امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ روس اور یوکرین جنگ بندی کے لیے جلد مذاکرات شروع کرنے پر تیار ہو گئے ہیں۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل” پر جاری بیان میں کہا کہ ان کی پوتن سے گفتگو نہایت "مثبت” رہی، اور دونوں فریق سیزفائر پر بات چیت کے لیے تیار ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ پیشرفت روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ہونے والی دو گھنٹے طویل ٹیلیفونک گفتگو کے بعد سامنے آئی۔ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق روس یوکرین جنگ کا خاتمہ اس وقت سب سے بڑی ترجیح ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ روس جنگ کے بعد امریکا سے بڑی سطح پر تجارت کا خواہاں ہے، جبکہ یوکرین تعمیرِ نو کے دوران تجارتی شراکت داری سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے اپنی بات چیت سے یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی، یورپی کمیشن کی صدر، اور فرانس، اٹلی، جرمنی اور فن لینڈ کے رہنماؤں کو بھی آگاہ کر دیا ہے۔ٹرمپ کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پوپ فرانسس نے بھی امن مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کی ہے۔ ان کے بقول، اس پیشکش کو فریقین نے خوش آئند قرار دیا ہے۔
واضح رہے کہ روس-یوکرین جنگ فروری 2022 سے جاری ہے اور اب تک لاکھوں جانیں ضائع ہو چکی ہیں، جبکہ یورپ اور دنیا کی معیشت بھی اس جنگ کے اثرات سے متاثر ہوئی ہے۔
سندھ حکومت کا 28 مئی کو عام تعطیل کا اعلان
ہیٹ ویو الرٹ,ملک بھر میں شدید گرمی کا امکان
برطانیہ، فرانس اور کینیڈا کی اسرائیل کو بڑی دھمکی
امریکا کی بھارتی ٹریول ایجنٹس پر ویزا پابندیاں
اسلام آباد پر بھارتی قبضے کی جھوٹی خبروں نے بھارتی عوام کو پریشان کر دیا
افواج پاکستان نے دشمن کو ناقابل فراموش سبق سکھایا، قوم ساتھ کھڑی ہے،شہباز شریف