پیر، 2 نومبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

شہرت کا جشن، انسانیت کا ماتم، تحریر:انیم چوہدری

نقطہ نظر

معروف ٹک ٹاکر مسٹر پتلو کی مہندی کی تقریب میں قرعہ اندازی کے دوران بھگدڑ مچنے سے ایک شخص جاں بحق اور چودہ افراد زخمی ہو گئے۔ ایک تقریب، جو خوشیوں کے نام پر سجائی گئی تھی، ایک خاندان کے لیے عمر بھر کا ماتم بن گئی۔

لیکن اس واقعے کو محض ایک حادثہ سمجھ کر نظرانداز کر دینا شاید ہماری سب سے بڑی غلطی ہوگی۔ یہ واقعہ ہمارے اجتماعی شعور، ترجیحات اور انسانی ذمہ داری کے تصور پر کئی سوالات چھوڑ گیا ہے۔اس تقریب میں گاڑی، موٹر سائیکلوں اور نقد انعامات کی قرعہ اندازی بھی ہونا تھی۔ بظاہر ان انعامات کی کشش لوگوں کی بڑی تعداد کو وہاں کھینچ لائی۔ ہر شخص کے دل میں شاید کوئی نہ کوئی امید تھی؛ کوئی گاڑی جیتنے کا خواب دیکھ رہا تھا، کوئی موٹر سائیکل کا خواہش مند تھا اور کوئی نقد انعام کی آس لگائے کھڑا تھا۔ مگر افسوس کہ انعامات کی اس دوڑ میں انسانی جان کی قیمت کہیں پس منظر میں چلی گئی۔

ہم بھی کتنے عجیب لوگ ہیں! کسی مشہور شخصیت کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے ہزاروں قدم چل سکتے ہیں، کسی انعام کی امید میں گھنٹوں کھڑے رہ سکتے ہیں، مگر اپنے حقوق کی بات آئے تو ہماری آواز کو جیسے گونگا پن آ جاتا ہے۔ ہمیں ہجوم کا حصہ بننے کا شوق ہے، مگر ذمہ دار شہری بننے کی خواہش شاید ابھی پیدا نہیں ہوئی۔

کسی کے فالوورز لاکھوں میں ہوں تو وہ ہماری توجہ کا مرکز بن جاتا ہے، کسی کی ویڈیو وائرل ہو جائے تو وہ قومی موضوع بن جاتی ہے، مگر کسی غریب کے گھر کا چولہا ٹھنڈا ہو، کسی نوجوان کی ڈگری بے روزگاری کی گرد میں گم ہو جائے یا کسی ماں کا بچہ علاج نہ ملنے سے زندگی ہار جائے تو ہماری اجتماعی حساسیت کہاں سو جاتی ہے؟

واہ رے ہماری ترجیحات! شہرت کی ایک جھلک کے لیے ہزاروں آنکھیں بے قرار، گاڑی اور موٹر سائیکل جیتنے کے لیے سینکڑوں امیدیں ایک جگہ جمع، مگر اپنے معاشرے کی بگڑتی ہوئی تصویر دیکھنے کے لیے چند نگاہیں بھی میسر نہیں!

سوال کسی کی خوشی منانے یا انعامات تقسیم کرنے پر اعتراض کا نہیں۔ ہر شخص کو خوش رہنے اور اپنی خوشیاں منانے کا حق ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر ہزاروں لوگوں کو جمع کرنے کی منصوبہ بندی ہو سکتی ہے، انعامات کی تشہیر اور تقسیم کا اہتمام ہو سکتا ہے تو ان کی حفاظت کی منصوبہ بندی کیوں نہیں؟ اگر تقریب کی تشہیر ضروری ہے تو حفاظتی انتظامات کیوں نہیں؟ اگر گاڑیاں، موٹر سائیکلیں اور نقد انعامات اہم ہیں تو انسانی جان ان سب سے زیادہ اہم کیوں نہیں؟

ہم کہاں سے چلے تھے اور کہاں آ پہنچے ہیں؟ کبھی انسان کی پہچان اس کے کردار، ظرف اور غیرت سے ہوا کرتی تھی، آج ہم انعام کی ایک امید پر اپنی عزت، احتیاط اور بعض اوقات دوسروں کی زندگیوں کا خیال تک بھلا بیٹھتے ہیں۔ گاڑی، موٹر سائیکل اور چند نقد نوٹوں کی کشش ہمیں ایسے ہجوم کا حصہ بنا دیتی ہے جہاں یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ ہمارے ساتھ کھڑے لوگ بھی ہماری طرح کسی کے بیٹے، باپ، بھائی یا گھر کے واحد کفیل ہو سکتے ہیں۔

آخر ہم کیا تھے اور کیا ہو گئے ہیں؟ کیا چند لمحوں کی خوشی اور کسی انعام کی لالچ انسانی وقار اور جان سے بڑھ کر ہو گئی ہے؟ آج ہم انعام حاصل کرنے کی خواہش میں کس حد تک جا سکتے ہیں، شاید اس کا اندازہ ہمیں اس سانحے سے ہو جانا چاہیے۔ افسوس کہ ہم نے انعام جیتنے کی خواہش تو پال لی، مگر انسان بن کر جینے کا شعور کہیں کھو دیا۔ جس شخص نے شاید کسی انعام کی امید میں اس تقریب کا رخ کیا ہو، کیا اسے معلوم تھا کہ واپسی پر اس کے گھر والے اس کے انتظار میں بیٹھے ہوں گے؟ وہ کسی گاڑی یا موٹر سائیکل کا خواب لے کر آیا تھا یا زندگی ہی سے محروم ہو جائے گا؟ یہ سوال کسی ایک تقریب کا نہیں، ہماری اجتماعی بے حسی کا بھی ہے۔

ہمارے ہاں شہرت کے لیے اسٹیج سجائے جاتے ہیں، انعامات کے لیے اعلانات ہوتے ہیں، کیمروں کے سامنے مسکراہٹیں بکھرتی ہیں، مگر ذمہ داری کے لیے ضمیر کب بیدار ہوں گے؟ ہم نے انسانوں کو گننا تو سیکھ لیا، انسانیت کو سمجھنا ابھی باقی ہے۔ ہم تالیاں بجانے والے ہاتھ تو بہت پیدا کر چکے ہیں، مگر کسی گرتے ہوئے انسان کو تھامنے والے ہاتھ کم پڑ گئے ہیں۔

ایک شخص اس دنیا سے چلا گیا۔ اس کے گھر میں اب شاید اس کی واپسی کا انتظار نہیں، اس کی یاد کا ماتم ہوگا۔ دوسری طرف ہم چند دن افسوس کریں گے، کچھ پوسٹیں لکھیں گے، چند تبصرے کریں گے اور پھر کسی نئی وائرل ویڈیو کے پیچھے چل پڑیں گے۔ ہمارے لیے یہ ایک خبر ہے، مگر کسی ماں کے لیے یہ پوری زندگی کا وہ سوال ہے جس کا جواب کبھی نہیں ملے گا کہ میرا بیٹا واپس کیوں نہیں آیا؟یہی وجہ ہے کہ ہمیں صرف منتظمین کی ذمہ داری نہیں، اپنی اجتماعی سوچ کا بھی محاسبہ کرنا ہوگا۔ تقریب کی اجازت، حفاظتی انتظامات، ہجوم کا نظم، انعامات کی قرعہ اندازی کے طریقہ کار اور متعلقہ اداروں کی نگرانی جیسے معاملات کی شفاف تحقیقات ہونی چاہییں۔ اگر کسی کی غفلت ثابت ہو تو قانون کے مطابق جواب دہی بھی ہونی چاہیے۔

کیونکہ حادثات پر افسوس کرنا آسان ہے، مگر ایسے حادثات کی روک تھام کے لیے ذمہ داری قبول کرنا اصل شعور ہے۔ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ قومیں صرف بڑے اجتماعات سے نہیں بنتیں۔ قومیں اس وقت بنتی ہیں جب ایک شہری دوسرے کی زندگی کو اپنی زندگی جتنا قیمتی سمجھے، جب شہرت سے زیادہ کردار اہم ہو، جب تفریح کے ساتھ ذمہ داری بھی ہو اور جب انسانی جان ہر تقریب، ہر انعام اور ہر مقبولیت سے مقدم ہو۔ کب تک ہم ہجوم بن کر دوسروں کی خوشیوں کا حصہ بنتے رہیں گے اور اپنے معاشرے کے دکھوں سے لاتعلق رہیں گے؟گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں دوبارہ جیتی جا سکتی ہیں، نقد انعامات دوبارہ تقسیم ہو سکتے ہیں، مگر جو زندگی ایک بار چلی جائے، وہ کسی قرعہ اندازی میں واپس نہیں آتی۔ہجوم کی تعداد سے مقبولیت ثابت ہو سکتی ہے، مگر قوم کا شعور اس کے رویّوں سے پہچانا جاتا ہے۔