بندگی اور ترقی کا زینہ "شعور" تحریر: ڈاکٹر نازیہ ندیم
نقطہ نظر
قرآنِ حکیم کی شاندار حکمت کا اعلان ہے کہ "اور جسے حکمت دی گئی، یقیناً اسے بڑی خیرِ کثیر عطا کی گئی" (سورۃ البقرۃ: 269)۔ الٰہی کا یہ ابدی فرمان اس حقیقت کی روشن ترین گواہی ہے کہ انسانی وجود، فکری ارتقا اور باطنی ترقی کا اصل معیار اور اعلیٰ ترین منزل صرف اور صرف 'شعور' اور 'حکمت' ہے۔ جب ہم دنیا کی تاریخ، علمی روایتوں اور طبی سائنس کا دیانت دارانہ تجزیہ کرتے ہیں تو تعلیم، ڈگری اور شعور کے دائرے الگ الگ اور واضح دکھائی دیتے ہیں۔ بظاہر یہ تینوں الفاظ ایک ہی سفر کی منزلیں معلوم ہوتے ہیں، مگر فکری، اخلاقی اور سائنسی کسوٹی پر پرکھا جائے تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ شعور ہی وہ صفتِ عالیہ ہے جو باقی تمام صفات پر مقدم ہے، جبکہ تعلیم اس فکری بیداری کا ایک وسیلہ اور ڈگری اس تعلیمی سفر کی محض ایک انتظامی تصدیق ہے۔
اگر ہم انسانی دنیا میں تعلیم کی افادیت پر غور کریں تو تعلیم دراصل عقل کو صیقل کرنے اور انسان کو معلومات و ہنر سے آراستہ کرنے کا نام ہے۔ دینِ مبین نے سب سے پہلا پیغام ہی حصولِ علم کا دیا، جہاں وحی کا آغاز 'اقرأ' یعنی 'پڑھیے' کے مبارک حکم سے ہوا (سورۃ العلق: 1)۔ قرآنِ کریم نے علم رکھنے والوں کے مقام کو واضح کرتے ہوئے پوچھا کہ "کہہ دیجیے کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر ہو سکتے ہیں؟" (سورۃ الزمر: 9)۔ رسولِ پاک ﷺ نے علم کی طلب کو فرض قرار دیا کہ "علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے" (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر: 224)۔ جدید دور کے سائنسی مفکر البرٹ آئن سٹائن نے بھی اسی بات کو یوں دہرایا تھا کہ تعلیم وہ ہے جو سب کچھ بھول جانے کے بعد آپ کے اندر باقی رہ جائے۔ تعلیم انسان کے ذہن کو کشادہ کرتی ہے، اس کو تحقیق و دلیل کی راہ دکھاتی ہے اور مختلف علوم و فنون میں مہارت فراہم کرتی ہے۔ تاہم اگر یہی تعلیم محض معلومات کا ذخیرہ بن کر رہ جائے اور انسان کے اندر باطنی بیداری پیدا نہ کر سکے تو وہ روح سے خالی ایک ڈھانچہ بن جاتی ہے۔
اسی طرح جب ہم عصری انتظامی اور معاشی ضروریات کو دیکھتے ہیں تو وہاں ڈگری کی اہمیت بھی نظر آتی ہے۔ ڈگری درحقیقت کسی مقررہ تعلیمی معیار، باقاعدہ جانچ اور پیشہ ورانہ تخصیص کی قانونی گواہی ہے۔ معاشرتی اور معاشی نظم کو چلانے کے لیے ڈگری کی افادیت اپنی جگہ مسلمہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشادِ مبارک ہے کہ "اللہ تعالیٰ اس بات کو پسند فرماتا ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص کوئی کام کرے تو اسے پختگی اور مہارت کے ساتھ کرے" (شعب الإیمان للبیہقی، حدیث نمبر: 4929)۔ ڈگری اسی مہارت اور باقاعدہ اہلیت کی دستاویزی گواہی بنتی ہے۔ طب، انجینئرنگ، قانون اور دیگر سائنسوں میں ادارے اسی فرد کو ذمہ داری سونپتے ہیں جس کے پاس معتبر ادارے کی سند ہو۔ ڈگری روزگار کا وسیلہ بنتی ہے اور معاشی زندگی میں سہولت فراہم کرتی ہے، لیکن اس کا دائرہ کار صرف انتظامی اور پیشہ ورانہ سرحدوں تک محدود ہے۔ ڈگری انسان کو سند یافتہ تو بنا سکتی ہے، مگر وہ اس کی اخلاقی بصیرت اور انسان دوستی کی ضامن نہیں ہو سکتی۔
