سویڈن کی حکومت نے قرآن پاک کی بےحرمتی کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’اسلاموفوبیا‘ سے متعلق عمل قرار دیا ہے۔

سویڈن کی وزارت خارجہ کی جانب سے اتوار 2 جولائی کو جاری کیے جانے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت اس بات کو بخوبی سمجھتی ہے کہ سویڈن میں ہونے والے مظاہروں کے دوران لوگوں کی جانب سے کی جانے والی اسلاموفوبیا کی کارروائیاں مسلمانوں کے خلاف توہین آمیز ہو سکتی ہیں-

وزارت خارجہ نے کہا کہ ہم ان اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہیں جو کسی بھی طرح سویڈش حکومت کے خیالات کی عکاسی نہیں کرتے، نسل پرستی، غیر ملکیوں سے نفرت اور اس سے متعلق عدم رواداری کی سویڈن یا یورپ میں کوئی جگہ نہیں ہے،سویڈن کو ”اجتماع، اظہار اور مظاہرے کی آزادی کا آئینی طور پر محفوظ حق حاصل ہے-

او آئی سی ہنگامی اجلاس؛ قرآن پاک کی بے حرمتی ناقابل قبول قرار

یہ مذمت سعودی عرب میں قائم اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی جانب سے مستقبل میں ایسے واقعات سے بچنے کے لیے اجتماعی اقدامات کے مطالبے کے جواب میں سامنے آئی ہے57 رکنی تنظیم نے بدھ یکم جولائی کو اپنے جدہ ہیڈ کوارٹر میں اس واقعے کا جواب دینے کے لئے اجلاس بُلایا تھا جس میں سویڈن میں مقیم ایک عراقی شہری 37 سالہ سلوان مومیکا نے مسجد کے باہر قرآن پاک کے کئی صفحات نذرآتنش کردیئے تھے۔

او آئی سی کے غیر معمولی اجلاس کے بعد جاری کیے جانے والے بیان میں رُکن ممالک پر زور دیا گیا کہ وہ قرآن کے نسخوں کی بے حرمتی کے واقعات کی روک تھام کے لیے مشترکہ اور اجتماعی اقدامات کریں قرآن پاک یا کسی بھی اور مقدس کتاب کو نذر آتش کرنا توہین آمیز اور واضح اشتعال انگیزی ہے۔

سوئیڈن میں قرآن پاک کی بے حرمتی،عراق کا جواب

عراق، کویت، متحدہ عرب امارات اور مراکش سمیت دیگر ممالک نے قرآن جلانے کے واقعے پر احتجاج کرتے ہوئے سویڈن کے سفیروں کو طلب کیا ۔

Shares: