قومی اداروں کی تضحیک نہیں، احترام اور وقار کا راستہ اپنائیے،تجزیہ :شہزاد قریشی
نقطہ نظر
میری عمر گزر گئی، دنیا کے مختلف ممالک کے حالات دیکھے اور ان کے معاشرتی رویّوں کا مشاہدہ کیا۔ ایک بات جو بارہا محسوس ہوئی، وہ یہ ہے کہ مہذب قومیں اپنے قومی اداروں، ان کے سربراہوں اور ریاستی ذمہ داریاں ادا کرنے والی شخصیات کو احترام کی نگاہ سے دیکھتی ہیں۔ اختلافِ رائے ہر معاشرے کا حق ہے، لیکن اپنے ہی ملک کے اداروں کی تضحیک کو فخر سمجھنا کسی بھی قوم کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔
بدقسمتی سے پاکستان میں ایک ایسا رجحان فروغ پا رہا ہے جہاں بعض لوگ سیاسی اختلافات کی بنیاد پر اپنے ہی قومی اداروں اور ان کے سربراہوں کو بین الاقوامی سطح پر تنقید، تمسخر اور تضحیک کا نشانہ بناتے ہیں۔ حالیہ دورۂ ایران کے تناظر میں چیف آف آرمی اسٹاف کی ملاقاتوں اور سفارتی سرگرمیوں کو جس انداز میں بعض حلقوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر موضوعِ تمسخر بنایا جا رہا ہے، وہ سنجیدہ قومی مکالمے کے بجائے سیاسی عصبیت اور غیر ذمہ دارانہ رویّوں کی عکاسی کرتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا سیاسی اختلافات اس قدر بڑھ جانے چاہییں کہ ہم اپنے ہی ملک کی سفارتی سرگرمیوں، قومی سلامتی کے معاملات اور ریاستی اداروں کے سربراہوں کی ہر پیش رفت کو تضحیک کا موضوع بنا دیں؟ کیا ہم یہ بھول چکے ہیں کہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا وقار صرف کسی ایک حکومت، جماعت یا شخصیت سے وابستہ نہیں، بلکہ یہ ہم سب کی مشترکہ قومی شناخت ہے؟
یاد رکھیے، اداروں پر تنقید اور اداروں کی تضحیک دو الگ چیزیں ہیں۔ اداروں سے سوال کرنا، ان کی کارکردگی پر تنقید کرنا اور ان سے آئین و قانون کے مطابق جواب دہی کا مطالبہ کرنا ہر شہری کا حق ہے۔ لیکن ذاتی نفرت، سیاسی بغض اور سوشل میڈیا کی وقتی داد سمیٹنے کے لیے قومی اداروں کو مسلسل تمسخر کا نشانہ بنانا کسی تعمیری سیاسی شعور کی علامت نہیں۔
خدارا! اپنے ملک، اپنے قومی اداروں اور بالخصوص قومی سلامتی کے ذمہ دار اداروں کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے قومی وقار، تہذیب اور ذمہ داری کو ملحوظِ خاطر رکھیے۔ اختلاف ضرور کیجیے، سوال ضرور اٹھائیے، مگر ایسا طرزِ عمل اختیار نہ کیجیے جس سے دنیا کے سامنے اپنے ہی وطن کی ساکھ کو نقصان پہنچے۔
ایک بات ہمیشہ یاد رکھیے: جب کوئی قوم اپنے ہی محافظوں کو کمزور کرنے اور اپنے ہی گھر کے شیروں کو پنجرے میں بند کرنے پر تل جائے تو باہر کے شکاریوں کے حوصلے بڑھ جاتے ہیں۔ قومی اداروں کی کمزوری کا نقصان بالآخر پوری قوم کو اٹھانا پڑتا ہے۔
میں یہ نہیں کہتا کہ ہمارے ادارے غلطیوں سے مبرا ہیں، نہ ہی کسی ادارے کو تنقید سے بالاتر سمجھتا ہوں۔ میرا مؤقف صرف اتنا ہے کہ اصلاح اور احتساب کا راستہ دلیل، قانون اور ذمہ دارانہ مکالمے سے گزرتا ہے، تضحیک، نفرت اور تماشا بنانے سے نہیں۔
جو لوگ سوشل میڈیا پر اپنے ہی ملک کے اداروں کے سربراہوں کو مسلسل تمسخر کا نشانہ بناتے ہیں، انہیں اپنے رویّوں پر ضرور غور کرنا چاہیے۔ وطن سے محبت کا تقاضا یہ نہیں کہ ہم ہر حکومتی یا ادارہ جاتی فیصلے کی حمایت کریں؛ وطن سے محبت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اختلاف کے باوجود اپنے ملک کے مفاد، سلامتی اور وقار کو مقدم رکھیں۔
پاکستان ہم سب کا وطن ہے۔ اس کی عزت ہماری عزت، اس کا وقار ہمارا وقار اور اس کی سلامتی ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔ سیاسی اختلافات اپنی جگہ، مگر قومی وقار پر سمجھوتہ کسی صورت دانش مندی نہیں۔
مزید پڑھیں

ٹرانس جینڈر مرد اور اہلیہ پہلے بچے کی آمد کے منتظر


سحر کامران کا بیگم نصرت بھٹو کو خراجِ عقیدت
