بھارت کے بعد اسرائیلی فوج میں خواتین اہلکاروں سے جنسی زیادتی رواج پاگیا
تل ابیب :بھارت کے بعد اسرائیلی فوج میں خواتین اہلکاروں سے جنسی زیادتی رواج پاگیا،اطلاعات کے مطابق اسرائیلی میڈیا میں شائع ہونے والے اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ 2020 کے پہلے 12 مہینوں میں 26 ریپ کے واقعات رپورٹ ہوئے، 391 غیر اخلاقی حرکتیں کی گئیں۔
اسرائیلی میڈیا زور زور سے چیخ رہا ہے کہ اسرائیلی فوج شدید بحران کی حالت میں ہے اور ایسے حال میں کہ میڈیا فوجی یونٹوں میں عصمت دری اور جنسی حملوں کی کثرت کی خبریں دے رہا ہے، دوسرے لوگ حکومت کی احتیاطی افواج کی بغاوت کے بارے میں بات کر رہے ہیں ۔
اسرائیلی اخبار یدیعوتھ احارونوتھ نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے ایک سال میں 1542 ریپ اور جنسی حملوں کے واقعات رونما ہوئے ہیں۔
عبرانی زبان کے اس اخبار کے مطابق، اگرچہ ملٹری پراسیکیوٹر کے دفتر مربوطہ اداروں میں 1,542 شکایات درج کی گئی ہیں، لیکن صرف 31 مقدمات پر کارروائی ہوئی ہے اور اسرائیلی فوج نے باقی کو نظر انداز کر دیا ہے۔
یدیعوتھ احارونوتھ کے مطابق اسرائیلی کنیسٹ کی دفاعی اور خارجہ امور کی کمیٹی کے اجلاس میں اسرائیلی فوج میں جنسی جرائم کے بارے میں ہولناک معلومات شائع کی گئیں، جن کا تعلق 2020 سے ہے اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ 2012 کے بعد سے یہ اعداد و شمار مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ جبکہ شکایات کے اس حجم کے باوجود صرف 51 اسرائیلی فوجیوں پر مقدمہ چلایا گیا۔
اسرائیلی میڈیا میں شائع ہونے والے اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ 2020 کے پہلے 12 مہینوں میں 26 ریپ کے واقعات رپورٹ ہوئے، 391 غیر اخلاقی حرکتیں کی گئیں اور اسرائیلی فوج میں خواتین فوجیوں کی 92 تصاویر اور کلپس تقسیم کی گئیں۔
احارونوتھ نے اپنی رپورٹ کے ایک اور حصے میں کنیسٹ کمیٹی کے چیئرمین رام بن بارک کے حوالے سے لکھا ہے کہ “مجھے یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ یہ ایک خطرناک اور تہدید آمیز واقعہ ہے، اسرائیلی فوج کو ان اقدامات کا حل تلاش کرنا چاہیے۔”
لیکن یہ صرف اسرائیلی فوج کا مسئلہ نہیں ہے، حکومت کے قومی نیٹ ورک “کان” نے چند روز قبل اپنی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں اسرائیلی فوج کے درجنوں احتیاطی سپاہیوں کی بغاوت اور غیرمتوقع فوجی مشق میں شرکت سے انکار کی خبر دی تھی۔
عبرانی زبان کے ذرائع ابلاغ کے مطابق، 120 احتیاطی فوجیوں نے اپنے یونٹ کمانڈروں کی طرف سے غیر اعلانیہ فوجی مشق میں شرکت کرنے سے انکار کر دیا، اور یونٹ اپنے نصف فوجیوں کے ساتھ مشق کے لیے چلی گئی۔