سعودی وزیر خارجہ کی "جی 20 ممالک” کے سفیروں سے ملاقات

باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان بن عبد اللہ نے بدھ کے روز دارالحکومت الریاض میں پرنس سعود الفیصل انسٹی ٹیوٹ برائے سفارتی مطالعات کے صدر دفاتر میں ‘جی 20’ ممالک کے سعودی عرب میں تعینات سفیروں اور ان ممالک کے وفود سے ملاقات کی۔

یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب سعودی عرب ‘جی 20’ کے سربراہ اجلاس کی میزبانی کی تیاری کررہا ہے۔ ملاقات میں ‘جی 20 سمٹ’ کی تیاریوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر’گروپ 20′ کے 2020ء کے اجلاس کی میزبان کمیٹی کے سربراہ فہد المبارک،شاہی دیوان کے مشیر فہد التونسی اور دیگر اعلیٰ حکام موجود تھے۔

سعودی وزیر خارجہ نے جی 20 ممالک کے سفیروں سے خطاب میں گروپ آٹھ کے وفود کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ سعودی عرب میں جی ایٹ ممالک کے سربراہ اجلاس کے انعقاد سے مملکت اور عالمی برادری کے درمیان تعاون اور تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔
واضح رہے کہ بغداد ایئر پورٹ پر امریکی فضائی حملے میں ایرانی جنرل سمیت 9 افراد ہلاک ہو گئے، فضائی حملے میں ہلاک جنرل قاسم سلیمانی القدس فورس کے سربراہ تھے، عراقی میڈیا کا کہنا ہے کہ دیگر ہلاک شدگان میں ایران نواز ملیشیا الحشد الشعبی کا رہنما بھی شامل ہے۔

ایرانی جنرل کو مارنے کے بعد امریکہ نے دی شہریوں کو اہم ہدایات

جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت، امریکہ نے خطے کا امن داؤ پر لگا دیا، ایسا کس نے کہا؟

ایرانی جنرل پر امریکی حملہ، چین بھی میدان میں آ گیا، بڑا مطالبہ کر دیا

بغداد میں امریکی حملے پر ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنرل سلیمانی پر حملہ عالمی دہشت گردی ہے، امریکا کو اس حرکت کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔ ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے اس حملے کو عالمی دہشت گردی قرار دیا ہے۔ ایران نے انتقام لینے کا اعلان کیا ہے، عراق نے بھی امریکا کی فوج کے انخلا کی قرار داد منظور کر لی ہے جس پر امریکہ نے عراق کو بھی دھمکی دی ہے، پاکستان نے خطے میں امن کے لئے بات چیت سے معاملہ حل کرنے کا کہا ہے، دیگر ممالک نے بھی بات چیت پر زور دیا ہے،

Shares: