عمر اپنے خاندان میں سب سے اعلیٰ تربیت یافتہ اور بہت ہی سمجھدار بچہ تھا جو کہ اپنی اچھی عادتوں اور خوش اخلاقی کی وجہ سے سب کا منظور نظر تھا محلے میں اگر کوئی بزرگ بیمار ہوتا تو عمر سب سے پہلے اس کی عیادت کو جاتا اگر مسجد میں کسی کو پانی کی ضرورت ہوتی تو عمر دوڑ کر گلاس بھر لاتا اس کی زبان پر ہمیشہ سلام اور چہرے پر مسکراہٹ رہتی تھی
سب عمر کو محبت کی نظر سے دیکھتے تھے اس کی مثالیں دیتے تھے اور اپنے بچوں کو کہتے تھے کہ عمر جیسا بنو لیکن عمر کی ایک عادت سے اس کے گھر والے بہت پریشان تھے اور وہ تھے عمر کے دوست
عمر کے دوست محلے کے وہ لڑکے تھے جو اسکول سے بھاگنے گلی میں کھڑے ہو کر آتے جاتے لوگوں پر آوازیں کسنے دیواروں پر بے ہودہ لکیریں کھینچنے اور ہر وقت کسی نہ کسی کو تنگ کرنے میں مشہور تھے وہ سارا دن گلی کے نکڑ پر بیٹھے رہتے سگریٹ کے ٹوٹے چھپ کر پیتے اور بڑوں کی باتوں کا مذاق اڑاتے لیکن عمر ان کی ان عادتوں سے بالکل بے خبر تھا وہ سمجھتا تھا کہ دوستی میں عیب نہیں دیکھے جاتے دوست جیسے بھی ہوں دل کے اچھے ہیں
عمر کے گھر والے بھی اسی وجہ سے پریشان تھے کہ کہیں عمر بھی ان کے جیسا ہی نہ ہو جائے اس کی والدہ اکثر کہتیں بیٹا انسان کو پرکھا نہیں جاتا اس کی صحبت کو دیکھا جاتا ہے لیکن عمر ہنس کر ٹال دیتا والد صاحب کئی بار نرمی سے سمجھا چکے تھے کہ بیٹا کوئلے کی کان میں جاؤ گے تو ہاتھ کالے ہوں گے چاہے تم کتنے ہی صاف ستھرے کیوں نہ ہو مگر گھر والوں کے لاکھ سمجھانے پر بھی عمر کا اٹھنا بیٹھنا ان دوستوں کے ساتھ ہی تھا وہ اسکول کے بعد سیدھا انہی کے پاس چلا جاتا اور مغرب تک وہیں وقت ضائع کرتا
آہستہ آہستہ محلے والوں کی نظریں بدلنے لگیں جو لوگ کل تک عمر کو دیکھ کر کہتے تھے کہ ماشاءاللہ کتنا اچھا بچہ ہے اب کہتے ارے یہ تو انہی آوارہ لڑکوں کے ساتھ پھرتا ہے عمر کو اس بات کا احساس ہی نہیں تھا کہ اس کی اپنی پہچان اس کی اپنی عزت اس کی بری صحبت کی وجہ سے داؤ پر لگ رہی ہے
ایک رات عمر جب معمول سے بہت دیر سے گھر لوٹا تو اس کے کپڑے مٹی سے بھرے ہوئے تھے اور آنکھیں جھکی ہوئی تھیں دراصل اس کے دوستوں نے ایک دکاندار کے کیلے کے چھلکے راستے میں پھینک دیے تھے اور ایک بزرگ پھسل کر گرنے لگے تھے لوگوں نے سمجھا عمر بھی اس شرارت میں شامل تھا
عمر کے والد صاحب صحن میں اسی کے انتظار میں بیٹھے تھے انہوں نے غصہ نہیں کیا بڑے پیار سے عمر کو اپنے پاس بلایا اور کہنے لگے بیٹھو بیٹا میں آج تمہیں ایک واقعہ سناتا ہوں
عمر خاموشی سے والد صاحب کے قدموں میں بیٹھ گیا اور سر جھکا کر ان کی بات سننے لگا
بیٹا عمر ہم جب بازار سے کوئی چیز خریدنے جاتے ہیں تو ہم اچھی سے اچھی دکان کا ہی انتخاب کیوں کرتے ہیں عمر کے والد نے عمر سے سوال کیا
عمر نے تھوڑا سوچا اور پھر مطمئن انداز میں جواب دیا تاکہ ہم اچھی اور معیاری چیز خرید سکیں بابا جان
ہمیں کیسے معلوم ہوتا ہے کہ وہ چیز اچھی اور معیاری ہوگی عمر کی بات پوری ہوتے ہی والد صاحب نے ایک اور سوال کر دیا
کیونکہ وہ دکان مارکیٹ کی بڑی اور سب سے اچھی دکان ہے بابا ان کی دکان کے ماحول سے ہی اندازہ ہو جاتا ہے کہ یہاں اچھی اور معیاری چیز دستیاب ہے وہاں صفائی ہوتی ہے خوشبو ہوتی ہے چیزوں کو سلیقے سے رکھا ہوتا ہے عمر نے پھر ایک بار مطمئن انداز سے جواب دیا
والد صاحب مسکرائے اور بولے بالکل ٹھیک کہا بیٹا تم نے خود ہی میرے سوال کا جواب دے دیا
وہ تھوڑا آگے ہوئے اور عمر کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولے بیٹا بالکل اسی طرح انسان بھی ایک دکان کی طرح ہے آپ کے ارد گرد کا ماحول ہی آپ کی پہچان ہوتا ہے اگر آپ اچھے بھی ہیں پر آپ کے ارد گرد کا ماحول اچھا نہیں ہے تو لوگ آپ کو بھی برا ہی سمجھیں گے تم کتنے ہی اچھے کیوں نہ ہو اگر تمہارے دوست برے ہوں گے تو دنیا تمہیں بھی برا ہی کہے گی
اسی طرح آپ کے دوست آپ کی محفل آپ کا اٹھنا بیٹھنا ہی آپ کی پہچان ہوتی ہے بیٹا جی عطر فروش کے پاس بیٹھو گے تو خوشبو آئے گی اور لوہار کے پاس بیٹھو گے تو چنگاریاں ہی کپڑوں پر پڑیں گی یہی صحبت کا اثر ہوتا ہے
عمر والد صاحب کی یہ حکمت بھری باتیں سن کر گہری سوچ میں ڈوب گیا اسے آج پہلی بار احساس ہوا کہ اس کے والدین اسے اس کے دوستوں سے دور کیوں کرنا چاہتے تھے وہ خاموش ہو گیا اور بہت شرمندہ ہوا اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اسے وہ بزرگ یاد آئے جو آج اس کی وجہ سے گرنے لگے تھے اور محلے والوں کی وہ بدلتی ہوئی نظریں یاد آئیں
عمر نے اسی وقت اپنے والد صاحب کے ہاتھ تھام لیے اور روتے ہوئے معافی مانگی بابا جان آپ نے آج میری آنکھیں کھول دیں آج سے میری صحبت صرف اچھے لوگوں سے ہوگی
والد صاحب نے اسے گلے سے لگا لیا
عمر نے پھر اپنے کیے کا عہد نبھایا اور آہستہ آہستہ ان برے دوستوں سے کنارہ کشی اختیار کر لی اس نے مسجد کے اچھے نمازی اور محنتی لڑکوں کو اپنا دوست بنایا کچھ ہی مہینوں میں عمر کی کھوئی ہوئی عزت پھر سے بحال ہو گئی اور لوگ پھر سے کہنے لگے عمر تو واقعی اپنے نام کی طرح عمر بھر کی اچھی صحبت کی مثال ہے
مزید پڑھیں






