بدھ، 21 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

رٹّا سسٹم اور سوچنے والے ذہن،تحریر : سدرہ قیوم

نقطہ نظر

ایک استاد نے کلاس میں پوچھا: "پانی کا کیمیائی فارمولا کیا ہے؟" پوری جماعت نے یک زبان ہو کر جواب دیا: "H2O۔" استاد نے دوسرا سوال کیا: "اگر پانی گرم کریں تو کیا ہوگا؟" کمرے میں سناٹا چھا گیا۔ سوال کتاب کے آخر میں دیے گئے سوالات میں شامل نہیں تھا۔

یہ لطیفہ نہیں، ہمارے تعلیمی نظام کی تصویر ہے۔ ہم نے بچوں کو جوابات تو ازبر کرا دیے ہیں، مگر سوال کرنا نہیں سکھایا۔

ہمارے ہاں ذہین بچے کی پہچان یہ ہے کہ وہ سبق طوطے کی طرح سنا دے۔ جس دن بچہ پورا باب بغیر اٹکے سنا دیتا ہے، گھر میں خوشی منائی جاتی ہے۔ اور جس دن وہ پوچھ لیتا ہے کہ "یہ ایسے کیوں ہوتا ہے؟" اسے جواب ملتا ہے: "پہلے یاد کرو، پھر سوال کرنا۔" وہ "پھر" کبھی نہیں آتا۔

امتحانی پرچے بھی اسی سوچ کی عکاسی کرتے ہیں۔ کئی سال کے پرچے اٹھا کر دیکھ لیجیے، سوالات کم و بیش وہی ہوتے ہیں۔ طالب علم کو معلوم ہے کہ کون سے دس سوال آئیں گے، اس لیے وہ باقی کتاب کو ہاتھ لگانا بھی وقت کا ضیاع سمجھتا ہے۔ گائیڈ بکس اور گیس پیپرز کا کاروبار اسی لیے چل رہا ہے۔ جب کامیابی کا راستہ شارٹ کٹ سے گزرتا ہو تو سمجھ بوجھ کی لمبی راہ کون اختیار کرے؟

رٹّا فوری فائدہ دیتا ہے، مگر اس کی عمر بہت مختصر ہوتی ہے۔ امتحان کے اگلے ہفتے تک معلومات ذہن سے یوں غائب ہو جاتی ہیں جیسے کبھی تھیں ہی نہیں۔ اصل نقصان اس سے بڑا ہے: رٹّا ذہن کو یہ سکھا دیتا ہے کہ علم کا مطلب ہے "جو کہا گیا، وہ دہرا دو"۔ پھر یہی عادت عملی زندگی میں بھی ساتھ چلتی ہے۔

دفتروں میں ہم دیکھتے ہیں کہ نوجوان ڈگری ہاتھ میں لیے آتے ہیں مگر جب کوئی نیا مسئلہ سامنے آئے، جو کسی نصابی مثال سے ہوبہو نہ ملتا ہو، تو وہ گھبرا جاتے ہیں۔ انہیں ہدایات چاہییں، مثال چاہیے، طریقہ چاہیے۔ خود سے حل نکالنے کی مشق انہیں کبھی کرائی ہی نہیں گئی۔ آجر شکایت کرتے ہیں کہ ہمارے گریجویٹ "تیار" نہیں ہوتے، اور شکایت غلط بھی نہیں۔

اس نظام کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ یہ سوال کو بدتمیزی بنا دیتا ہے۔ جس کلاس میں سوال پوچھنے پر ہنسی اڑائی جائے یا ڈانٹ پڑے، وہاں بچہ جلد سیکھ لیتا ہے کہ خاموش رہنا ہی عافیت ہے۔ یہی بچہ بڑا ہو کر دفتر میں باس سے، محلے میں بااثر شخص سے اور معاشرے میں ہر طاقتور سے سوال کرنے سے ڈرتا ہے۔ ہم پھر حیران ہوتے ہیں کہ ہمارے ہاں احتساب کی روایت کیوں کمزور ہے۔ احتساب کا پہلا سبق تو کلاس روم میں ہی دبا دیا گیا تھا۔

یہاں استاد کو اکیلا مجرم ٹھہرانا آسان بھی ہے اور غلط بھی۔ جس استاد کے سامنے پچاس ساٹھ بچے ہوں، جسے سلیبس مکمل کرنے کا دباؤ ہو اور جس کی کارکردگی کا پیمانہ طلبہ کے نتائج ہوں، وہ تخلیقی تدریس کی عیاشی کہاں سے لائے؟ والدین بھی اسی دباؤ کا حصہ ہیں، کیونکہ رشتہ داروں میں بچے کی قدر اس کے گریڈ سے طے ہوتی ہے۔ یہ ایک پورا سلسلہ ہے جس کی ہر کڑی دوسری کو مضبوط کرتی ہے۔

حل کسی ایک اقدام میں نہیں، مگر آغاز ممکن ہے۔ پرچوں میں ایسے سوالات بڑھائے جائیں جن کا جواب کتاب سے نقل نہ ہو سکے، جیسے "اپنی رائے دیجیے"، "مثال سے واضح کیجیے" اور "اگر ایسا نہ ہوتا تو؟" اساتذہ کی تربیت میں یہ شامل ہو کہ سوال کو خوش آمدید کیسے کہا جاتا ہے۔ نصاب میں عملی کام اور مشاہدے کو وزن دیا جائے۔ اور والدین گھر میں بچے سے یہ پوچھنا شروع کریں کہ "آج تم نے کیا نیا سوچا؟" کی بجائے کہ "آج کتنے نمبر آئے؟"

آخر میں ایک سادہ سی بات: ہم بچوں کو دنیا کے سب سے بڑے سوالات کے تیار شدہ جوابات تھما کر ان سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ کل کے مسائل حل کریں گے۔ مگر مستقبل کے مسائل کے جوابات آج کی کتابوں میں نہیں لکھے۔ انہیں وہی حل کرے گا جسے سوچنا آتا ہو۔ اور سوچنا سکھایا نہیں جاتا، پروان چڑھایا جاتا ہے، بالکل ویسے ہی جیسے پودا۔ شرط صرف یہ ہے کہ ہم اسے رٹّے کے پتھر تلے نہ دبائیں۔