بدھ، 21 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

پنجاب میں گڈ گورننس اورمیرٹ کا نعرہ، مگرعمل درآمد کہاں؟ تجزیہ: شہزاد قریشی

نقطہ نظر
shehzad qureshi098

پنجاب میں میرٹ کے دعوے، سفارش کا راج وزیراعلیٰ کو کون حقیقت بتائے گا؟


گوجر خان سے اٹھتے سوالات گڈ گورننس کا نعرہ یا سیاسی مداخلت؟


میڈم وزیراعلیٰ! میرٹ کی دھجیاں اڑانے والوں کا احتساب کون کرے گا؟


تجزیہ شہزاد قریشی


پنجاب میں گڈ گورننس اور میرٹ کی بنیاد پر نظام چلانے کا آغاز یقیناً ایک اچھی امید اور مثبت سوچ کے ساتھ ہوا تھا۔ وزیراعلیٰ پنجاب کا یہ نعرہ قابلِ تحسین تھا کہ سرکاری معاملات میں سفارش کے بجائے میرٹ، سیاسی مداخلت کے بجائے قانون کی حکمرانی اور اقربا پروری کے بجائے اہلیت کو ترجیح دی جائے گی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس پالیسی پر آج بھی اسی جذبے کے ساتھ عمل ہو رہا ہے، یا وقت گزرنے کے ساتھ اس کے برعکس فیصلے ہونے لگے ہیں؟ تحصیل گوجر خان، جسے سرزمینِ شہداء کہا جاتا ہے، اس صورتِ حال کی ایک اہم مثال کے طور پر سامنے آ رہی ہے۔ گزشتہ ایک ماہ کے دوران یہاں تعیناتیوں اور سیاسی مداخلت کے حوالے سے جو صورتِ حال بیان کی جا رہی ہے، وہ کئی سنجیدہ سوالات کو جنم دیتی ہے۔ اگر سرکاری تعیناتیوں میں واقعی سیاسی پسند و ناپسند اور سفارش کو اہمیت دی جا رہی ہے تو پھر میرٹ کے دعووں اور عملی اقدامات کے درمیان موجود اس تضاد کا جواب کون دے گا؟ تشویش کی بات یہ ہے کہ ایک طرف قانون کی حکمرانی، شفافیت اور گڈ گورننس کے بلند بانگ دعوے کیے جاتے ہیں، جبکہ دوسری طرف یہ الزامات سامنے آتے ہیں کہ وزیراعلیٰ ہاؤس میں بیٹھے بعض افراد سیاسی بنیادوں پر تعیناتیوں میں کردار ادا کر رہے ہیں۔ اگر منتخب نمائندے یا بااثر سیاسی شخصیات اپنی پسند کے مطابق سرکاری افسران اور اہلکاروں کی تعیناتی چاہتی ہیں تو یہ معاملہ محض انتظامی تبدیلیوں تک محدود نہیں رہتا، بلکہ حکومتی پالیسی اور انتظامی خودمختاری کے لیے بھی ایک بڑا سوال بن جاتا ہے۔ یہاں یہ سوال بھی اہم ہے کہ اگر پنجاب اسمبلی کے اعلیٰ عہدوں پر فائز شخصیات یا سیاسی اثر و رسوخ رکھنے والے افراد مختلف حلقوں میں تعیناتیوں کے معاملے پر مداخلت کر رہے ہیں، جیسا کہ الزامات عائد کیے جا رہے ہیں، تو کیا ان معاملات کی غیر جانب دارانہ تحقیقات نہیں ہونی چاہییں؟ کسی بھی سیاسی شخصیت یا عہدے دار کے خلاف الزام کو ثبوت کے بغیر حتمی حقیقت قرار نہیں دیا جا سکتا، لیکن ان الزامات کو نظرانداز کرنا بھی درست طرزِ حکمرانی نہیں ہوگا۔ اصل امتحان نعروں کا نہیں، کردار اور عمل کا ہے۔ گڈ گورننس صرف تقاریر، بیانات اور سوشل میڈیا پر تشہیر کا نام نہیں۔ اس کا حقیقی مطلب یہ ہے کہ ایک عام شہری کو بھی وہی انصاف ملے جو کسی بااثر سیاسی شخصیت کو حاصل ہے؛ ایک قابل افسر کی تعیناتی اس کی اہلیت کی بنیاد پر ہو، نہ کہ کسی ایم پی اے یا ایم این اے کی پسند پر؛ اور سرکاری ادارے سیاسی دباؤ کے بجائے قانون اور قواعد کے مطابق کام کریں۔ وزیراعلیٰ پنجاب کو اس پہلو پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ کسی بھی سربراہِ حکومت کے لیے سب سے بڑا خطرہ صرف مخالفین کی تنقید نہیں ہوتا، بلکہ وہ خوشامدی حلقے بھی ہوتے ہیں جو زمینی حقائق سے آگاہ کرنے کے بجائے سب کچھ اچھا ہونے کی رپورٹ پیش کرتے رہتے ہیں۔ اگر کسی علاقے میں میرٹ کی خلاف ورزی ہو رہی ہے، اگر تعیناتیوں میں سفارش کی شکایات ہیں اور اگر انتظامی فیصلوں پر سیاسی دباؤ کا تاثر پیدا ہو رہا ہے تو وزیراعلیٰ تک یہ حقیقت پہنچانا ان کے ماتحت ذمہ داران کی ذمہ داری ہے۔

میڈم وزیراعلیٰ! اگر آپ نے پنجاب میں میرٹ اور گڈ گورننس کی بنیاد پر نظام قائم کرنے کا عزم کیا ہے تو اس عزم کو صرف الفاظ تک محدود نہ رہنے دیں۔ گوجر خان جیسے علاقوں میں سامنے آنے والی شکایات کا غیر جانب دارانہ جائزہ لیا جائے، تعیناتیوں کے معیار کو شفاف بنایا جائے اور اگر کسی بھی سطح پر سیاسی مداخلت ثابت ہو تو ذمہ داروں کے خلاف قواعد کے مطابق کارروائی کی جائے۔ آخر میں سوال سادہ مگر اہم ہے: اگر تعیناتیاں سیاسی سفارش پر ہوں، فیصلے ذاتی پسند و ناپسند کے تابع ہوں اور میرٹ کا اصول کمزور پڑ جائے، تو پھر گڈ گورننس کا دعویٰ کس بنیاد پر کیا جائے گا؟ پنجاب کو نعروں سے زیادہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ وزیراعلیٰ کا اچھا وژن اسی وقت کامیاب ہو سکتا ہے جب اس پر نچلی سطح تک عمل درآمد بھی یقینی بنایا جائے۔ ورنہ میرٹ اور گڈ گورننس کے خوب صورت نعرے اپنی اہمیت کھو دیں گے، اور عوام یہی پوچھتے رہیں گے کہ جس نظام سے انصاف کی امید تھی، وہاں سفارش کا راستہ آخر کس نے کھولا؟ میرٹ کسی حکومت کا احسان نہیں، عوام کا حق ہے؛ اور گڈ گورننس کا اصل ثبوت دعوے نہیں، شفاف فیصلے ہوتے ہیں۔