fbpx

سکھوں کو بسوں میں بٹھا کر کرتارپور بھیج کر حکومت بین الاقوامی سطح پر کیا پیغام دینا چاہتی ہے،عدالت

سکھوں کو بسوں میں بٹھا کر کرتارپور بھیج کر حکومت بین الاقوامی سطح پر کیا پیغام دینا چاہتی ہے،عدالت
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاہور ہائی کورٹ میں نارووال روڑ کی تعمیر کا معاملہ،عدالت نے سیکرٹری کمیونیکشن اینڈ ورکس پنجاب کے جواب سے اتفاق نہ کیا۔

عدالت نے سماعت کل تک ملتوی کردی اور ڈی جی نیب کو طلب کر لیا ۔ عدالت نے روڈ میچ نہ بنانے پر حکومت کی کارکردگی پر تشویش کا اظہار کیا۔ دوران سماعت چیف جسٹس قاسم خان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں سکھ کمیونٹی اقلیت میں ہے ،لاہور سے کرتار پور کوریڈور انکے لیے بنایا گیا ۔سکھوں کو بسوں میں بٹھا کر کرتارپور بھیج کر حکومت بین الاقوامی سطح پر کیا پیغام دینا چاہتی ہے ۔

چیف جسٹس قاسم خان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سڑک کی تعمیر کا میپ بنانا حکومتی اداروں کی زمہ داری ہے بادی النظر میں یہ جواب عدالت مین سیکرٹری کی کروائی گئی یقین دہانی کی خلاف ورزی ہے ۔

چیف جسٹس قاسم خان نے لاہور سے شکرگڑھ تک روڈ کی تعمیر نہ کرنے پر شکرگڑھ بار کی درخواست پر سماعت کی ۔عدالت کے روبرو سرکاری وکیل عبدالعزیز اعوان عدالت کے سوالات کا تسلی بخش جواب نہ دے سکے ۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ قاسم خان نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ عدالت میں کروائی گئی یقین دہانی کے باوجود سڑک کی تعمیر کے لیے میچ کیوں نہین بنایا گیا ۔

کرتار پور جاتے ہوئے کبھی حکومت نے سوچا کہ اس سڑک کی کیا حالت ہے؟ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