ایوان بالا کا اجلاس برائے اقلیتوں کا تحفظ ، تبدیلی مذہب کا عدالتی طریقہ کار وضع کرنے کی منطوری

ایوان بالا کی اقلیتوں کے تحفظ اور مذہب کی جبری تبدیلی سے متعلق پارلیمانی کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس کنونیئر کمیٹی سینیٹر ڈاکٹر سکندر میندرو کی زیر صدارت پارلیمنٹ لاجز میں منعقد ہوا۔ کمیٹی کے اجلاس میں جبری تبدیلی مذہب سے متعلق قانون سازی اور ”ولی“ اور ”جبری تبدیلی“کی تعریف کے لئے اسلامی نظریاتی کونسل کے ساتھ رابطے کا ایجنڈا زیرغور آیا۔

کمیٹی جلاس میں کنوینیر کمیٹی سینیٹر ڈاکٹر سکندر میندرو نے کہاکہ پاکستان میں بسنے والے غیر مسلموں کی یہ شکایت رہی ہے کہ یہاں مذہب کو صرف شادی کے لئے تبدیل کرایا جاتا ہے۔ بیرون ممالک میں مذہب کو تبدیل کرنے کے لئے باقاعدہ عدالتوں میں طریقہ کار وضع ہے۔ کمیٹی کے اجلاس میں جبری تبدیلی مذہب سے متعلق بل پر غور کیا گیا اور بحث کی گئی۔ کمیٹی اجلاس میں متفقہ فیصلہ کیا گیا کہ بل صرف اسلام آباد میں نہیں بلکہ پورے ملک میں نافذ العمل ہوگااورمذہب کی تبدیلی کے لئے مجسٹریٹ کے پاس رجسٹریشن ضروری قرار دی جائیگی۔ کمیٹی اجلاس میں متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ 18 سال سے کم عمر کے افراد کونابالغ ہی تصور کیا جائے۔کمیٹی کے اجلاس میں مذہب تبدیل کرنے والا باقاعدہ مجسٹریٹ کو درخواست دے گا، مجسٹریٹ مذہب تبدیلی کے حوالے سے باقاعدہ تقریب کا انعقاد کرے گا، جبری تبدیلی مذہب میں ملوث افراد کو پانچ سے دس سال قید کی سزا او راس معاملے میں سہولت کار کو تین سے پانچ سال سزا کی بھی تجاویز زیر غور آئیں۔ کنونیئر کمیٹی سینیٹر ڈاکٹر سکندر میندرو نے وزرات انسانی حقوق اور وزرات قانون کو ہدایت کی کہ ایک ہفتے کے اندر بل ڈرافٹ تیار کیاجائے۔

کمیٹی اجلاس میں اسلامی نظریاتی کونسل کی جانب سے جبری تبدیلی مذہب سے متعلق قانون سازی اور ”ولی“ او ر”زبردستی تبدیلی“کی تعریف کے حوالے سے جواب جمع کرایا گیا اور کہا گیا کہ کونسل ابھی مکمل نہیں ہے لہذا عبوری رائے دے سکتے ہیں۔جس پر کنونیئر کمیٹی نے کہا کہ کونسل کے جواب کا آئندہ اجلاس میں تفصیل سے جائزہ لیا جائے گا۔

کمیٹی اجلاس میں ایم این اے لال چند کے علاوہ وزارت قانون، اسلامی نظریاتی کونسل، وزارت مذہبی امور اور وزارت انسانی حقوق کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.