وہ لڑکی کون تھی؟
وہ لڑکی میں تھی۔ وہ لڑکی آپ تھی۔ وہ لڑکی ہر وہ لڑکی تھی جو دل سے زندہ تھی۔
بچپن سے ہی وہ سب سے مختلف تھی۔ جب دوسری بچیاں گڑیوں سے کھیلتی تھیں، وہ کہانیاں بناتی تھی۔ اس کے پاس ہر چیز کی ایک کہانی تھی۔ اسکول کے راستے کی، اسکول کی دیوار کی، اس کی اپنی چوٹی کی بھی ایک کہانی تھی۔ وہ بولتی بہت تھی۔ اتنا بولتی تھی کہ اس کی ماں کہتی تھی "اللہ خیر کرے، اس بچی کی زبان کبھی تھکتی ہی نہیں"۔
لیکن اس کا بولنا کسی کو برا نہیں لگتا تھا۔ کیونکہ وہ صرف اپنی نہیں، سب کی بات کرتی تھی۔ وہ ہنستی تھی تو لگتا تھا جیسے کسی نے ہنسی کا چشمہ کھول دیا ہو۔ اس کی ہنسی میں اتنی سچائی تھی کہ اداس سے اداس انسان بھی ہنس پڑتا۔
جوان ہوئی تو اس نے لکھنا شروع کیا۔ وہ رائٹر بن گئی۔ لوگ اسے رائٹر کہنے لگے۔ اس کے لفظوں میں جادو تھا۔ وہ جو محسوس کرتی، وہی لکھ دیتی۔ اور لوگ کہتے، تم نے تو میرے دل کی بات لکھ دی۔ وہ حساس تھی، بہت زیادہ حساس۔ کسی کا دکھ دیکھ کر اس کی آنکھ میں آنسو آ جاتے۔ کسی کی خوشی دیکھ کر وہ سب سے زیادہ خوش ہوتی۔
وہ محفل کی جان تھی۔ جہاں وہ نہ ہو، وہاں رونق ہی نہ ہو۔ وہ بُوریت کی دشمن تھی۔ وہ جہاں بیٹھتی، وہاں سے بُوریت بھاگ جاتی۔
سب کہتے تھے، تم کبھی بُور نہیں ہو سکتی۔ تم تو خود ایک میلہ ہو
پھر اس کی زندگی میں وہ لوگ آنا شروع ہوئے جنہیں دنیا "اپنے" کہتی ہے۔
پہلے اس کی سہیلیاں بدلیں۔ جو سہیلیاں کبھی اس کی باتوں پر ہنستی تھیں، وہی اب کہنے لگیں "تم ہر وقت بولتی رہتی ہو، تھوڑا خاموش بھی رہا کرو"۔ جب وہ اپنے خواب سناتی تو کہا جاتا "ہوائی باتیں ہیں، عملی زندگی میں آؤ"۔
پھر رشتے آئے۔ کچھ لوگوں نے اس کی ہنسی کو اس کی کمزوری سمجھا۔ کہا "جو لڑکی زیادہ ہنستی ہے، وہ سنجیدہ نہیں ہوتی"۔ اس کی سادگی کو اس کی بیوقوفی سمجھا گیا۔
پھر کچھ قریبی رشتے دار۔ جب وہ کچھ لکھتی اور خوشی خوشی دکھاتی تو کہا جاتا "اس فضول کام سے کیا ملے گا؟"۔ جب وہ اداس ہوتی اور اپنا دل کسی کو سناتی تو آگے سے جواب آتا "ہر وقت کا رونا لگا رکھا ہے، تم سے زیادہ دکھی تو ہم ہیں"۔
وہ حیران رہ گئی۔ یہ وہی لوگ ہیں جن کے لیے وہ ہمیشہ موجود تھی؟ یہ وہی لوگ ہیں جن کی بُوریت وہ دور کرتی تھی؟
اس نے خود کو سمجھانا شروع کیا۔ شاید واقعی میں زیادہ بولتی ہوں۔ شاید میری ہنسی واقعی بری لگتی ہے۔ شاید میرا لکھنا واقعی فضول ہے۔
اور اس نے خود کو مارنا شروع کر دیا۔ زندہ رہتے ہوئے خود کو مارنا۔
اس نے پہلا قتل اپنی ہنسی کا کیا۔
جو لڑکی پورے گھر کو اپنی ہنسی سے جگاتی تھی، اس نے اونچی آواز میں ہنسنا چھوڑ دیا۔ اس کا قہقہہ جو کبھی پورے محلے میں سنا جاتا تھا، وہ اب صرف مسکراہٹ بن گیا۔ پھر وہ مسکراہٹ بھی اتنی ہلکی ہو گئی کہ کسی کو نظر بھی نہ آتی۔
دوسرا قتل اس نے اپنی باتوں کا کیا۔
جو لڑکی گھنٹوں بول سکتی تھی، اس نے خود کو چند لفظوں تک محدود کر لیا۔ "ہاں"۔ "ٹھیک ہے"۔ "جیسے تم کہو"۔ بس۔ اس کے پاس اب کہنے کو کچھ نہیں بچا تھا۔ کیونکہ اسے لگنے لگا تھا کہ اس کی بات کی کوئی قیمت ہی نہیں۔
