ادویات کی قیمتوں میں بلاجواز اضافہ قابلِ قبول نہیں، احد چیمہ

وفاقی وزیر اقتصادی امور احد چیمہ نے کہا ہے کہ ادویات کی قیمتوں میں بلاجواز اضافہ قابلِ قبول نہیں۔ وفاقی دارالحکومت میں احد چیمہ کی زیر صدارت ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) سے متعلق اجلاس منعقد ہوا، جس میں ادویات کی قیمتوں کے تعین سے متعلق زیر التوا کیسز اور قیمتوں کے موجودہ فارمولے پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ ادویات کی قیمتوں سے متعلق زیر التوا کیسز کا انفرادی بنیادوں پر جائزہ تقریباً مکمل ہو چکا ہے۔ اس موقع پر احد چیمہ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ زیر التوا کیسز کو مزید کارروائی کے لیے آگے بڑھایا جائے تاکہ ان پر پیش رفت یقینی بنائی جا سکے، انہوں نے کیسز کے جائزے کے سلسلے میں ڈاکٹر مصدق ملک اور ڈریپ حکام کی کوششوں کو بھی قابل تحسین قرار دیا۔
دوسری جانب اجلاس میں فلو ویکسین کی دستیابی اور قیمتوں سے متعلق معاملات پر بھی بریفنگ دی گئی، ڈریپ حکام نے بتایا عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی تجویز کردہ ٹرائی ویلنٹ فلو ویکسین مارکیٹ میں وافر مقدار میں دستیاب ہے۔
حکام نے بتایا کہ عالمی منڈی میں فلو ویکسین کی قیمتیں کنٹرول ہونے کے باعث اس سے متعلق ہارڈشپ کیس واپس لے لیا گیا ہے۔ دورانِ بریفنگ ادویات کی قیمتوں کے موجودہ فارمولے پر جاری نظرثانی کے عمل سے بھی آگاہ کیا گیا،اس موقع پر احد چیمہ نے واضح کیا کہ قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار میں ایسی کوئی تبدیلی نہیں کی جانی چاہیے جس کے نتیجے میں فارماسیوٹیکل سیکٹر پر منفی اثرات مرتب ہوں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قیمتوں سے متعلق فیصلوں میں عوامی مفاد اور ادویات کی قیمتوں میں اضافے کے جواز کو بنیادی اہمیت دی جائے۔ وفاقی وزیر نے ادویات کی قیمتوں کا زیادہ آزادانہ اور مؤثر جائزہ لینے کے لیے متعلقہ ڈیٹا بیسز کی سبسکرپشنز خریدنے کے امکان پر بھی غور کرنے کی ہدایت کی، تاکہ قیمتوں کے تعین سے متعلق فیصلوں کے لیے مستند معلومات اور اعداد و شمار سے استفادہ کیا جا سکے۔
مزید برآں اجلاس میں وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک، سیکرٹری صحت مومن آغا، چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈریپ ڈاکٹر عبیداللہ اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔
مزید پڑھیں





