پاکستان کی سیاست آج ایک ایسے شور میں تبدیل ہو چکی ہے جس میں سب کی آواز سنائی دیتی ہے مگر عوام کی آواز کہیں دب جاتی ہے۔ جلسے ہوتے ہیں، بیانات آتے ہیں، الزامات لگتے ہیں، وعدے کیے جاتے ہیں اور پھر ایک نیا سیاسی تنازعہ جنم لے لیتا ہے۔ ٹی وی کی اسکرینوں سے لے کر سماجی میڈیا تک سیاسی بحث ہر طرف موجود ہے لیکن اس شور کے درمیان ایک سوال مسلسل خاموش ہے: عام آدمی کہاں کھڑا ہے؟
یہی عام آدمی جو صبح اپنے گھر سے نکلتے ہوئے روزگار کی فکر ساتھ لے کر نکلتا ہے، جو بچوں کی فیس، گھر کے کرائے، بجلی کے بل اور روزمرہ کی ضروریات کا حساب لگاتا ہے، جس کے لیے ہر نیا مہنگائی کا بوجھ زندگی کو مزید مشکل بنا دیتا ہے۔ وہ سیاست کے نعروں سے زیادہ اپنے گھر کے چولہے کی فکر کرتا ہے مگر افسوس کہ اس کی اصل پریشانی اکثر سیاسی شور میں کہیں گم ہو جاتی ہے۔
ہماری سیاست میں اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہونا چاہیے مگر جب اختلاف دشمنی بن جائے تو نقصان صرف سیاسی جماعتوں کا نہیں، پورے معاشرے کا ہوتا ہے۔ آج ہم ایک دوسرے کی سیاسی وابستگی کو دیکھ کر انسان کی قدر کرنے لگے ہیں۔ کوئی ہماری پسند کا مؤقف رکھتا ہے تو وہ اچھا اور اگر اختلاف کرے تو فوراً برا۔ یوں سیاست نے ہمارے گھروں، دوستوں اور معاشرتی تعلقات تک میں فاصلے پیدا کر دیے ہیں۔
سوال یہ نہیں کہ کون سی جماعت صحیح ہے اور کون سی غلط۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہماری سیاست عام آدمی کی زندگی آسان کر رہی ہے؟
عوام کو ایسی سیاست چاہیے جس میں روزگار کی بات ہو، تعلیم کی بات ہو، صحت کی بات ہو، امن و امان کی بات ہو، کسان کی بات ہو، مزدور کی بات ہو اور نوجوان کے مستقبل کی بات ہو۔ عوام کو ایسے وعدے نہیں چاہییں جو صرف انتخابی موسم میں یاد آئیں۔ انہیں عملی اقدامات چاہییں، انہیں ایسا نظام چاہیے جہاں ان کا جائز کام سفارش کے بغیر ہو، جہاں میرٹ کو عزت ملے اور جہاں قانون سب کے لیے برابر ہو۔
ایک مزدور کے لیے سیاست کا سب سے بڑا سوال یہ نہیں کہ اقتدار کس کے پاس ہے؛ اس کے لیے سوال یہ ہے کہ شام کو اس کے گھر میں چولہا جلے گا یا نہیں۔ ایک طالب علم کے لیے سوال یہ ہے کہ اسے معیاری تعلیم اور بہتر مستقبل ملے گا یا نہیں۔ ایک نوجوان کے لیے سوال یہ ہے کہ اسے اپنے ملک میں باعزت روزگار ملے گا یا اسے اپنے خوابوں کے ساتھ ہجرت کرنا پڑے گی۔
یہی وہ سوال ہیں جن کے جواب عوام چاہتے ہیں۔
ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ سیاست دانوں کے ساتھ ساتھ عوام کی بھی ذمہ داری ہے۔ ہم ووٹ دیتے ہیں، نمائندے منتخب کرتے ہیں اور پھر پانچ سال تک صرف شکایت کرتے رہتے ہیں۔ جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے کا نام نہیں بلکہ اپنے نمائندوں سے سوال کرنے، ان کی کارکردگی دیکھنے اور اپنے فیصلوں میں شعور پیدا کرنے کا نام بھی ہے۔
ہمیں شخصیت پرستی سے نکل کر کارکردگی کی سیاست کی طرف آنا ہوگا۔ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ کون ہمارے لیے کیا کر رہا ہے؟ نہ کہ کون ہمارے جذبات کو زیادہ بھڑکا سکتا ہے۔
آج پاکستان کو نفرت کے مزید نعروں کی نہیں، برداشت کی ضرورت ہے۔ ہمیں ایسی سیاست چاہیے جو مخالف کو دشمن نہ سمجھے، اختلاف کو غداری نہ کہے اور اقتدار کو خدمت کا ذریعہ سمجھے۔ سیاست اگر خدمت بن جائے تو ملک مضبوط ہوتا ہے لیکن اگر سیاست صرف اقتدار کی جنگ بن جائے تو سب سے زیادہ نقصان عوام کا ہوتا ہے۔
عوام تھک چکے ہیں۔ وہ سیاسی شور میں اپنی خاموش چیخ سنوانا چاہتے ہیں۔ وہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ ان کے مسائل کب حل ہوں گے؟ ان کے بچوں کا مستقبل کب محفوظ ہوگا؟ مہنگائی کے بوجھ سے کب نجات ملے گی؟ میرٹ کب مضبوط ہوگا؟ اداروں پر اعتماد کب بحال ہوگا؟ یہ سوال کسی ایک جماعت کے نہیں، پورے پاکستان کے ہیں۔
اب وقت ہے کہ سیاست کے شور میں عوام کی آواز کو مرکز بنایا جائے۔ اقتدار آنے جانے والی چیز ہے مگر ملک اور عوام ہمیشہ رہتے ہیں۔ سیاسی جماعتیں بدل سکتی ہیں، حکومتیں بدل سکتی ہیں، چہرے بدل سکتے ہیں مگر پاکستان ہم سب کا مشترکہ گھر ہے۔
ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم سیاست کو تقسیم کا ذریعہ بنائیں گے یا تعمیر کا کیونکہ آخر میں تاریخ یہ نہیں پوچھے گی کہ کس نے کتنے نعرے لگائے تھے؛ تاریخ یہ ضرور پوچھے گی کہ جب عوام مشکلات میں تھے تو اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے لوگوں نے ان کے لیے کیا کیا؟ اور شاید یہی وہ سوال ہے جس کا جواب آج پاکستان کا خاموش عوامی چہرہ مانگ رہا ہے۔
سیاست کا شور بہت ہے مگر اب وقت ہے کہ عوام کی خاموش چیخ بھی سنی جائے۔
مزید پڑھیں






