تیس لاکھ سابق فوجی اب بھی وطن پر قربان ہونے کو تیار

قصور
افواج پاکستان کے ریٹائرڈ رینکس کی ملک گیر تنظیم نیشنل ایکس سروس مین سوسائٹی پاکستان کے مرکزی جنرل سیکریٹری میجر حبیب خان کی میڈیا سے گفتگو
تفصیلات کے مطابق نیشنل ایکس سروس مین کے جنرل سیکریٹری قصور میجر حبیب خان میو ایڈووکیٹ نے میڈیا نمائندوں سے ایک خصوصی ملاقات کی جس میں ملک کی موجودہ ابتر حالات پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ ملک ایک بار پھر انتہائی پیچیدہ صورتحال کا شکار ھے ریاستی اداروں کو مسلسل بددیانت اور سیاسی اشرافیہ کی سازشوں کا شکار بنایا جارھا ھے
سول اداروں کی کارکردگی کو سالہا سال سے اقربا پروری ،سفارش کلچر، بد دیانتی ،نا اھلی اور سیاسی مداخلت کے باعث غیر معیاری نتائج کی بدترین مثال بنا دیا گیا ہے صرف عدلیہ اور فوج بچ
اس مذموم کرتوت سے بچے ھوئے ھیں مگر سوچی سمجھی پلاننگ اور پاکستان دشمن قوتوں کی معاونت سے پاک افواج کو مسلسل تنقید ،تذلیل، توھین،اور حوصلہ شکن رویے کا نشانہ بنایا جارہا ہے جس سے قوم کی بجائے دشمنوں کو ھی فاہدہ اٹھانے ہو رہا ہے افواج پاکستان کی خدمات۔،محنت اور عظیم قربانیاں پوری قوم کو اظہر من الشمس ھیں مگر صرف کرپٹ لوگوں کو پیٹ میں مروڑ اٹھ رھے ھیں اسوقت ملک عزیز میں تیس لاکھ کے قریب ریٹائرڈ فوجی ھیں جس میں ھر رینک کے فوجی شاملِ ھیں اور وہ سب ھر وقت قوم اور ملک کیلئے جان ہتھیلی پر رکھ کر اپنی افواج کے ساتھ کھڑے ھیں کسی بد کردار خائن،بد دیانت،قبضہ مافیا،ڈرگ مافیا،منی لانڈرنگ مافیا کو کوئی غلط فہمی نہیں رھنی چاھئیے پاکستانی ایک عظیم قوم ھیں جنہوں نے فقید المثال جدوجھد اور ناقابلِ بیان قربانیوں کے بعد پاکستان کے قیام کو ممکن بنایا تھا اور یہ حقیقت میں اللہ تعالیٰ کا ھم پر بہت بڑا احسان ھے ھر سابق فوجی چاھے وہ عمر کے کسی بھی حصےمیں ھو اسلام پا کستان اور قوم کا سرفروش سپاھی ھے اور آخری سانس تک اپنا عہد وفا نبھانے گا
تو تیر آزما میں جگر آزماؤں کے مصداق ان شاءاللہ
مگر قوم کو اب فرقہ واریت،لسانیت،علاقائیت اور برادری ازم سے بچنا ھو گا جس نے ھمارے اتحاد اور اجتماعی صلاحیتوں کو ناقابل بیان نقصانات سےبارھا دوچار کیا ھے اور ھم سب اب مذید منفی رویوں کے متحمل نہیں ہو سکتے ھر شخص کو اپنی قومی ذمہ داریوں کا احساس اور ادراک کرنا ھوگا کیونکہ ھر فرد ھے ملت کے مقدر کا ستارہ
ھر شعبے کے لوگ دوسرے شعبوں کا احترام کرنے کا عزم کریں سچے مسلمان اور پاکستانی بن کر ایک دوسرے کی فلاح و بہبود کو یقینی بنائیں بین المزاھب ھم آھنگی اور دیانتداری میں پوری عالمی برادری ھم سے سبق سیکھے نہ کہ ھم بد دیانتی اور نااھلی میں مشہور ہو

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.