پنجاب میں کرپشن کا اصل مسئلہ مریم نواز نہیں، بیوروکریسی کا کمزور چیک اینڈ بیلنس ہے،تجزیہ : شہزاد قریشی
نقطہ نظر
مریم نواز نے سفارش کلچر کو دفن کر دیا، اب کرپٹ انتظامی نظام کے احتساب کی باری ہے
ترقیاتی کام اپنی جگہ، مریم نواز کے لیے اصل امتحان پنجاب کے محکموں سے کرپشن کا خاتمہ ہے
تجزیہ شہزاد قریشی
پنجاب میں کرپشن کے حوالے سے ایک وفاقی وزیر کی جانب سے لگائے گئے الزامات اپنی جگہ، لیکن کسی بھی الزام کو قبول کرنے یا مسترد کرنے سے پہلے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی مجموعی کارکردگی اور صوبے کے انتظامی ڈھانچے کا غیرجانبدارانہ جائزہ لینا ضروری ہے۔ میری ذاتی رائے میں مریم نواز شریف نے وزیراعلیٰ بننے کے بعد پنجاب میں کئی ایسے اقدامات کیے ہیں جنہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کی شخصیت ایک متحرک اور باہمت سیاسی رہنما کے طور پر ابھری ہے اور ان کے ترقیاتی و عوامی فلاحی منصوبوں کو پاکستان ہی نہیں، بین الاقوامی سطح پر بھی توجہ حاصل ہوئی ہے۔ خصوصاً پنجاب میں برسوں سے قائم سفارش اور سیاسی مداخلت کے کلچر کو چیلنج کرنا ان کا ایک اہم اقدام ہے۔ ماضی میں ارکان اسمبلی اپنے ڈیروں پر ڈپٹی کمشنرز، اسسٹنٹ کمشنرز، پولیس افسران، تحصیلداروں اور پٹواریوں کو طلب کرکے اپنی مرضی کے مطابق انتظامی معاملات چلاتے تھے۔ آج اس روایت کو بڑی حد تک روکنے کی کوشش ہوئی ہے۔ حتیٰ کہ حکمران جماعت کے بعض ارکان بھی اس تبدیلی سے ناخوش دکھائی دیتے ہیں، کیونکہ انہیں ماضی میں حاصل انتظامی اثرورسوخ اب میسر نہیں۔ لیکن پنجاب کا اصل مسئلہ اب بھی موجود ہے، اور وہ ہے محکموں میں احتساب، نگرانی اور چیک اینڈ بیلنس کا فقدان۔ پنجاب کی سول انتظامیہ، پولیس، صحت، بلدیاتی اداروں اور دیگر محکموں میں بدعنوانی کی شکایات کا بنیادی سوال یہ ہے کہ ان اداروں کی نگرانی کون کر رہا ہے؟ ہر ضلع میں کمشنر اور ڈپٹی کمشنر موجود ہیں۔ اگر یہ افسران اپنے ماتحت محکموں کی حقیقی نگرانی کریں، عوامی شکایات سنیں اور کاموں کی باقاعدہ جانچ پڑتال کریں تو کرپشن کے بہت سے راستے بند ہو سکتے ہیں۔ صرف ورچوئل میٹنگز منعقد کرنا، اسسٹنٹ کمشنرز کو اجلاسوں میں بلانا اور رسمی بریفنگ لے لینا گڈ گورننس نہیں۔ اصل انتظامی صلاحیت یہ ہے کہ افسران زمینی حقائق جانیں، عوام سے فیڈبیک لیں، منصوبوں کی تکمیل کی تصدیق کریں اور بدعنوانی میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کریں۔ وزیراعلیٰ ہاؤس میں بھی ان افسران اور ذمہ داران کا احتساب ہونا چاہیے جنہیں مختلف محکموں کی نگرانی اور چیک اینڈ بیلنس کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ وزیراعلیٰ کا اعتماد حاصل کرنا ایک اعزاز ضرور ہے، لیکن اس اعتماد کا تقاضا نتائج اور جواب دہی ہے، محض اجلاسوں اور رپورٹوں کی تیاری نہیں۔بلدیاتی اداروں میں سامنے آنے والی مبینہ اربوں اور کروڑوں روپے کی بدعنوانی کی تحقیقات اور سامنے آنے والے شواہد بھی ایک اہم سوال اٹھاتے ہیں۔ اگر کسی افسر یا اہلکار کے خلاف کرپشن ثابت ہو جائے تو وہ اپنی کرسی پر بدستور کیسے بیٹھا رہ سکتا ہے؟ ثبوت سامنے آنے کے بعد بھی کارروائی نہ ہونا انتظامی نظام کی کمزوری ہے۔ یہی صورتحال صحت سمیت دیگر محکموں میں بھی سنجیدہ توجہ کی متقاضی ہے۔ تاریخ پر نظر ڈالیں تو 1985ء میں میاں نواز شریف نے بطور وزیراعلیٰ پنجاب دیہی سڑکوں اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے اہم اقدامات کیے تھے۔ اس وقت پنجاب کے کئی دیہی راستے خستہ حالی کا شکار تھے۔ بعدازاں شہباز شریف نے بھی اپنے دورِ وزارتِ اعلیٰ میں ترقیاتی منصوبوں پر بھرپور توجہ دی۔آج مریم نواز شریف بھی اسی ترقیاتی روایت کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ البتہ ان کے کاموں کی تشہیر اور عوام تک درست معلومات پہنچانے میں مزید بہتری کی گنجائش موجود ہے۔ میرا مریم نواز شریف کو ایک واضح مشورہ ہے کہ وہ اپنی ترقیاتی رفتار کے ساتھ انتظامی احتساب کی رفتار بھی تیز کریں۔ ہر ضلع کے کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کی کارکردگی جانچی جائے، محکموں کے اندرونی احتساب کو فعال بنایا جائے، عوامی شکایات پر فوری کارروائی ہو اور وزیراعلیٰ ہاؤس میں بیٹھے نگرانی کے ذمہ داران سے بھی نتائج طلب کیے جائیں۔ یاد رکھیے، وزیراعلیٰ منصوبے شروع کر سکتی ہیں، پالیسیاں بنا سکتی ہیں اور انتظامی اصلاحات کا حکم دے سکتی ہیں، لیکن ان منصوبوں کی کامیابی کا دارومدار ان افسران پر ہے جو عملی طور پر نظام چلاتے ہیں۔ پنجاب میں مسئلہ صرف کرپشن کے الزامات کا نہیں، بلکہ اس نظام کا ہے جو کرپشن کو روکنے اور ذمہ داروں کو سزا دینے میں ناکام ہو رہا ہے۔ مریم نواز شریف کی اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب ترقیاتی منصوبوں کے ساتھ ساتھ کرپشن کے دروازے بھی بند ہوں گے اور قانون کا اطلاق ہر طاقتور اور کمزور پر یکساں ہوگا۔ الزامات لگانا آسان ہے، لیکن کارکردگی، حقائق اور انتظامی نظام کا غیرجانبدارانہ جائزہ لینا اصل سیاسی بصیرت ہے۔