ایک معالج کی حیثیت سے اگر طبی اور نفسیاتی زاویے سے دیکھا جائے تو شعور محض ایک اخلاقی یا فلسفیانہ مفہوم نہیں، بلکہ انسانی زندگی، صحت اور شفا کا سب سے بنیادی اور حیاتیاتی ستون ہے۔ نیورولوجی اور ہنگامی طب میں انسان کی زندگی کا سب سے پہلا معائینہ ہی اس کے شعور کی سطح سے کیا جاتا ہے، کیونکہ اگر انسانی جسم قائم بھی رہے مگر شعور معطل ہو جائے تو اس کی تمام صلاحیتیں اور علم بے کار ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح نفسیاتی معالجے میں تمام تر ذہنی و جذباتی عوارض کا علاج انسان کے باطنی شعور کو بیدار کرنے سے جڑا ہے۔ جب تک مریض کے اندر اپنی ذات، ذہنی تناؤ اور باطنی کیفیت کا ادراک نہ ہو، وہ اضطراب اور خوف سے باہر نہیں نکل سکتا۔ دوسری طرف ایک طبیب کے لیے محض ڈگری اور کتابی معلومات نسخہ لکھنے اور دوا کا نام جاننے تک محدود ہوتی ہیں، لیکن مریض کی کراہ کے پیچھے چھپے ہوئے اصل درد کو محسوس کرنا، اس کے نفسیاتی احوال کو سمجھنا اور اسے شفا کی طرف لے جانا صرف معالج کے اپنے گہرے اور بیدار شعور کا کام ہے۔
یہیں سے یہ فکری بحث اپنے اصل نقطے پر پہنچتی ہے کہ شعور ہی کیوں تمام صفات میں سب سے مقدم، اعلیٰ اور افضل ہے۔ شعور دراصل انسان کے باطن کی وہ بیداری، قلبی بصیرت اور ادراک کی وہ معراج ہے جہاں انسان اپنے خالق، اپنی ذات اور اپنے معاشرتی فرائض کا سچا فہم حاصل کرتا ہے۔ شعور وہ باطنی کسوٹی ہے جو کھرے اور کھوٹے، حق اور باطل، اور خیر اور شر میں تمیز سکھاتی ہے۔ اگر علم اور ڈگری کے ساتھ شعور کی چاشنی شامل نہ ہو تو قرآنِ پاک ایسی بے عمل اور بے شعور علمی حالت کو گدھے پر لدی کتابوں کی تشبیہ دیتا ہے جو بوجھ تو اٹھاتا ہے مگر اس کی روح سے ناآشنا رہتا ہے (سورۃ الجمعۃ: 5)۔ یہی وجہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ اکثر یہ دعا مانگا کرتے تھے کہ "اے اللہ! میں تجھ سے ایسے علم سے پناہ مانگتا ہوں جو نفع نہ دے" (صحیح مسلم، حدیث نمبر: 2722)۔ نفع بخش علم وہی ہے جو انسان میں باطنی بصیرت اور شعور بیدار کرے۔ ارسطو نے بجا کہا تھا کہ دل اور اخلاق کو سنوارے بغیر محض ذہن کو تعلیم دینا کوئی تعلیم نہیں، اور برٹرینڈ رسل نے خبردار کیا تھا کہ دنیا کے پاس معلومات کا انبار تو ہے مگر حکمت و شعور کی شدید کمی ہے۔ علامہ اقبال نے بھی اسی حقیقت کو اجاگر کیا کہ محض عقل و معلومات انسان کو خشک اور بے روح رکھتی ہیں جب تک کہ اس کے ساتھ شعورِ بندگی شامل نہ ہو۔
موازنہ کیا جائے تو ڈگری آپ کو ایک اچھا عہدہ اور روزگار دلا سکتی ہے، تعلیم آپ کو ماہرِ فن اور کائیاں معمار یا سائنس دان بنا سکتی ہے، مگر انسان کے اندر انسانیت پیدا کرنا اور اسے اخلاق کے اعلیٰ ترین درجے پر فائز کرنا صرف شعور کا کام ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ شعور کے بغیر اعلیٰ ترین اسناد اور وسیع تعلیم رکھنے والے افراد نے اپنے علم اور تکنیکی مہارت کو جنگ و جدل، سفاکی، ناانصافی اور معاشرتی بگاڑ کے لیے استعمال کیا۔ اگر انسان کے اندر باطنی بصیرت نہ ہو تو علم تکبر بن جاتا ہے اور ڈگری غرور کا ذریعہ۔ پس ڈگری اور تعلیم محض ذرائع اور اوزار ہیں، جبکہ شعور ان کا اصل مقصد، روح اور حاصل ہے۔
شعور کا اعلیٰ ترین مظہر انکسار اور خدمت ہے۔ عظیم مفکر سقراط کے نزدیک حقیقی شعور کا پہلا قدم یہ تسلیم کرنا ہے کہ انسان کا علم کتنا محدود ہے۔ نبوی تعلیمات میں بھی شعور کا لائحہ عمل یہی ہے کہ علم کے ساتھ عاجزی اختیار کی جائے، جیسا کہ ارشادِ گرامی ہے کہ "جس کے دل میں رائی کے دانے برابر بھی تکبر ہوگا، وہ جنت میں داخل نہ ہوگا" (صحیح مسلم، حدیث نمبر: 91)۔ شعور انسان کے اندر وسعت پیدا کرتا ہے اور اسے یہ احساس دلاتا ہے کہ دوسروں کا احترام اور ان کے دکھ درد کا مداوا ہی اصل دین اور اصل انسانیت ہے۔ حضورِ اکرم ﷺ کا فرمان ہے کہ "تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے" (صحیح بخاری، حدیث نمبر: 13)۔ سب سے کامل اور مثالی صورت یہی ہے کہ انسان ڈگری حاصل کرے، تعلیم سے آراستہ ہو، اور ان تمام کوششوں کا ثمر اس کے اعلیٰ شعور، اخلاق اور کردار میں نظر آئے۔ جب ڈگری اور تعلیم شعورِ نبوی کے تابع ہو جاتے ہیں، تبھی علم نافع بنتا ہے اور ایک باوقار، صالح اور پرامن معاشرہ پروان چڑھتا ہے۔
مزید پڑھیں





