خواتین کا آن لائن کام اور ہراسمنٹ ،تحریر:ندیم یعقوب گوہر
نقطہ نظر
ڈیجیٹل دور کے آغاز کے ساتھ ہی جب انٹرنیٹ کی دنیا پھیلی تو ایسا محسوس ہوا کہ گھر کی چاردیواری میں مقید رہنے پر مجبور باصلاحیت خواتین کے لیے معاشی خود مختاری کے دروازے کھل گئے ہیں۔ خواب بُنے گئے کہ اب تعلیم یافتہ بیٹیوں اور گھریلو خواتین کو نہ تو پبلک ٹرانسپورٹ کے دھکے کھانے پڑیں گے اور نہ ہی روایتی دفاتر کی سفاک سرد مہری جھیلنی پڑے گی۔ لیکن وقت نے ثابت کیا کہ ٹیکنالوجی کے چمکتے پردے کے پیچھے بھی وہی پرانا پدر شاہی نظام، استحصال اور اخلاقی پسماندگی منہ کھولے کھڑی ہے۔ فزیکل دنیا کے تپتے راستوں سے بچ کر جب ایک عورت اسکرین کے سامنے بیٹھتی ہے تو وہ محض جگہ بدلتی ہے، اس کے گرد مسائل کے کانٹے بدستور موجود رہتے ہیں۔
اس کی تلخ ترین مثال لاہور سے تعلق رکھنے والی گرافک ڈیزائنر آمنہ کی کہانی ہے۔ ماسٹرز مکمل کرنے کے بعد جب خاندان نے روایتی نوکری کی اجازت نہ دی تو اس نے فری لانسنگ کے ذریعے گھر بیٹھے روزگار کمانے کی ٹھانی۔ دن رات کی کڑی محنت کے بعد اسے سوشل میڈیا کے ذریعے بیرونِ ملک مقیم ایک مقامی کاروباری شخص کا بڑا پروجیکٹ ملا۔ شروعات میں سب کچھ پیشہ ورانہ لگا، مگر جیسے ہی کام آخری مراحل میں داخل ہوا تو اس شخص نے کاروباری واٹس ایپ پر رات کے وقت غیر اخلاقی پیغامات، نامناسب ذاتی سوالات اور تحائف کی پیشکش شروع کر دی۔ جب آمنہ نے انتہائی سنجیدگی سے واضح کیا کہ وہ محض کام کے حوالے سے بات کر رہی ہے، تو اگلی ہی صبح اس کے چہرے سے بنی ایک بے ہودہ ایڈیٹ شدہ تصویر واٹس ایپ پر بھیج دی گئی اور دھمکی دی گئی کہ اگر مزید بات چیت سے انکار کیا گیا تو یہ تصویر اس کے اہلِ خانہ کو بھیج کر بدنام کر دیا جائے گا، اور ساتھ ہی مہینے بھر کی کمائی روک لی گئی۔ آمنہ شدید خوف اور احساسِ گناہ کا شکار ہو گئی۔ وہ یہ تک نہ بتا سکی کہ اس کا قصور محض اتنا تھا کہ اس نے رزقِ حلال کے لیے اپنے قلم اور ہنر کا سہارا لیا تھا۔ یوں ایک روشن مستقبل محض چند بدقماش میسجز کی نذر ہو کر خاموشی کی تاریکی میں ڈوب گیا۔
آمنہ کی کہانی کوئی اکیلا واقعہ نہیں بلکہ ہزاروں ایسی خواتین کی نمائندگی کرتی ہے جو روزانہ اسکرین کی اس پار ذہنی دباؤ جھیلتی ہیں۔ آن لائن کام کے دوران خواتین کو درپیش سب سے بڑا ناسور سائبر ہراسانی ہے۔ پروفائل پکچرز کو چوری کر کے ان کا غلط استعمال، واٹس ایپ اور ویڈیو کالز کی آڑ میں غیر اخلاقی فرمائشیں اور انکار کی صورت میں گندے پیغامات کے ذریعے کردار کشی کرنا عام ہو چکا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ اکثر کلائنٹس یہ گمان کرتے ہیں کہ چونکہ ایک عورت گھر پر بیٹھ کر کام کر رہی ہے، اس لیے وہ معاشی مجبوری کی شکار ہے اور اس پر کسی بھی وقت اپنی گھٹیا ذہنیت تھوپی جا سکتی ہے۔
اس ہراسانی کے ساتھ دوسرا بڑا بحران مالی استحصال کا ہے۔ کام کروانے کے بعد پے منٹ نہ دینا، مائیکرو ٹاسک کے نام پر دن رات مشقت لے کر کوڑیوں کے مول اجرت ادا کرنا اور خواتین کی مجبوری کا فائدہ اٹھا کر کم ریٹس طے کرنا معمول بن چکا ہے۔ اس پر مزید ستم یہ کہ پاکستان جیسے ممالک میں بین الاقوامی پیمنٹ گیٹ ویز کی عدم دستیابی اور خواتین کے لیے مالیاتی خود مختاری کی کمی کے باعث وہ اکثر رشتہ داروں یا تیسرے فریق کے اکاؤنٹس کی محتاج ہوتی ہیں، جہاں ان کی محنت کی کمائی بھی شفافیت سے ان کے ہاتھ نہیں آتی۔
