تیونس:کبھی یہ خبریں‌گردش کرتی تھیں کہ یورپ کے کسی ملک میں مسلمان خواتین کو نقاب پہننے سے روک دیا گیا ہے.لیکن اب نقاب اوڑھنے پر پابندی یورپ یا کسی اور مغربی ملک کی نہیں بلکہ مسلمانوں کے اپنے ملکوں میں پابندی عائد کردی گئی ہے ایسا ایک حکم تیونس کی حکومت نے جاری کیا ہے جس کےمطابقوزیر اعظم نے سرکاری دفاتر میں مسلمان خواتین کے نقاب کرنے پر پابندی عائد کردی۔

وزیر اعظم یوسف شاہد نے سرکاری سرکلر پر دستخط کر دیئے جس کے تحت عوامی انتظامیہ اور اداروں کے دفاتر میں چہرہ چھپا کر داخل ہونے پر پابندی عائد کی گئی ہے ۔خیال رہے کہ 27 جون کو شمالی افریقی ملک تیونس میں 2 خودکش دھماکے ہوئے تھے جس کے نتیجے میں 2 افراد ہلاک اور 7 زخمی ہوگئے تھے ۔نقاب، جو آنکھوں کے علاوہ پورے چہرے کو ڈھانک دیتا ہے ، پر پابندی خودکش حملوں کے بعد سیکورٹی سخت کرنے کے پیش نظر سامنے آئی

Shares: