منگل، 20 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

سچائی ہمیشہ جیت جاتی ہے،تحریر: نادر فہمی

نقطہ نظر
nadirfehmi

علی اور بلال اچھے دوست تھے۔ دونوں ایک ہی سکول میں پڑھنے جاتے تھے، ایک ہی جگہ اٹھنا بیٹھنا تھا تو دونوں میں بہت پیار تھا۔ ہر کوئی ان دونوں کی دوستی کی مثال دیتا تھا۔ گاؤں کے لوگ کہتے تھے کہ ایسی دوستی قسمت والوں کو ملتی ہے۔ اگر کبھی علی پر کوئی پریشانی آتی تو بلال علی کا پورا پورا ساتھ دیتا۔ وہ اس کے غم کو اپنا غم سمجھتا۔ اسی طرح علی بھی بلال کا ہر مشکل گھڑی میں ساتھ دیتا تھا۔ کبھی ایک بیمار ہوتا تو دوسرا اس کی تیمارداری کرتا۔


دونوں سکول سے آ کر قرآن پاک پڑھنے جاتے اور پھر وہاں سے واپسی پر دونوں گاؤں کے ایک بزرگ بابا جان کے پاس کچھ وقت گزارتے تھے۔ بابا جان اس گاؤں کے سب سے بڑے بزرگ تھے۔ ان کی سفید داڑھی اور نورانی چہرہ سب کو بہت پیارا لگتا تھا۔ اکثر شام کو گاؤں کے بچے بابا جان سے کہانیاں سننے کے لیے بابا جان کے پاس آ جایا کرتے تھے۔ بابا جان کے پاس بیٹھ کر بچوں کو سکون ملتا تھا۔


بابا جان بچوں کو ان کی پسندیدہ کہانیاں سناتے۔ بچوں کو اسلامی دعائیں سکھاتے اور اچھی اچھی باتیں بتایا کرتے تھے۔ وہ ہمیشہ کہتے تھے کہ بیٹا غصہ شیطان کا ہتھیار ہے اور صبر مومن کا زیور ہے۔ بابا جان کے ساتھ ان کا ایک پوتا بھی رہتا تھا جس کا نام محمود تھا۔ محمود بہت شریف لڑکا تھا۔ پانچ وقت کا پکا نمازی تھا، اپنے دادا جان کی ہر بات کو مانتا تھا اور کبھی کسی سے اونچی آواز میں بات نہیں کرتا تھا۔


ایک دن جب علی اور بلال تھوڑا لیٹ سکول پہنچے تو انہوں نے دیکھا ان کی جگہ پر پہلے سے محمود بیٹھا ہوا تھا۔ یہ دیکھ کر دونوں کو بہت غصہ آیا کیونکہ ان کی جگہ پر کوئی بھی نہ بیٹھا کرتا تھا۔ ان کو لگا جیسے ان کے حق پر کسی نے قبضہ کر لیا ہو۔


علی نے زور سے آواز لگائی۔

ہیلو محمود، تم پاگل ہو کیا تمہیں اچھے سے معلوم ہے یہ جگہ ہماری ہے اور ہماری جگہ پر کوئی دوسرا نہیں بیٹھتا۔ علی کی بات پوری ہونے ہی والی تھی کہ محمود نے جواب میں کہا

کیوں علی بھائی یہ جگہ کیا آپ کے نام لگ گئی ہے جو یہاں کوئی اور نہیں بیٹھ سکتا سکول تو سب کا ہے۔ علی کو محمود کی اس بات پر بہت غصہ آیا اور اس نے محمود کو ایک تھپڑ مار دیا اور بولا ۔

ہمارے آگے زبان نہیں چلاؤ۔ اگر اپنی بھلائی چاہتے ہو تو چپ چاپ یہاں سے دفع ہو جاؤ۔ ساری کلاس یہ منظر دیکھ رہی تھی۔ محمود نے صبر سے کام لیتے ہوئے وہاں سے اٹھنا مناسب سمجھا۔ من ہی من میں محمود کو غصہ بھی بہت آرہا تھا پر اس نے اپنے غصہ پر قابو رکھا کیونکہ اس کے دادا نے اسے یہی سکھایا تھا کہ برداشت میں ہی بڑائی ہے۔


اگلے دن علی اکیلا ہی سکول آیا کیونکہ بلال کو بخار تھا۔ کام سے جیسے ہی فارغ ہوئے تو بریک ٹائم ہوگیا سارے بچے کھیلنے میں مصروف ہوگئے۔ علی بھی اپنے دوست کے ساتھ کلاس روم سے باہر آگیا۔ حمزہ نے جب دیکھا علی کلاس سے باہر ہے تو موقع پاتے ہی وہ کلاس روم میں گیا اور اپنے ساتھ والے کی ریاضی کی کتاب نکال کر علی کے بیگ میں ڈال دی اور کلاس سے باہر آ کر سب کے ساتھ کھیلنے لگا تاکہ کسی کو شک نہ ہو۔


حمزہ بھی علی کا کلاس فیلو تھا۔ حمزہ بہت شرارتی لڑکا تھا ہر کسی کے ناک میں دم کیا ہوا تھا، آج اس کا شکار علی تھا۔ بریک بند ہوئی سب اپنی اپنی جگہ پر آ کر بیٹھ گئے اور ریاضی کے ماسٹر کا انتظار کرنے لگے۔ روز کی طرح ماسٹر جی نے آتے ہی سب بچوں کو ریاضی کی کتاب نکالنے کا حکم دیا۔


سب بچوں نے اپنی اپنی کتاب نکالی اور ماسٹر جی کے پڑھنے کا انتظار کرنے لگے۔ اسی درمیان جب حمزہ کے ساتھ والے لڑکے نے اپنی کتاب نکالنے کے لیے اپنا بیگ دیکھا تو کتاب بیگ میں نہیں تھی۔ اس کا چہرہ پریشان ہوگیا۔ بس پھر کچھ ہی دیر میں پوری کلاس میں شور پڑگیا لیکن کتاب نہ ملی۔ ہر کوئی اپنے بیگ کو دیکھ رہا تھا۔


ماسٹر جی کو جب بات کا علم ہوا تو انہوں نے کلاس میں اعلان کیا جس کسی کے پاس بھی اس بچے کی کتاب ہے دے دو اگر میں نے تلاشی لی اور پھر کسی کے پاس سے نکلی تو معافی نہ ہوگی۔ تھوڑی دیر انتظار کے بعد جب کوئی بھی سامنے نہ آیا تو ماسٹر جی نے بچے کو حکم دیا جاکر ایک ایک کے بیگ کی تلاشی لو۔ بچے نے ایک ایک کر کے سب کے بیگ کی تلاشی لینا شروع کردی۔ کچھ بچوں کے بیگ کی تلاشی لی پر کچھ نہ ملا اب علی کے بیگ کی تلاشی کا نمبر تھا۔


علی نے خود آگے بڑھ کر اپنے بیگ کی تلاشی دینے لگا کیونکہ علی کو اندازہ نہیں تھا کہ کتاب اس کے بیگ میں ہی ہے۔ علی بیگ سے کتابیں باہر نکالنے میں مصروف تھا کہ اچانک سے اس لڑکے کی کتاب باہر آگئی۔ علی کتاب کو دیکھ کر حیران ہوا۔ اس کے ہاتھ کانپنے لگے۔ علی کو کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی لیکن کتاب علی کے بیگ سے ملی تھی تو سب علی کو چور سمجھ رہے تھے۔


ماسٹر جی نے علی کو بہت ڈانٹا لیکن علی ایک ہی بات کو بار بار بول رہا تھا۔

مجھے نہیں معلوم یہ کتاب میرے بیگ میں کیسے آئی میں نے چوری نہیں کی، خدا گواہ ہے۔

پر علی اپنی بے گناہی ثابت نہ کرسکا۔ ماسٹر جی علی کو سزا کے طور پر مارنے لگے۔ کلاس میں خاموشی چھا گئی۔ تبھی محمود فورا اپنی جگہ پر کھڑا ہوا اور بولا ۔

ماسٹر جی علی سچ بول رہا ہے، یہ کتاب اس نے نہیں چوری کی یہ کام تو حمزہ کا ہے۔ جب بریک میں سب باہر کھیلنے میں مصروف تھے اس دوران حمزہ نے یہ کتاب علی کے بیگ میں ڈالی تھی میں نے سب اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے، میں جھوٹ نہیں بول رہا۔


بس اس طرح سچ سب کے سامنے آیا۔ حمزہ کا چہرہ شرمندگی سے جھک گیا۔ ماسٹر جی نے حمزہ کو سزا کے طور پر مرغا بنایا اور اسے آئندہ ایسی شرارت نہ کرنے کی سختی سے نصیحت کی۔ علی محمود کی اچھائی دیکھ کر اپنے کیے پر بہت شرمندہ تھا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔


علی نے محمود سے اپنے کیے کی معافی مانگی اور کہا کہ تم نے میرے برے سلوک کے باوجود میری سچائی کا ساتھ دیا۔ محمود نے مسکراتے ہوئے اسے گلے لگا لیا اور معاف کر دیا۔ اس لیے ہی کہتے ہیں

اچھائی برائی سے بڑی ہوتی ہے اور سچائی ہمیشہ جیت جاتی ہے۔