تیسرا قتل اس نے اپنے لکھنے کا کیا۔
اس نے اپنا قلم بند کر دیا۔ اس کی ڈائری جو کبھی اس کے لفظوں سے بھری رہتی تھی، وہ اب خالی پڑی رہتی۔ وہ کاغذ کے سامنے بیٹھتی، گھنٹوں بیٹھی رہتی، لیکن ایک لفظ نہ لکھ پاتی۔ کیونکہ لکھنے کے لیے دل کا زندہ ہونا ضروری ہے۔ اور اس کا دل تو کب کا مر چکا تھا۔
یہ وہ بُوریت نہیں ہے جو آپ کو کچھ نہ کرنے سے ہوتی ہے۔ یہ وہ بُوریت ہے جو آپ کو سب کچھ کرتے ہوئے بھی ہوتی ہے۔ آپ سب کے درمیان ہیں، ہنسنے کی کوشش کر رہے ہیں، بات کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن اندر سے آپ بالکل خالی ہیں۔ آپ کا اندر ایک ویران صحرا بن چکا ہے جہاں کوئی پرندہ بھی نہیں آتا۔
آج وہ لڑکی کہاں ہے؟
وہ یہیں ہے۔ آپ کے آس پاس۔ آپ کے گھر میں۔ آپ کی گلی میں۔
وہ زندہ ہے۔ سانس لے رہی ہے۔ صبح اٹھتی ہے، چائے بناتی ہے، کام کرتی ہے، سب کے کام آتی ہے، رات کو سو جاتی ہے۔ سب کچھ کر رہی ہے۔
لیکن اگر آپ اس کی آنکھوں میں غور سے دیکھیں تو آپ کو پتہ چلے گا کہ وہ آنکھیں خالی ہیں۔ ان آنکھوں میں وہ چمک نہیں رہی جو کبھی تھی۔ اس کے چہرے پر وہ رونق نہیں ہے۔ اس کی باتوں میں وہ رس نہیں ہے۔
لوگ اب اسے دیکھ کر کہتے ہیں "یار تم کتنی بُور ہو گئی ہو"۔ "تم پہلے جیسی نہیں رہی"۔ "تم میں اب وہ بات نہیں رہی"۔
ہاں، وہ بُور ہو گئی ہے۔ کیونکہ اسے بُور کر دیا گیا ہے۔
اسے ان لوگوں نے بُور کیا ہے جو خود بُور ہیں۔ جو خود کچھ نہیں کرتے، اور دوسروں کو بھی کچھ نہیں کرنے دیتے۔ جو خود نہیں ہنستے، اور دوسروں کی ہنسی بھی چھین لیتے ہیں۔ جو خود نہیں بولتے، اور دوسروں کی زبان بھی بند کر دیتے ہیں۔
سچ تو یہ ہے کہ اس دنیا میں کسی کو قتل کرنے کے لیے زہر کی ضرورت نہیں ہوتی۔ کسی کی ہنسی چھین لو، وہ خود مر جائے گا۔ کسی کی بات سننا بند کر دو، وہ خود خاموش ہو جائے گا۔ کسی کے لفظوں کی قدر کرنا چھوڑ دو، اس کا قلم خود ٹوٹ جائے گا۔
اور آج اس لڑکی کے اندر کی وہ ہنستی بستی لڑکی مر چکی ہے۔
اگر کبھی اس کے دل کی قبرستان میں جائیں تو وہاں ایک ہی قبر پر بہت بڑے لفظوں میں لکھا ہو گا:
"یہاں ایک ہنستی بستی، بولتی، لکھنے والی، سب کا خیال رکھنے والی لڑکی دفن ہے۔"
"وجہِ وفات: کوئی بیماری نہیں، کوئی حادثہ نہیں، صرف بُور لوگ۔"
"قاتل: وہی اپنے جنہیں وہ اپنا سمجھتی تھی۔"
آخری بات:
خدارا اپنے اردگرد دیکھیں۔ آپ کے آس پاس بھی کوئی ایسی لڑکی ہو گی، کوئی ایسا لڑکا ہو گا جو آہستہ آہستہ خاموش ہو رہا ہے۔ جو پہلے بہت بولتا تھا، اب کم بولتا ہے۔ جو پہلے بہت ہنستا تھا، اب نہیں ہنستا۔
اسے بُور مت کہیں۔ اسے جا کر صرف اتنا کہہ دیں "سناؤ، آج تم کچھ بولو، میں سن رہا ہوں"۔
یقین کریں، آپ کا اتنا کہنا ہی کسی کی پوری زندگی واپس لا سکتا ہے۔ کسی کے اندر کی مری ہوئی لڑکی کو دوبارہ زندہ کر سکتا ہے۔
مزید پڑھیں





