جمعرات، 15 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

وقت کی پابندی،تحریر: نادر فہمی

نقطہ نظر
nadirfehmi

شمائلہ ہمیشہ سے ہی اپنی من مرضی کی عادی تھی۔ اسے اپنی مرضی سے ہر کام کرنا پسند تھا۔ وقت پر اٹھنا، وقت پر سکول جانا اور اپنے روزمرہ کے کام وقت پر مکمل کرنا اس کی عادتوں میں شامل نہیں تھا۔ ہمیشہ ہر کام میں دیر کرنا شمائلہ کی عادت بن چکی تھی۔ اس کی امی روزانہ اسے وقت کی اہمیت سمجھاتی تھیں، لیکن وہ اپنی امی کی نصیحتوں کو زیادہ اہمیت نہیں دیتی تھی۔


ایک دن صبح شمائلہ کی امی نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا:


بیٹا وقت بہت قیمتی دولت ہے۔ دنیا کی کھوئی ہوئی بہت سی چیزیں دوبارہ حاصل کی جا سکتی ہیں، لیکن گزرا ہوا وقت کبھی واپس نہیں آتا۔ وقت ہمیشہ انہی لوگوں کی قدر کرتا ہے جو وقت کی قدر کرتے ہیں، ورنہ وقت اپنی رفتار سے گزرتا رہتا ہے اور سست و کاہل لوگ اپنی منزل سے بہت پیچھے رہ جاتے ہیں۔


شمائلہ نے امی کی بات سنی، لیکن ہمیشہ کی طرح ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دی۔


آج پھر شمائلہ ہمیشہ کی طرح گھر سے دیر سے سکول پہنچی۔ اس کی دوست اسماء پہلے ہی کلاس میں موجود تھی۔ شمائلہ کو دیکھتے ہی اسماء نے کہا:


شمائلہ بس کرو اب تم بچی تو نہیں ہو۔ ہم دسویں جماعت میں پہنچ چکے ہیں، لیکن تمہاری عادتیں ابھی تک نہیں بدلیں۔ تم روزانہ دیر سے سکول آتی ہو۔ کبھی تمہیں اپنی پڑھائی اور مستقبل کی فکر بھی ہوتی ہے؟


شمائلہ نے بدمزہ سا منہ بناتے ہوئے جواب دیا:


ارے یار! امی کیا کم سناتی ہیں جو تم بھی شروع ہو گئی ہو؟ مجھے معلوم ہے کہ مجھے کیا کرنا ہے۔ تم اپنی فکر کرو۔"


اسماء نے افسوس سے سر ہلایا اور خاموش ہو گئی۔


اتنی ہی دیر میں ٹیچر کلاس روم میں داخل ہوئیں۔ تمام طالبات اپنی اپنی نشستوں پر بیٹھ گئیں اور پڑھائی میں مصروف ہو گئیں۔ سبق مکمل ہونے کے بعد ٹیچر نے بچوں کو ایک خوش خبری سنائی۔


انہوں نے کہا:


بچو! ہمارے سکول کا تفریحی دورہ اس بار مری جا رہا ہے۔ جو طالب علم اس دورے پر جانا چاہتا ہے، وہ آج ہی اپنا نام لکھوا دے۔ کل صبح چھ بجے تمام بچوں کو سکول پہنچنا ہوگا اور اپنی فیس بھی ساتھ لانی ہوگی۔ بس ٹھیک چھ بجے روانہ ہو جائے گی، اس لیے کسی کو دیر سے آنے کی اجازت نہیں ہوگی۔


یہ سن کر تمام بچے بہت خوش ہوئے۔ کئی بچوں نے اپنے نام لکھوا دیے۔ شمائلہ بھی خوشی سے کھڑی ہوئی اور اپنا نام لکھوا دیا۔


شمائلہ کو نام لکھواتے دیکھ کر اسماء حیران ہو کر بولی:


شمائلہ! تم بھی جاؤ گی؟ تمہیں معلوم ہے نا کہ کل صبح چھ بجے سکول پہنچنا ہے؟ اگر تم دیر سے آئیں تو بس تمہارا انتظار نہیں کرے گی۔


شمائلہ کو اسماء کی بات پر غصہ آ گیا۔


اس کا کیا مطلب ہے؟ کیا میں نہیں جا سکتی؟ میں کل سب سے پہلے سکول پہنچوں گی، تم دیکھ لینا


