ہے جو خود ہمت کرتا ہے۔


یہ سن کر علی کے دل میں ایک نیا سوال پیدا ہوا۔ اس نے حیرانی سے اپنی والدہ کی طرف دیکھا۔

پھر یہ عزم کیسے ہوتا ہے اماں جی۔ یہ پختہ عزم کیا ہوتا ہے۔


علی کی اماں نے کہا آؤ تمہیں ایک بہادر بادشاہ کی کہانی سناتی ہوں پھر تمہیں خود سمجھ آ جائے گا کہ عزم کیا ہوتا ہے۔


علی سیدھا ہو کر بیٹھ گیا اور غور سے سننے لگا۔


ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ کسی دور دراز ریاست میں ایک بہت ہی نیک اور بہادر بادشاہ ہوا کرتا تھا۔ اس بادشاہ کا نام سلطان احمد تھا۔ سلطان احمد اپنی رعایا سے بہت پیار کرتا تھا۔ وہ خود سادہ لباس پہنتا تھا اور ہمیشہ انصاف کرتا تھا۔ اس کی ریاست بہت بڑی اور سرسبز تھی۔ کھیتوں میں ہر طرف فصل لہلہاتی تھی اور لوگ خوشحال تھے۔ لیکن اس بڑی ریاست کے مقابلے میں بادشاہ کی فوج بہت چھوٹی تھی کیونکہ بادشاہ جنگ پر یقین نہیں رکھتا تھا وہ امن چاہتا تھا۔


ایک بار اس خوشحال ریاست پر دشمنوں نے حملہ کر دیا۔ دشمن بادشاہ بہت ظالم تھا۔ اس کی فوج تعداد میں کئی گنا زیادہ تھی۔ ان کے پاس ہاتھی گھوڑے اور بے شمار ہتھیار تھے۔ سلطان احمد کی چھوٹی سی فوج بہادری سے لڑی لیکن دشمن کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے انہیں شکست ہوئی۔ میدان جنگ میں بہت سے سپاہی شہید ہو گئے۔ موقع کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے سلطان احمد کے وفادار وزیر نے کہا کہ بادشاہ سلامت آپ یہاں سے نکل جائیں تاکہ آپ زندہ رہیں تو دوبارہ ریاست کو آزاد کروا سکیں۔ مجبورا بادشاہ کو وہاں سے بھاگنا پڑا اور وہ ایک پہاڑ کے قریب ایک چھوٹی سی غار میں چھپ گیا۔


کچھ دن گزرے۔ بادشاہ اپنی ریاست اپنے لوگوں اور اپنے محل کو یاد کر کے بہت بے چین تھا۔ وہ ہر وقت سوچتا تھا کہ میرے لوگ ظالم کے ہاتھوں میں قید ہیں۔ ایک رات بادشاہ نے تنہائی میں اپنے اللہ پاک کے آگے سجدہ کیا اور رو رو کر دعا کی۔ اے میرے اللہ تو ہی طاقت دینے والا ہے تو ہی ہمت دینے والا ہے۔ اس نے دل میں پختہ عزم کیا کہ میں اپنی ریاست دشمنوں سے واپس لے کر رہوں گا چاہے اس کے لیے میری جان ہی کیوں نہ چلی جائے۔ یہ عزم کوئی عام ارادہ نہیں تھا یہ دل کی گہرائی سے کیا ہوا وعدہ تھا۔


اگلی صبح بادشاہ نے اپنی بکھری ہوئی فوج کو دوبارہ جمع کیا اور دشمنوں پر حملہ کر دیا۔ اس بار اس کے سپاہیوں میں نیا جوش تھا لیکن پھر بھی دشمن زیادہ طاقتور تھے۔ گھمسان کی جنگ ہوئی اور ایک بار پھر بادشاہ کو شکست ہوئی۔ اس کے کئی سپاہی زخمی ہو گئے۔ بادشاہ کے دل کو بہت دھچکا لگا لیکن اس نے ہمت نہ ہاری۔


