قصور ماہ صیام میں بھی قصور پولیس کے کارنامے نا بدلے تھانہ ایس ایچ او مصطفی آباد شریف ایس آئی کی ایما پر چوکی انچارچ دفتو ارشاد نکا تھانیدار اور محرر عبدالمنان مال اکٹھا کرنے لگے۔

تفصیلات کے مطابق قصور کی چوکی دفتوہ کے انچارج ارشاد تھانیدار اور محرر منان کورونا ایس او پیز کے نام پر دوکانداروں کو بلیک میل کرکے ان سے ہفتہ لینے لگے رشوت نا دینے پر پولیس اہلکار آئے روز آکر دوکان بند کروا دیتے اور مقدمات درج کرنے کی دھمکیاں بھی دیتے تھے ماجد نامی شہری نے الزام عائد کیا کہ چوکی انچارج ایس ایچ او کی ایما پر شریف شہریوں حبس بے جاں میں رکھتا ہے اور رشوت لیکر چھوڑ دیتا ہے رشوت نا دینے پر مختلف مقدمات میں پھنسانے کی دھمکیاں دیتا ہے پولیس اہلکار کو رشوت دیتے ہوئے شہری نے ویڈیو بنالی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ویڈیو میں واضح طور پر پولیس اہلکار کو رشوت لیتے دیکھا جاسکتا ہے جبکہ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ارشاد تھانیدار شہری کو دھمکیاں دیتا رہا کہ تمھیں میں نہیں چھوڑوں گا ماجد نامی شہری نے تنگ آکر ڈی پی او قصور اور محکمہ اینٹی کرپشن کو درخواست گزار دی اور ساتھ ہی یہ الزام عائد کیا کہ ایس ایچ او مصطفی آباد مہر شریف چند دن بعد دوبارہ یہاں تعینات ہوا ہے کرپٹ اور نااہل ہے جو شفارش پر دوبارہ تعینات ہوا ہے پہلے اس کے پاس بطور ایس ایچ او کوئی تجربہ بھی نہیں بلکہ اس کے خلاف کرپشن اور بے ضابطگی کی ڈھیروں شکایات ہیں اور اس کے خلاف انکوائریاں بھی چل رہی ہیں ارشاد اے ایس آئی اور محرر اس کے کار خاص ہیں جو مال بنانے میں ایس ایچ کی پالیسی میں اس کے ساتھی ہیں نکے تھانیدار کو ویڈیو کا علم ہونے کے بعد ایس ایچ او اور تھانیدار نے محرر کا تبادلہ تھانہ کھڈیاں کروا دیا تاکہ ان کا پول نا کھل سکے شہری نے ڈی پی او قصور اور محکمہ اینٹی کرپشن سے انکوائری کرکے کاروائی کا مطالبہ کر دیا جبکہ ڈی پی او قصور نے سخت کاروائی کرنے کا عندیہ دیا اور محرر عبدالمنان کو معطل کردیااور کہا کہ ایسی کالی بھیڑوں کی محکمے میں کوئی جگہ نہیں ہے شہریوں نے آئی جی پنجاب سمیت وزیر اعلی پنجاب سے نوٹس لے کر ایس ایچ شریف اور ارشاد تھانیدار کے خلاف بھی سخت کاروائی کا مطالبہ کیا ہے اور محکمہ پولیس کی ان کالی بھیڑوں کے خاتمے کی اپیل کی ہے تاکہ محکمہ پولیس سے رشوت کرپشن اور سفارش کا کلچر ختم ہو سکے اور محکمہ پولیس کا مورال بلند ہو سکے

Shares: