قائد حزب اختلاف حلیم عادل شیخ کی سندھ اسمبلی میں پریس کانفرنس:
جس میں انہوں نے سندھ حکومت کو اھرے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ سندھ میں سولین ڈکٹیٹر شپ ہے ایک خاندان کی بادشاہت ہے ۔پیپلزپارٹی جمہوریت پر یقین نہیں رکھتی اسمبلی میں پبلک اکاوئنٹس کمیٹٰی میں اپوزیشن کی کوئی نمائندگی نہیں ہے۔4 لاکھ پچاس ہزار سندھ میں بچے غذائی قلت کا شکار ہیں ۔اربوں کا بجٹ بھی ہے لیکن عوام کو سہولیات نہیں ہے ۔سندھ کرونا کا بہانا بنا کر 8 مہینے تک بچوں کو ٹیکے نہیں لگائے گئے ۔آج خسرہ کی وبا سندھ میں پھیل چکی ہے ۔کرونا سے بچائو کی کٹس وفاق دے رہی تھی لیکن پھر بھی انہوں نے کچھ نہیں کیا۔ایک طرف کہا جارہا ہے کہ سندھ کے اسپتال پر وفاق قبضہ کر رہا ہے ۔کراچی سے ٹھٹھہ تک اسپتالیں این جی اوز کو دی جارہی ہیں ۔تاکہ بجٹ این جی اوز کے ذریعے ون ونڈو کے تحت کرپشن کی جائے ۔آج سندھ میں کاشتکار پریشان ہیں 2000 قیمت مقرر کر دی گئی ہے ۔سندھ میں کاشتکاروں کو باردانہ نہیں دیا جارہا ہے ۔آج دوبارہ کاشتکاروں کو پریشان کیا جارہا ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی کے سیٹھ 1600 سے 1700 میں گندم خرید رہے ہیں۔یہی گندم دوبارہ سندھ حکومت 2000 میں خریدے گی ۔دوبارہ سندھ میں آٹے کا بحران آنے والا ہے ۔ہم مطالبہ کرتے ہیں سندھ کے کاشت کاروں کو باردانہ فراہم کیا جائے ۔شکارپور میں جنگل کا قانون ہے آج جیکب آباد میں 6 لوگ قتل ہوگئے ۔اپر سندھ کے افسران تیل چوری میں لگے ہوئے ہیں گندم کی کٹائی پر پیسےلے رہے ہیں ۔ایک خاتون ایس ایچ او نے ساڑے تین من منشیات پکڑی خوشبخت ایس ایچ او ٹالہی کو دوسرے روز ہی معطلل کریا گیا۔میر پور خاص میں ایک ایس ایچ او کے گھر سے چار ارب کی منشیات برآمد کی گئی ہے۔قمبر شہدادکوٹ کے ایک علاقےمیں صحافی کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔صحافی نے عوام کی آواز بلند کی تھی تشدد کی مزمت کرتے ہیں ۔سندھ میں کرمنل گورنس چل رہی ہے۔سندھ میں پچیس لاکھ کتے موجود ہیں ۔گزشتہ برس 25 افراد کتوں کے کاٹےسے جانبحق ہوگئے ہیں۔

Shares: