جمعرات، 29 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

دور حاضر میں تعلیم کا معیار، تحریر:انیم چوہدری

نقطہ نظر

تعلیم کسی قوم کے مستقبل کی وہ بنیاد ہے جس پر ترقی، شعور اور خوش حالی کی عمارت تعمیر ہوتی ہے۔ قوموں کی تقدیر صرف بلند و بالا عمارتوں، کشادہ سڑکوں اور جدید ٹیکنالوجی سے نہیں بدلتی، بلکہ اس وقت بدلتی ہے جب ان کے نوجوان سوچنے، سمجھنے، سوال کرنے اور درست فیصلے کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔ مگر آج ہمارے سامنے ایک اہم سوال ہے: کیا ہماری تعلیم واقعی ہمیں بہتر انسان اور باشعور شہری بنا رہی ہے، یا ہم صرف ڈگریاں حاصل کرنے کی دوڑ میں شامل ہیں؟

صبح کے وقت کسی سرکاری اسکول کے باہر سے گزریے۔ بستے اٹھائے ننھے بچے، آنکھوں میں خواب سجائے، اپنے مستقبل کی طرف بڑھتے دکھائی دیں گے۔ ان میں کوئی ڈاکٹر بننا چاہتا ہے، کوئی استاد، کوئی انجینئر اور کوئی اپنے والدین کی غربت ختم کرنے کا خواب دیکھتا ہے۔ مگر جب ان بچوں کی تعلیمی زندگی کا جائزہ لیتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہر بچے کو یکساں مواقع میسر نہیں۔ کسی کے پاس جدید سہولتوں سے آراستہ اسکول ہے، کسی کے پاس بجلی اور پینے کے صاف پانی جیسی بنیادی سہولت بھی نہیں۔ کسی کے لیے تعلیم ایک روشن مستقبل کا راستہ ہے، جبکہ کسی کے لیے یہ روزانہ کی جدوجہد کا نام ہے۔

یہی ہمارے تعلیمی نظام کی سب سے بڑی حقیقت ہے کہ ہم سب بچوں سے کامیابی کی توقع تو رکھتے ہیں، مگر انہیں کامیابی تک پہنچنے کے یکساں وسائل فراہم نہیں کرتے۔

تعلیم کا معیار صرف امتحان میں حاصل کردہ نمبروں سے نہیں، بلکہ انسان کی سوچ، کردار اور عملی صلاحیت سے پہچانا جاتا ہے۔

بدقسمتی سے ہمارے ہاں تعلیم کا ایک بڑا حصہ اب بھی رٹّے، نمبروں اور امتحانی نتائج کے گرد گھومتا ہے۔ طالب علم سبق یاد کرتا ہے، امتحان میں لکھتا ہے، نمبر حاصل کرتا ہے اور اگلی جماعت میں پہنچ جاتا ہے۔ لیکن کئی مرتبہ اسے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اس نے جو کچھ یاد کیا ہے، اسے عملی زندگی میں کیسے استعمال کرنا ہے۔ سوال پوچھنے والے طالب علم کو بعض اوقات حوصلہ افزائی کے بجائے خاموش رہنے کا مشورہ دیا جاتا ہے، حالاں کہ سوال ہی علم کے دروازے کھولتے ہیں۔

ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ کتاب کا مقصد محض صفحات یاد کروانا نہیں، بلکہ ذہن کو بیدار کرنا ہے۔ اگر ایک طالب علم اعلیٰ نمبر حاصل کرنے کے باوجود سچ اور جھوٹ میں فرق نہ کر سکے، دوسروں کے حقوق کا احترام نہ کرے اور اپنی صلاحیتوں کو معاشرے کی بہتری کے لیے استعمال نہ کر سکے تو ہمیں اپنے تعلیمی معیار پر ضرور غور کرنا چاہیے۔

دورِ حاضر میں تعلیم کے معیار کا ایک اہم پہلو اساتذہ کی تربیت اور ان کی معاشی و پیشہ ورانہ حالت بھی ہے۔ استاد کسی بھی تعلیمی نظام کی روح ہوتا ہے۔ ایک اچھا استاد صرف سبق نہیں پڑھاتا، بلکہ طالب علم کے اندر چھپی ہوئی صلاحیتوں کو پہچانتا، اس کی حوصلہ افزائی کرتا اور اسے زندگی کے نشیب و فراز کا سامنا کرنے کے قابل بناتا ہے۔ مگر جب استاد کو مناسب تربیت، ضروری وسائل اور پیشہ ورانہ ترقی کے مواقع میسر نہ ہوں تو تعلیمی عمل متاثر ہوتا ہے۔

ہمیں ایسے اساتذہ درکار ہیں جو بچوں کو صرف جواب یاد نہ کروائیں، بلکہ انہیں جواب تلاش کرنا بھی سکھائیں۔ جو غلطی پر تضحیک کے بجائے رہنمائی کریں، اور جو طالب علم کے کمزور نتائج کو اس کی پوری شخصیت کا فیصلہ نہ سمجھیں۔ استاد کی عزت اپنی جگہ، لیکن تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے اساتذہ کی مسلسل تربیت اور کارکردگی میں بہتری بھی ناگزیر ہے۔

ہمارے معاشرے میں سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کے درمیان فرق بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ بہت سے والدین اپنے بچوں کو بہتر تعلیم دلانے کے لیے اپنی آمدنی کا بڑا حصہ فیسوں پر خرچ کرتے ہیں۔ دوسری طرف کم آمدنی والے خاندانوں کے بچے محدود وسائل میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ تعلیم اگر معاشرتی ترقی کا ذریعہ ہے تو اسے ایسی سہولت بننا چاہیے جس تک ہر بچے کی رسائی ممکن ہو، نہ کہ ایسا امتیاز جو کسی کے مالی حالات کے ساتھ بڑھتا چلا جائے۔

یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ غربت، مہنگائی اور گھریلو مسائل کئی بچوں کو تعلیم سے دور کر دیتے ہیں۔ کچھ بچے کتابیں چھوڑ کر روزگار کی تلاش میں نکل پڑتے ہیں، کیونکہ ان کے گھر میں خوابوں سے پہلے روٹی کی ضرورت پوری کرنا ضروری ہوتا ہے۔ ایسے حالات میں صرف والدین کو قصوروار ٹھہرانا مناسب نہیں۔ ریاست، تعلیمی اداروں اور معاشرے کو مل کر ایسے اقدامات کرنے چاہییں جن سے مستحق بچوں کو کتابیں، وظائف، محفوظ تعلیمی ماحول اور تعلیم جاری رکھنے کے مواقع میسر آ سکیں۔

دوسری جانب، جدید ٹیکنالوجی نے تعلیم کے لیے نئے امکانات پیدا کیے ہیں۔ انٹرنیٹ، ڈیجیٹل کتب اور آن لائن تدریس کے ذریعے علم تک رسائی پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہو سکتی ہے۔ مصنوعی ذہانت بھی طالب علموں کو تصورات سمجھنے، زبان بہتر بنانے اور تحقیق میں مدد دے سکتی ہے۔ لیکن ٹیکنالوجی اسی وقت فائدہ مند ہے جب اسے درست رہنمائی کے ساتھ استعمال کیا جائے۔ اگر طالب علم ہر سوال کا جواب خود سوچنے کے بجائے کسی نظام سے نقل کرنے لگیں تو سہولت علم میں اضافے کے بجائے ذہنی کاہلی کا سبب بھی بن سکتی ہے۔

اس لیے ضروری ہے کہ طلبہ کو ٹیکنالوجی کے استعمال کے ساتھ تحقیق، تنقیدی سوچ، اخلاقی ذمہ داری اور معلومات کی تصدیق کا طریقہ بھی سکھایا جائے۔ انہیں یہ سمجھنا چاہیے کہ ہر دستیاب معلومات درست نہیں ہوتی اور ہر آسان راستہ سیکھنے کا بہترین راستہ نہیں ہوتا۔

تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے نصاب کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا، سائنسی اور فنی تعلیم کو فروغ دینا، عملی تربیت کے مواقع بڑھانا اور امتحانی نظام میں ایسی تبدیلیاں لانا ضروری ہے جو محض یادداشت کے بجائے سمجھ بوجھ کو جانچیں۔ طلبہ کو کتابی علم کے ساتھ ابلاغ، مسئلہ حل کرنے، مالی شعور، شہری ذمہ داری اور اخلاقی اقدار بھی سکھائی جانی چاہییں۔ اسی طرح تعلیمی اداروں میں کھیل، مطالعے، تخلیقی سرگرمیوں اور تحقیق کے لیے مناسب مواقع فراہم کرنا بھی اہم ہے۔

تاہم اصلاحات صرف پالیسیوں اور اعلانات سے کامیاب نہیں ہوتیں۔ ان کے لیے مستقل مزاجی، شفاف نگرانی اور عملی اقدامات درکار ہوتے ہیں۔ حکومت کو تعلیم کے لیے وسائل مختص کرنے کے ساتھ ان کے مؤثر استعمال کو یقینی بنانا چاہیے۔ والدین کو بچوں پر صرف نمبروں کا دباؤ ڈالنے کے بجائے ان کی دلچسپیوں اور صلاحیتوں کو سمجھنا چاہیے۔ اساتذہ کو تدریس کو محض ملازمت نہیں بلکہ ایک ذمہ داری سمجھنا چاہیے، اور طلبہ کو بھی علم کے حصول میں اپنی محنت اور دیانت کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

آخر میں، ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم ایسی نسل تیار کرنا چاہتے ہیں جو صرف امتحان پاس کرنا جانتی ہو، یا ایسی نسل جو زندگی کے امتحان میں بھی سرخرو ہو سکے۔ ہمیں ایسی تعلیم چاہیے جو نوجوانوں کو ملازمت کے قابل بنانے کے ساتھ اچھا انسان، ذمہ دار شہری اور خوداعتماد فرد بھی بنائے۔ ڈگری کسی انسان کی تعلیمی قابلیت کا ثبوت ہو سکتی ہے، مگر اس کے علم، کردار اور شعور کی مکمل ضمانت نہیں۔ تعلیم کا اصل کمال یہ ہے کہ وہ انسان کو صرف اپنے لیے جینا نہیں، بلکہ دوسروں کے لیے مفید ہونا بھی سکھائے۔

کیونکہ قوموں کا مستقبل اس بات سے طے نہیں ہوتا کہ ان کے کتنے بچے ڈگریاں حاصل کرتے ہیں، بلکہ اس بات سے طے ہوتا ہے کہ ان ڈگریوں کے ساتھ کتنے باشعور ذہن، کتنے باکردار انسان اور کتنے ذمہ دار شہری پروان چڑھتے ہیں۔