fbpx

پی ٹی آئی کی 9 حلقوں بارے ضمنی الیکشن شیڈول فوری معطل کرنے کی استدعا مسترد

پی ٹی آئی کی 9 حلقوں بارے ضمنی الیکشن شیڈول فوری معطل کرنے کی استدعا مسترد کردی گئی ہے.

تحریک انصاف نے عدالت میں استدعا کی تھی کہ الیکشن کمیشن نے ضمنی الیکشن کیلئے جن نو حلقوں کا شیڈول جاری کیا اسے روکا جائے تاہم عدالت نے یہ استدعا مسترد کرتے ہوئے کیس کی سماعت 16 اگست تک ملتوی کر دی ہے.

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے فریقین کو نوٹسز جاری کر دیئے جبکہ انہوں نے سوال کیا کہ الیکشن شیڈول معطل کرنے کی قانونی وجہ کیا ہے؟
ان کا مزید کہنا تھا کہ: الیکشن شیڈول معطل کرنے کی قانونی وجہ بتائی جائے، اور آپ لوگ جو الیکشن روکنے کی استدعا کر رہے ہیں اسکا کوئی قانونی جوازبھی تو بتائیں.
جسٹس عمر فاروق نے کہا: 123 حلقوں میں بھی الیکشن ہو جائے گا پہلے یہ تو ہونے دیں اور قومی اسمبلی کی نشستیں خالی ہوئیں تو الیکشن کمیشن نے الیکشن کا اعلان کیا، اس میں پریشانی کیا بات ہے؟

واضح رہے کہ گزشتہ دنوں الیکشن کمیشن کے 9 حلقوں کے جاری الیکشن شیڈول کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواست سماعت کے لیے مقرر کی گئی تھی.

یاد رہے کہ: تحریک انصاف نے 9 حلقوں کے لیے الیکشن کمیشن کا جاری کردہ انتخابی شیڈول اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

پی ٹی آئی کی جانب سے وکیل فیصل چوہدری نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں متفرق درخواست دائر کی تھی جس میں اسلام آباد ہائی کورٹ سے انتخابی شیڈول کو معطل کرنے کی استدعا کی گئی تھی

درخواست میں کہا گیا تھا کہ پی ٹی آئی ارکان کے استعفوں کی مرحلہ وار منظوری کے خلاف درخواست زیر التوا ہے، عدالت چار اگست کو درخواست پر سماعت کرکے نوٹس جاری کر چکی ، الیکشن کمیشن کو نوٹس کا معلوم ہے اس کے باوجود شیڈول جاری کردیا گیا۔

درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ الیکشن کمیشن کا پانچ اگست کو جاری کردہ شیڈول معطل کیا جائے، پی ٹی آئی کے مرکزی کیس کے فیصلے تک الیکشن کمیشن کا انتخابی شیڈول معطل رکھا جائے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی کی درخواست سماعت کے لیے آج بروز بدھ کیلئے مقرر کی تھی.

قبل ازیں گزشتہ گزتہ دنوں الیکشن کمیشن آف پاکستان نے قومی اسمبلی کے 9 حلقوں میں ضمنی انتخاب کا اعلان کیا تھا۔

الیکشن کمیشن کے ترجمان نے بتایا تھا کہ کاغذاتِ نامزدگی 10 اگست سے 13 اگست تک جمع کروائے جا سکتے ہیں، جن کی جانچ پڑتال 17 اگست کو کی جائے گی جبکہ پولنگ 25 ستمبر کو ہو گی۔

الیکشن کمیشن کے مطابق یہ ضمنی انتخاب این اے 22 مردان 3، این اے 24 چارسدہ 2، این اے 31 پشاور 5، این اے 45 کرم 1، این اے 108 فیصل آباد، این اے 118 ننکانہ صاحب 2 جبکہ کراچی کے قومی اسمبلی کے حلقوں این اے 237 ملیر 2، این اے 239 کورنگی کراچی 1 اور این اے 246 کراچی جنوبی 1 میں ہوگا۔

دوسری طرف اگست کو ضمنی انتخاب کا شیڈول جاری ہونے کے بعد چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے ضمنی الیکشن میں قومی اسمبلی کے تمام 9 حلقوں سے خود الیکشن لڑنے کا اعلان کردیا۔

سینئر صحافیوں سے ملاقات میں عمران خان کا کہنا تھا کہ مخالفین کیلئے میدان خالی نہیں چھوڑوں گا۔ مخالفین مجھے سنگل آؤٹ کرنا چاہتے ہیں مگر میں ہر میدان میں اُن کا مقابلہ کروں گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ عام انتخابات اسی سال ہوں گے۔

چیئرمین پی ٹی آئی کا اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے کہنا تھا کہ مجھ سے بڑی غلطی ہوئی کہ سکندر سلطان راجہ کی بطور چیف الیکشن کمشنر تقرری کی جو میرا بلنڈر تھا.

تاہم عمران خان کے 9 حلقوں سے الیکشن لڑنے کے بیان کے بعد اس کے خلاف بھی استدعا کی گئی ہے.

درخواست میں عمران خان، الیکشن کمیشن اور وفاقی حکومت کو فریق بنایا گیا ہے.

درخواست یں موقف اختیار کیا گیا ہے ماضی میں عمران خان، علیم خان اور بلاول بھٹو زرداری بھی زیادہ حلقوں سے حصہ لیتے رہے ہیں.

درخواست مین کہا گیا کہ رولز میں ترمیم کرکے ایک شخص ایک حلقت سے الیکشن لڑنے کا پابند ہو.

مزید کہا گیا عمران خان ممبر قومی اسمبلی ہیں لہذا انہیں نو نشستوں پر الیکشن لڑنے سے روکا جائے.