fbpx

سینیٹ اجلاس ،حکومت کی بڑی شکست، اپوزیشن نے میدان مار لیا

سینیٹ اجلاس ،حکومت کی بڑی شکست، اپوزیشن نے میدان مار لیا

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینیٹ کا اجلاس چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیر صدارت ہوا

کورونا کی صورتحال اورکرونا سے بچاوَ کی ویکسین سے متعلق قرارداد ایوان میں پیش کر دی گئی، قرارداد جے یو آئی ف کے کامران مرتضیٰ نے پیش کی تھی ،حکومت نے کوورنا سے متعلق قرارداد کی تحریر پر اعتراض کیا، علی محمد خان کا کہنا تھا کہ کورونا قومی مسئلہ ہے اس پر سیاست نہ کی جائے،قرارداد میں الفاظ پر اعتراض ہے، وزیرمملکت پارلیمانی امورعلی محمد خان کی تقریرپرپی پی سینیٹربہرہ مند تنگی نے اعتراض کیا اور کہا کہ فیصل جاوید کارویہ غیرمناسب ہے،لگتا ہے انھیں ابھی تک یقین نہیں کہ یہ سینیٹر ہیں،

یوسف رضا گیلانی نے بھی کامران مرتضیٰ کوقرارداد دوبارہ تحریر کرنے کی ہدایت کی،جے یو آئی ف کے مرتضیٰ کامران نے قرارداد دوبارہ تحریر کرنے سے انکارکر دیا،سینیٹ میں کوورنا ویکسین مفت یا اصل قیمت پر فراہمی سے متعلق قرارداد منظورکر لی گئی،کامران مرتضیٰ کی قرارداد کے حق میں43 مخالفت میں31 ووٹ آئے،حکومت نےکورونا سے متعلق اپوزیشن کی قراردادکی مخالفت کی. چیئرمین سیینیٹ صادق سنجرانی کا کہنا تھا کہ کوورنا وبا سے متعلق قرادر منظور قرار کی جاتی ہے،قرارداد کے متن میں کہا گیا کہ تمام ممالک میں شہریوں کو کرونا ویکسین لگائی جارہی ہے، پاکستان نے ویکسین منگوانے کیلئے پرائیوٹ کمپنی کو ٹھیکہ دیا ہوا،پاکستان میں ویکسی نیشن 8 ہزار 400روپے ہے، دیگر ممالک میں ویکسین کی قیمت 1500 روپے ہے، یہ آئین کے آرٹیکل 38 کی خلاف ورزی ہے،ریاست اپنے شہریوں کو بنیادی حقوق فراہم کرے،

علی محمد خان کا کہنا تھا کہ سابق حکومتوں نےہمیں کونسی سویڈن ،ڈنمارک والی صورتحال دی تھی ،قائد ایوان وسیم شہزاد کا کہنا تھا کہ قرارداد پیش کرنے کا ایک طریقہ کارہوتا ہے،اس قرارداد میں تو حکومت کو چارج شیٹ کیا گیا ،سینیٹ میں قائد حزب اختلاف سینیٹر سید یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھا کہ کورونا سے ملک کا وزیر اعظم بھی محفوظ نہیں ،غریب آدمی کورونا ویکسین کے اخراجات برداشت نہیں کرسکتا  کورونا عالمی وبا ہے،ویکسین تمام شہریوں کی ضرورت ہے،ویکسی نیشن مفت میں کی جائے، اوپن مارکیٹ میں ویکسین کی قیمت کم رکھی جائے،

سینیٹر ثانیہ نشتر کا کہنا تھا کہ کورونا کو سیاست سے بالا تر رکھیں یہ نیشنل سیکیورٹی کا مسئلہ ہے ،کورونا سے 2 کروڑ 40 لاکھ ڈیلی ویجز ملازمین متاثر ہوئے ، ایک کروڑ 12 لاکھ افراد کو 12ہزار روپے امداد دی گئی ، احساس پروگرام میں سب سے زیادہ رقم سندھ میں تقسیم ہوئی ،کورونا ویکسین 4 مختلف ذرائع سے آرہی ہے ،حکومت ویکسین خرید رہی ہے اور ڈونیشن بھی موصول ہوئی ہیں پرائیویٹ سیکٹر بھی ویکسین منگوا رہا ہے ،کورونا ویکسین کی قیمت ڈرگ پالیسی کے مطابق مقرر کی گئی ،

پاکستان سنگل ونڈو بل2021 پرسینیٹ میں بحث ہوئی ،جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد نے بل پر اعتراض کیا،وزیر خزانہ حماد اظہر نے کہا کہ بل قائمہ کمیٹی سے متفقہ طور پر منظور ہوا،اپوزیشن چاہ رہی کہ رولز کو گزٹ میں شائع کریں مگر قانون کو شائع نہ کریں، یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ وزیر سینیٹر کی اعتراض پر وضاحت دیں تو بل منظور کرلیں،اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ چیئرمین فنانس کمیٹی فارق ایچ نائیک ایوان میں نہیں، بل کو موخر کر دیں، شبلی فراز کا کہنا تھا کہ اگر قائمہ کمیٹیوں کو عزت نہیں دینی،تو کمیٹیوں کی تشکیل کا ایجنڈا ختم کردیں،فارق ایچ نائیک،سینیٹر مشتاق احمد سے زیادہ بہتر قانون جانتے ہیں،کسی ممبر کی بلیک میلنگ نہیں چلے گی،چیئرمین سینیٹ نے بلیک میلنگ کا لفظ کارروائی سے حذف کردیا

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.