ابھی میٹرک کے امتحانات جاری ہیں طالبات کے لیے اپنے سکول کے علاوہ دوسری جگہ سینٹر بناے گے ہیں وہاں جس دن پیپر ہونا ہوتا ہے والدین چھوڑ کر آتے ہیں
کچھ بچیوں کے بھائی یا والد نہیں ہوتے وہ رکشوں کی مدد ایک بار چھوڑ کر آتے ہیں پھر واپس لے کر آتے ہیں
پہلی بات تو یہ ہے طالبات کے لئے ان کا سکول ہی سینٹر ہونا چاہیے یا پھر کوئی نزدیک سینٹر ہو
سکول کے اندر کی صورت حال ایک الگ مسئلہ ہو گا
لیکن سب سے بڑا مسئلہ بچیوں کو جو لینے کے لیے جاتے ہیں ان کے لیے اتنی شدید گرمی میں وہاں سکول کے باہر کھڑے ہونے کی کوئی جگہ نہیں ہوتی نہ کوئی جگہ مخصوص کی جاتی ہے
سکولوں کے گارڈز ٹریفک جام نہ ہو کسی کی موٹر-سائیکل کو کھڑا کرنے نہیں دیتے
جو شخص وہاں بچیوں کو لینے کے لئے گیا ہوتا ھے وہ دھوپ میں کھڑا کھڑا خود ہی بیمار ہو جاتا ہے نہ وہاں کوئی پانی پینے کا سسٹم ہوتا ہے نہ وہاں سایہ کی کوئی جگہ جہاں کھڑا ہو کر انتظار کیا جائے بعض اوقات آدھا گھنٹہ رکنا پڑتا ہے
اور رش ہر طرف ہوتا ھے سانس لینا بھی مشکل ہو جاتا ہے
میں نے یہ تین چار سکولوں میں دیکھا ھے یہ تکلیف برداشت بھی کی ھے
جب کہ اس پر کوئی خاص خرچہ بھی نہیں ہے بدقسمتی یہ ہے کہ ایسی باتیں نہ میڈیا دیکھاتا ھے نہ کوئی ایسے مسائل کو بہت بڑا مس سمجھتا ہے
اسی طرح تھانوں میں چلے جائیں وہاں گورنمنٹ کے ملازمین پرسکون طریقے سے اندر بیٹھے ہوتے ہیں ایس ایچ او صاحب نے تھانے میں گیارہ بجے آنا ہوتا ہے عام عوام زللیل ہوتی ہے گھنٹوں دھوپ میں کھڑے رہنا پڑتا ہے چار چار گھنٹے انتظار کے بعد بعض اوقات ایسا ہوتا ہے اندر سے پیغام آتا ہے آج ایسی ایچ صاحب کی ڈی ایس پی سے میٹنگ ھے
کل آنا
میری زمدار افراد سے التماس ہے کہ ان چھوٹے مسائل پر توجہ دیں
جن کاموں میں کمشن ملتا ہے وہ کام اربوں روپے والے منٹوں میں شروع ہو جاتے ہیں
جو ہزاروں والے جلدی کے کام ہیں ان پر کوئی توجہ دیتا نہیں
سب سے زیادہ زمداری گورمنٹ کی ھے
جتنے سرکاری محکمے ہیں ان کی تنخواہ پنشن سب کچھ اپنے وقت پر بڑھتا ہے لیکن جو ان کی زمداری ھے عوام کو سہولت دینا وہ احسان سمجھتے ہیں
🙏🙏🙏مہربانی ہو گی ان مسائل کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کیا جائے
شکریہ 🌹
ٹیوٹر اکاونٹ
@TariqJaved_