تیسری بڑی مشکل وہ دوہرا بوجھ ہے جو معاشرہ عورت کے کندھوں پر ڈالتا ہے۔ جب ایک مرد گھر پر کام کرتا ہے تو اسے "ورک فرام ہوم" کی عزت دی جاتی ہے اور مکمل خاموشی مہیا کی جاتی ہے، مگر عورت کے لیے لیپ ٹاپ پر بیٹھنے کا مطلب محض تفریح سمجھا جاتا ہے۔ صبح کے ناشتے سے لے کر بچوں کی دیکھ بھال، چولہا چوکا اور سسرالی مطالبات کے درمیان اسے ایک ایک گھنٹہ چرا کر ڈیڈلائنز پوری کرنی پڑتی ہیں۔ خاندان کے ارکان کی طرف سے بار بار طعنے، بے جا شکوک و شبہات اور موبائل پر نظریں جمانے کو آوارگی سے تعبیر کرنا اس کے ذہنی سکون کو ریزہ ریزہ کر دیتا ہے۔ بجلی کی بے تحاشہ لوڈشیڈنگ، انٹرنیٹ کا بار بار معطل ہونا اور پرسکون ورک اسپیس کی عدم موجودگی رہی سہی کسر پوری کر دیتی ہے، جس سے نہ صرف ان کی ذہنی صحت برباد ہوتی ہے بلکہ مستقل سردرد، انزائٹی اور مایوسی ان کا مقدر بن جاتی ہے۔
اس گھمبیر صورتحال کا حل محض شکوے کرنے میں نہیں بلکہ ٹھوس دفاعی اور قانونی حکمت عملی اپنانے میں ہے۔ سب سے پہلے خواتین کو اپنے کام میں بے لچک پیشہ ورانہ سرحدیں قائم کرنا ہوں گی۔ ذاتی فون نمبر، ذاتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور گھریلو تفصیلات کو پروفیشنل زندگی سے سختی سے الگ رکھنا ناگزیر ہے۔ مریضوں یا کلائنٹس سے بات چیت کے لیے مخصوص کاروباری نمبر، تصدیق شدہ پورٹلز اور باضابطہ ای میلز ہی استعمال کی جائیں۔ کسی بھی کلائنٹ کے ساتھ زبانی کلامی کے بجائے باقاعدہ تحریری معاہدہ کیا جائے اور کم از کم نصف رقم پیشگی ایڈوانس کے طور پر لی جائے۔
دوسرا حل قانونی آگاہی اور فوری کارروائی ہے۔ اگر کوئی شخص گندے میسجز کرے، نازیبا سوالات پوچھے یا بلیک میل کرنے کی کوشش کرے تو کبھی بھی اس سے بحث نہ کریں اور نہ ہی خوفزدہ ہو کر شواہد ڈیلیٹ کریں۔ تاریخ، وقت اور نمبر کے ساتھ تمام اسکرین شاٹس محفوظ کریں اور پہلی و آخری سخت وارننگ کے بعد اس نمبر کو بلاک کر دیں۔ اس جرم کی باقاعدہ رپورٹ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA/FIA) کی ہیلپ لائن 1991 پر درج کروائی جائے اور ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن کی ہیلپ لائن سے مفت قانونی رہنمائی لی جائے۔
سب سے اہم حل ہمارے خاندانی اور معاشرتی رویوں میں چھپا ہے۔ خاندانوں کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ اسکرین کے سامنے بیٹھ کر کمانا کوئی کھیل تماشا نہیں بلکہ باقاعدہ روزگار ہے۔ والدین اور شوہروں کو اپنی بیٹیوں اور بیویوں پر شک کرنے اور ان کے ہر میسج کا پوسٹ مارٹم کرنے کے بجائے ان کا حفاظتی حصار بننا چاہیے۔ جب ایک عورت کو اپنے گھر سے تحفظ، مناسب پرسکون جگہ اور اعتماد ملے گا تو باہر کا کوئی بھی بلیک میلر یا اوباش شخص اسے خوفزدہ کرنے کی ہمت نہیں کر سکے گا۔ ڈیجیٹل دنیا کو خواتین کے لیے محفوظ بنانا اب محض کوئی اخلاقی مطالبہ نہیں رہا بلکہ ہمارے ملک کی نصف آبادی کی معاشی بقا کا ناگزیر تقاضا ہے۔
مزید پڑھیں





