قوموں کی عزت ہم سے ہے،تحریر: شازیہ یاسین
نقطہ نظر
کسی بھی ملک و قوم کی ترقی و خوشحالی میں جہاں مرد اپنا کردار ادا کرتے ہیں، وہیں خواتین کا کردار بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ درحقیقت کسی بھی معاشرے کی ترویج و ترقی میں خواتین ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ خواتین کا کردار سب سے پہلے گھر سے شروع ہوتا ہے، جہاں وہ ایک بچے کی پہلی درسگاہ بنتی ہیں۔ وہی اپنی آغوش میں نئی نسل کی تربیت کرتی ہیں اور انہیں اچھے برے کی تمیز سکھاتی ہیں۔ ماں ہی وہ ہستی ہے جو اپنی اولاد کو نہ صرف تعلیم دیتی ہے بلکہ اسے ایک باکردار اور باصلاحیت انسان بھی بناتی ہے، جو آگے چل کر ملک و قوم کے لیے مفید شہری ثابت ہوتا ہے۔
ماں کی گود میں پلتی ہے تقدیرِ جہاں
اس سے روشن ہے ہر قوم کا آشیاں
اگر ہم تعمیرِ وطن کے کسی بھی پہلو پر نظر ڈالیں تو خواتین کے کردار کے بغیر وہ ادھورا دکھائی دیتا ہے۔ معاشی میدان میں خواتین مردوں کے شانہ بشانہ کام کرتے ہوئے نہ صرف اپنے خاندان بلکہ ملک کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جس معاشرے میں خواتین کو مساوی مواقع فراہم کیے جاتے ہیں، وہ معاشرہ تیزی سے ترقی کی منازل طے کرتا ہے۔ آج خواتین مختلف شعبہ جات میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہیں۔
صحت کے شعبے میں خواتین بطور ڈاکٹر اور نرس اپنی خدمات سرانجام دے رہی ہیں اور انسانیت کی خدمت میں مصروف ہیں۔ تعلیم کے میدان میں بطور معلمہ وہ نئی نسل کو علم کے زیور سے آراستہ کر رہی ہیں اور انہیں ایک روشن مستقبل کے لیے تیار کر رہی ہیں۔ انجینئرنگ کے شعبے میں خواتین جدید ترقی کے منصوبوں میں حصہ لے کر ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کر رہی ہیں۔ اسی طرح افواجِ پاکستان، پولیس اور دیگر دفاعی اداروں میں بھی خواتین مردوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر وطن کے دفاع میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔
خواتین نے سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا ہے۔ وہ تحقیق، ایجادات اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے دنیا میں اپنے ملک کا نام روشن کر رہی ہیں۔ آج کی عورت صرف گھریلو ذمہ داریوں تک محدود نہیں بلکہ وہ ایک سائنس دان، محقق، آئی ٹی ماہر اور کاروباری شخصیت کے طور پر بھی اپنی پہچان بنا رہی ہے۔
دیہی علاقوں میں بھی خواتین کا کردار نہایت اہم ہے۔ وہ کھیتی باڑی، مویشی پالنے اور دیگر زرعی سرگرمیوں میں حصہ لے کر ملکی معیشت کو مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہو رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ کھیلوں کے میدان میں بھی خواتین نے اپنی محنت اور لگن سے عالمی سطح پر کامیابیاں حاصل کی ہیں اور پاکستان کا نام روشن کیا ہے۔
عزم و ہمت کی جو تصویریں بناتی ہیں خواتین
قوم کی قسمت کے ستارے جگمگاتی ہیں خواتین
ادب و ثقافت کے میدان میں بھی خواتین نے نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ اردو ادب کی ترقی میں خواتین ادیبوں اور شاعرات کا کردار نہایت اہم رہا ہے۔ انہوں نے اپنے قلم کے ذریعے نہ صرف معاشرتی مسائل کو اجاگر کیا بلکہ ظلم و ناانصافی کے خلاف آواز بھی بلند کی۔ ان کی تحریریں انسانی جذبات کی عکاسی کرتی ہیں اور قاری کے دل پر گہرا اثر چھوڑتی ہیں۔
تاریخ پر نظر ڈالیں تو تحریکِ پاکستان میں بھی خواتین کا کردار ناقابلِ فراموش ہے۔ محترمہ فاطمہ جناح سمیت بے شمار خواتین نے آزادی کی جدوجہد میں حصہ لیا اور قوم کی رہنمائی کی۔ قیامِ پاکستان کے بعد بھی خواتین نے تعمیرِ وطن میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور مختلف شعبوں میں اپنی خدمات پیش کیں۔
اسلام نے بھی خواتین کو نہایت بلند مقام عطا کیا ہے۔ انہیں عزت، وقار اور حقوق دیے گئے ہیں۔ عورت ماں، بہن، بیٹی اور بیوی کے روپ میں معاشرے کی بنیاد کو مضبوط بناتی ہے۔ اگر ہم خواتین کو تعلیم، صحت اور دیگر بنیادی سہولیات کے ساتھ ساتھ عزت اور خود اعتمادی فراہم کریں تو وہ یقیناً ملک کو ترقی کی نئی بلندیوں تک لے جا سکتی ہیں۔
آج کے دور کا تقاضا ہے کہ ہم خواتین کی تعلیم اور خودمختاری پر خصوصی توجہ دیں۔ انہیں معاشی طور پر بااختیار بنائیں اور ان کے لیے ایسے مواقع فراہم کریں جہاں وہ اپنی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کر سکیں۔ ایک مضبوط، تعلیم یافتہ اور بااعتماد عورت ہی ایک مضبوط معاشرے کی بنیاد رکھ سکتی ہے۔
کسی بھی قوم کی ترقی خواتین کی ترقی سے جڑی ہوتی ہے۔ اگر ہم ایک خوشحال اور ترقی یافتہ پاکستان کا خواب دیکھتے ہیں تو ہمیں خواتین کو ان کا جائز مقام دینا ہوگا اور انہیں قومی ترقی میں بھرپور شرکت کا موقع فراہم کرنا ہوگا۔
وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوزِ دروں




