Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج سیاحت کا عالمی دن منایا گیا


پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج سیاحت کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ یہ دن ہر سال 27 ستمبر کو سیاحت کی معاشی، سماجی، ثقافتی اور ماحولیاتی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے منایا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق 2026 میں عالمی یومِ سیاحت کا موضوع ’’سیاحت کی نئی تشکیل کے لیے ڈیجیٹل ایجنڈا اور مصنوعی ذہانت ہے‘‘، جس میں ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے سیاحت کے مستقبل کو بہتر بنانے پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔

دنیا بھر میں سیاحت بین الاقوامی تجارت اور روزگار کا ایک اہم ذریعہ بن چکی ہے۔ ورلڈ ٹریول اینڈ ٹورازم کونسل (WTTC) کے مطابق 2025 میں عالمی سطح پر ٹریول اینڈ ٹورازم شعبے نے عالمی معیشت میں 11.6 ٹریلین ڈالرکا حصہ ڈالا، جو عالمی جی ڈی پی کا 9.8 فیصد بنتا ہے، جبکہ اس شعبے نے تقریباً 36 کروڑ ملازمتوں کو سہارا دیا۔ اسی سال بین الاقوامی سیاحوں کے اخراجات 2.02 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئے۔

پاکستان کے لیے بھی سیاحت قدرتی، ثقافتی اور معاشی اعتبار سے اہم شعبہ ہے۔ پاکستان ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن کے مطابق ملک کی پالیسی کا مقصد سیاحت کو قومی ترجیح کے طور پر فروغ دینا، قدرتی و ثقافتی ورثے کا تحفظ کرنا اور ملکی معیشت و عوام کے معیارِ زندگی میں اس شعبے کے کردار کو بڑھانا ہے۔ پاکستان میں پہاڑی، ساحلی، صحرائی، تاریخی، مذہبی اور آثارِ قدیمہ کے مقامات ملکی و غیر ملکی سیاحوں کے لیے اہم کشش رکھتے ہیں۔

پاکستان میں سیاحت سے حاصل ہونے والی آمدنی کے حوالے سے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار بھی اس شعبے کی اہمیت کو ظاہر کرتے ہیں۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق مالی سال 2025 میں پاکستان کی ٹریول سروسز کی برآمدی آمدنی 728.8 ملین ڈالر رہی، جبکہ مالی سال 2026 کی پہلی ششماہی میں یہ رقم بڑھ کر 426.6 ملین ڈالر تک پہنچ گئی، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے 358.6 ملین ڈالر کے مقابلے میں تقریباً 19 فیصد زیادہ ہے۔ تاہم اسی عرصے میں سفری خدمات کی درآمدات بھی بڑھیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کے لیے سیاحت سے حاصل ہونے والی غیر ملکی آمدنی میں مزید اضافے کی گنجائش موجود ہے۔


ورلڈ ٹریول اینڈ ٹورازم کونسل کے پاکستان سے متعلق دستیاب تحقیقی اعداد و شمار کے مطابق 2023 میں پاکستان کے ٹریول اینڈ ٹورازم شعبے نے مجموعی طور پر تقریباً 19.8 ارب ڈالر کی معاشی سرگرمی پیدا کی، جو اس وقت ملکی جی ڈی پی کا تقریباً 5.8 فیصد تھی، جبکہ اس شعبے سے تقریباً 47 لاکھ ملازمتوںکو سہارا مل رہا تھا۔ WTTC نے 2026 کے لیے پاکستان کی تازہ Economic Impact Research بھی جاری کرنے کا اعلان کیا ہے، تاہم اس کے نئے تفصیلی اعداد و شمار ابھی مکمل طور پر دستیاب نہیں کیے گئے۔

پاکستان میں سیاحت کے فروغ کے لیے سرکاری سطح پر قدرتی و ثقافتی مقامات کی تشہیر، سیاحتی سہولیات میں بہتری اور نجی شعبے کے ساتھ تعاون پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔ وزارتِ خزانہ کی دستاویزات میں محکمہ سیاحت کی جانب سے ٹریول ایجنسیوں، ہوٹلوں، ریستورانوں اور ٹورسٹ گائیڈز کی رجسٹریشن بڑھانے کے اہداف بھی مقرر کیے گئے ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سیاحوں کے منزل کے انتخاب، سفری منصوبہ بندی اور سیاحتی خدمات کی فراہمی میں اہم تبدیلیاں لا رہی ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے عالمی یومِ سیاحت 2026 کے پیغام میں زور دیا کہ ٹیکنالوجی سے پیدا ہونے والے مواقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ڈیجیٹل مہارتوں میں سرمایہ کاری اور مقامی برادریوں کی شمولیت کو یقینی بنایا جائے تاکہ سیاحت کی ترقی زیادہ جامع اور پائیدار ہو۔

عالمی یومِ سیاحت کے موقع پر ماہرین کے مطابق پاکستان کے لیے سیاحت کو روزگار، مقامی کاروبار، ثقافتی ورثے کے تحفظ اور غیر ملکی زرمبادلہ کے حصول کے ایک اہم ذریعے کے طور پر مزید منظم انداز میں فروغ دینے کی گنجائش موجود ہے۔ تاہم اس کے لیے بنیادی ڈھانچے، رسائی، ڈیجیٹل سہولیات، سیاحوں کے لیے معلوماتی نظام اور پائیدار سیاحت پر مسلسل توجہ ضروری ہے۔