اسماء مسکرا کر خاموش ہو گئی۔


سکول کی چھٹی ہوئی تو تمام بچے اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے۔ شمائلہ بھی گھر پہنچی تو بہت خوش تھی، کیونکہ وہ اپنی زندگی میں پہلی بار مری جا رہی تھی۔ اس نے اپنی امی سے ٹریپ کی فیس لی اور رات کو ہی اپنے کپڑے، جوتے اور ضروری سامان ایک بیگ میں رکھ لیا۔ اس نے اپنی امی سے وعدہ کیا کہ وہ صبح جلدی اٹھ جائے گی۔


رات کو بستر پر لیٹ کر وہ مری کے خوب صورت پہاڑوں، ٹھنڈے موسم اور سرسبز درختوں کے بارے میں سوچتی رہی۔ کبھی وہ اپنے دوستوں کے ساتھ تصویریں بنانے کا تصور کرتی اور کبھی پہاڑوں کی سیر کے بارے میں سوچتی۔ انہی خیالوں میں اسے کافی دیر سے نیند آئی۔


صبح ہوئی تو شمائلہ گہری نیند سو رہی تھی۔ اس کی امی نے اسے کئی مرتبہ اٹھانے کی کوشش کی، لیکن وہ ہر بار کروٹ بدل کر دوبارہ سو جاتی۔ آخرکار اس کی آنکھ کھلی تو اس نے سامنے لگی گھڑی کی طرف دیکھا۔ گھڑی میں صبح کے نو بج رہے تھے۔


شمائلہ گھبرا کر بستر سے اٹھی اور روتے ہوئے اپنی امی سے بولی:


امی جی! آپ نے مجھے وقت پر اٹھایا کیوں نہیں؟ میری سکول ٹریپ کی بس نکل گئی ہوگی۔ اب میں مری کیسے جاؤں گی؟


اس کی امی نے نرمی سے جواب دیا:


بیٹا میں نے تمہیں کئی بار اٹھانے کی کوشش کی، لیکن تم نے آنکھ ہی نہیں کھولی۔ میں نے تمہیں پہلے بھی سمجھایا تھا کہ وقت کی پابندی کرنا سیکھو، مگر تم نے میری بات پر کبھی توجہ نہیں دی۔


شمائلہ نے اپنا سر پکڑ لیا۔ وہ بہت اداس تھی۔ اس کی ساری تیاری بے کار ہو چکی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ اس کی اس غلطی کی ذمہ دار کوئی اور نہیں بلکہ وہ خود تھی۔


کچھ دیر بعد شمائلہ نے اپنی امی سے کہا:


امی مجھے معاف کر دیں۔ آج مجھے احساس ہو گیا ہے کہ آپ مجھے بار بار کیوں سمجھاتی تھیں۔ میں نے اپنی سستی اور لاپرواہی کی وجہ سے ایک خوب صورت موقع کھو دیا۔ اب میں وعدہ کرتی ہوں کہ آئندہ وقت کی پابندی کروں گی اور اپنے تمام کام وقت پر مکمل کیا کروں گی۔


امی نے پیار سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور کہا:


بیٹا غلطی ہر انسان سے ہوتی ہے، لیکن عقل مند وہی ہے جو اپنی غلطی سے سبق سیکھے اور دوبارہ اسے نہ دہرائے۔


اس دن کے بعد شمائلہ نے اپنی عادتیں بدلنے کا فیصلہ کر لیا۔ وہ رات کو جلدی سونے لگی، صبح الارم لگا کر وقت پر اٹھتی اور سکول بھی وقت پر پہنچنے لگی۔ آہستہ آہستہ اس کی پڑھائی میں بہتری آنے لگی اور اساتذہ بھی اس سے خوش رہنے لگے۔ اسماء نے بھی اس کی تبدیلی کو محسوس کیا اور ایک دن اس سے کہا:


شمائلہ اب تم واقعی بدل گئی ہو۔ مجھے خوشی ہے کہ تم نے اپنی غلطی سے سبق سیکھ لیا۔


شمائلہ مسکرائی اور بولی:


ہاں اسماء! اب میں سمجھ گئی ہوں کہ کامیابی حاصل کرنے کے لیے محنت کے ساتھ وقت کی پابندی بھی ضروری ہے۔


سبق: وقت بہت قیمتی ہے۔ جو لوگ وقت کی قدر کرتے ہیں، وہ زندگی میں کامیابی حاصل کرتے ہیں، جبکہ سستی اور لاپرواہی انسان کو اچھے مواقع سے محروم کر دیتی ہے۔


اسی لیے کہتے ہیں


وقت کسی کے لیے نہیں رکتا، اس لیے وقت کی قدر کریں اور وقت کی پابندی کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