منگل، 20 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

پرائس چیکنگ، 52ہزار جرمانے ریڑھی بانوں پر کارروائی، مڈل مین کے خلاف کریک ڈاؤن کب؟

مصنف:

چھابہ فروشوں اور ریڑھی بانوں پر کریک ڈاؤن کب تک؟ شہریوں کا بولی کے عمل کی نگرانی اور آڑھتیوں کے احتساب کا مطالبہ

مہنگائی کی جڑ منڈیوں میں، چھوٹے دکاندار سرکاری نرخوں پر اشیا کہاں سے لائیں؟ اسسٹنٹ کمشنر گوجرخان سے عملی اقدامات کا مطالبہ

گوجرخان (قمرشہزاد) پیرا فورس نے گوجرخان میں پرائس چیکنگ مہم کے دوران سبزی منڈی میں پھلوں اور سبزیوں کی قیمتوں کا جائزہ لیا، جبکہ جنرل اسٹورز کی بھی جانچ پڑتال کی گئی۔ کارروائی کے دوران پیرا ایپلی کیشن کے ذریعے مجموعی طور پر 52 ہزار روپے کے آن لائن جرمانے عائد کیے گئے۔ حکام کے مطابق سرکاری نرخ ناموں پر عمل درآمد یقینی بنانے اور گراں فروشی کی روک تھام کے لیے نگرانی اور کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا دوسری جانب شہریوں اور کاروباری حلقوں نے پرائس چیکنگ کے طریقہ کار پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ مہنگائی کے خلاف کارروائی اگر صرف چھابہ فروشوں، ریڑھی بانوں اور چھوٹے دکانداروں تک محدود رہی تو عوام کو حقیقی ریلیف کیسے ملے گا؟ شہریوں کے مطابق اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے کی وجوہات کا جائزہ فروخت کے آخری مرحلے سے نہیں بلکہ سبزی منڈی میں بولی، خریداری اور سپلائی کے ابتدائی مراحل سے لیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب دکانداروں کو اشیا مہنگے داموں فراہم ہوں تو ان سے سرکاری نرخ نامے کے مطابق فروخت کی توقع کرنے سے پہلے قیمتوں کے تعین کے پورے نظام کا جائزہ ناگزیر ہے۔ شہری حلقوں نے اسسٹنٹ کمشنر گوجرخان اور پیرا فورس سے مطالبہ کیا کہ سبزی منڈی میں بولی کے عمل کی مؤثر نگرانی کی جائے، آڑھتیوں کی خرید و فروخت، مقررہ نرخوں اور منافع کی جانچ پڑتال کی جائے اور کسان سے صارف تک اشیا کی قیمت میں ہونے والے اضافے کا شفاف تعین کیا جائے۔ ان کے مطابق اگر منڈی میں قیمتیں سرکاری نرخوں سے تجاوز کر رہی ہوں تو صرف بازار میں چھوٹے فروخت کنندگان کو جرمانے کرنا مسئلے کی جڑ تک پہنچنے کے بجائے اس کے آخری مرحلے پر کارروائی کے مترادف ہے۔ شہریوں نے سوال اٹھایا کہ منڈی میں بولی اور قیمتوں کے تعین کی نگرانی کون کرے گا، آڑھتیوں کی جانب سے مہنگے داموں اشیا فراہم کیے جانے کی شکایات کا ازالہ کیسے ہوگا اور چھوٹے دکانداروں کو سرکاری نرخوں پر اشیا کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ انہوں نے مطالبہ کیا کہ منڈی سے بازار تک قیمتوں کے پورے نظام کی جانچ کی جائے اور جہاں قانون کی خلاف ورزی ثابت ہو، وہاں بلاامتیاز کارروائی کی جائے۔ شہریوں کے مطابق محض جرمانوں کی تعداد ظاہر کرنا کافی نہیں، اصل امتحان یہ ہے کہ پرائس چیکنگ سے عوام کو سستی اشیا ملتی ہیں یا نہیں اور قیمتوں میں اضافے کے ذمہ دار تمام حلقوں کا احتساب ہوتا ہے یا نہیں۔