کچھ دن آرام کے بعد بادشاہ نے دوسری بار پھر پوری تیاری کے ساتھ حملہ کیا۔ اس بار اس نے نئی حکمت عملی بنائی لیکن قسمت نے پھر ساتھ نہ دیا اور دوسری بار بھی بادشاہ کو شکست ہوئی۔ اب تو اس کے اپنے ساتھی بھی کہنے لگے کہ بادشاہ سلامت اب بس کریں ہم دشمن کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ ہمیں یہ ریاست بھول جانی چاہیے۔ لیکن بادشاہ کو اپنے اللہ پر پورا یقین تھا اور اس کا عزم پہاڑ سے بھی زیادہ پختہ تھا۔


بادشاہ نے جواب دیا کہ اگر میں نے آج ہمت ہار دی تو تاریخ مجھے بزدل کہے گی۔ میں تب تک کوشش کرتا رہوں گا جب تک اللہ مجھے کامیابی نہیں دیتا۔


وہ ایک بار پھر اسی غار میں گیا جہاں وہ چھپا تھا۔ وہ تھکا ہارا بیٹھا تھا کہ اس کی نظر غار کی دیوار پر پڑی۔ ایک چھوٹی سی چیونٹی دیوار پر چڑھنے کی کوشش کر رہی تھی۔ اس کے منہ میں دانہ تھا۔ وہ تھوڑا اوپر جاتی اور گر جاتی۔ ایک بار گری دو بار گری دس بار گری لیکن اس نے ہمت نہ ہاری۔ آخر بیسویں بار وہ دانہ لے کر اوپر چڑھنے میں کامیاب ہو گئی۔ بادشاہ یہ منظر دیکھ کر چونک گیا۔ اس نے سوچا کہ جب ایک چھوٹی سی چیونٹی اپنے چھوٹے سے عزم سے کامیاب ہو سکتی ہے تو میں تو انسان ہوں اشرف المخلوقات ہوں میں کیوں نہیں۔


اس واقعے نے بادشاہ کے پختہ عزم کو اور بھی پختہ کر دیا۔ اس نے تیسری بار پھر اللہ کا نام لے کر حملہ کر دیا۔ اس بار اس کی آنکھوں میں سچائی تھی دل میں اللہ پر بھروسہ تھا اور نیت میں پختہ عزم تھا۔ اس بار اللہ نے اس کی مدد کی۔ دشمن کی اتنی بڑی فوج ہونے کے باوجود بادشاہ کی چھوٹی سی فوج نے انہیں شکست دے دی۔ دشمن بادشاہ میدان چھوڑ کر بھاگ گیا۔ اور اس طرح آخر کار فتح سلطان احمد کو ملی۔ ساری رعایا نے اپنے بادشاہ کا شاندار استقبال کیا۔


کہانی ختم کر کے علی کی والدہ نے علی سے کہا دیکھا بیٹا اگر وہ بادشاہ پہلی یا دوسری شکست کے بعد ہمت ہار دیتا تو کیا وہ کبھی اپنی ریاست واپس لے سکتا تھا۔ ہرگز نہیں۔ اسے کامیابی اس لیے ملی کیونکہ اس کا عزم پختہ تھا۔


علی کی آنکھوں میں اب چمک آ گئی تھی۔ اسے بات سمجھ آ گئی تھی۔


اس لیے میرے بیٹے ہمیں بھی چاہیے کہ جو بھی کام کریں اسے پختہ عزم کے ساتھ کریں۔ تم بھی اس سبق کو اس نیت سے یاد کرو کہ تم نے اسے یاد کر کے ہی رہنا ہے پھر دیکھنا کیسے یاد ہوتا ہے۔


علی نے مسکرا کر کہا جی اماں جی اب میں پختہ عزم کے ساتھ دوبارہ یاد کروں گا۔ اور پھر وہ دوبارہ میز پر بیٹھ گیا۔ اس بار اس کے چہرے پر مایوسی نہیں بلکہ ایک نیا حوصلہ تھا۔