آزادیٔ صحافت ، ذمہ دارانہ اظہار کی امانت،تحریر: طاہر محمود
نقطہ نظر
صحافت کسی معاشرے کی آنکھ، کان اور زبان ہوتی ہے۔ یہ محض خبروں کی ترسیل کا نام نہیں بلکہ حقائق کی تلاش، عوامی مسائل کی ترجمانی، مظلوم کی آواز، حکمرانوں سے سوال اور معاشرتی شعور کی بیداری کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ ایک سچا اور ذمہ دار صحافی اپنے قلم کو محض اظہار کا وسیلہ نہیں سمجھتا بلکہ اسے ایک امانت تصور کرتا ہے، کیونکہ قلم سے نکلنے والا ہر لفظ کسی فرد کی عزت، کسی ادارے کی ساکھ اور کبھی پورے معاشرے کی سوچ پر اثرانداز ہو سکتا ہے۔
آئینِ پاکستان نے آزادیٔ اظہار اور آزادیٔ صحافت کو بنیادی اہمیت دی ہے۔ آئین کا آرٹیکل 19 ہر شہری کو آزادیٔ اظہار اور آزادیٔ صحافت کا حق دیتا ہے، تاہم یہ حق قانون کے تحت معقول پابندیوں سے مشروط ہے۔ یہی نکتہ اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ آزادی اور ذمہ داری ایک دوسرے سے جدا نہیں ہو سکتے۔
آزادیٔ اظہار کا حق جتنا اہم ہے، اس حق کا ذمہ دارانہ استعمال بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ صحافت کا اصل حسن سچائی، تحقیق، دیانت اور عوامی مفاد میں ہے۔ ایک خبر کتنی ہی اہم کیوں نہ ہو، اگر اس کی تصدیق نہ کی گئی ہو تو اسے محض سنسنی پیدا کرنے کے لیے شائع کرنا صحافت کی روح کے منافی ہے۔
ایک ذمہ دار صحافی خبر اور رائے میں فرق رکھتا ہے، مختلف ذرائع سے معلومات کی تصدیق کرتا ہے، متعلقہ فریق کا مؤقف جاننے کی کوشش کرتا ہے اور اختلافِ رائے کو ذاتی دشمنی میں تبدیل نہیں ہونے دیتا۔ کیونکہ صحافت کی اصل طاقت صرف یہ نہیں کہ وہ بول سکتی ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ سچ بولنے کے ساتھ اپنی ذمہ داری کو بھی سمجھتی ہے۔
آج کے ڈیجیٹل دور میں صحافت کا کردار مزید وسیع ہو چکا ہے۔ ایک خبر چند لمحوں میں ہزاروں بلکہ لاکھوں لوگوں تک پہنچ سکتی ہے۔ اس رفتار نے جہاں اظہار کے مواقع بڑھائے ہیں، وہیں غیر مصدقہ اطلاعات، افواہوں اور غلط معلومات کے پھیلاؤ کے خطرات بھی پیدا کیے ہیں۔ اس لیے آج کے صحافی کے لیے صرف سب سے پہلے خبر دینا کامیابی نہیں؛ درست، مصدقہ اور ذمہ دارانہ خبر دینا اصل صحافتی کامیابی ہے۔
صحافی معاشرے کا آئینہ ہوتا ہے۔ آئینہ حقیقت کو اپنی مرضی کے مطابق تبدیل نہیں کرتا، بلکہ منظر کو اسی طرح دکھاتا ہے جیسا وہ ہے۔ اسی طرح صحافت کا فرض بھی یہی ہے کہ معاشرے کے مسائل کو حقیقت کے ساتھ سامنے لایا جائے۔ تعلیم، صحت، روزگار، بنیادی سہولیات، عوامی مشکلات اور معاشرتی ناانصافیوں کو اجاگر کرنا صحافت کے اہم فرائض میں شامل ہے۔
آرٹیکل 19 کی روح صرف بولنے کی آزادی میں نہیں بلکہ سوال کرنے، معلومات حاصل کرنے، اختلافِ رائے پیش کرنے اور مکالمے کو زندہ رکھنے میں بھی پوشیدہ ہے۔ ایک مہذب معاشرے میں اختلافِ رائے کو برداشت کرنا اور دلیل کے ساتھ جواب دینا جمہوری رویے کی علامت ہے۔
تاہم آزادیٔ اظہار کو دوسروں کی عزت، نجی زندگی اور حقوق پامال کرنے کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔ تنقید اور تضحیک میں فرق ہے، سوال اور الزام میں فرق ہے، اختلاف اور دشمنی میں فرق ہے۔ ایک باوقار صحافی ان حدود کو سمجھتا ہے اور اپنے قلم کو نفرت کے بجائے اصلاح، انتشار کے بجائے شعور اور تصادم کے بجائے مکالمے کے لیے استعمال کرتا ہے۔
آج ضرورت ایسی صحافت کی ہے جو دباؤ کے سامنے سچ کو فراموش نہ کرے، مگر آزادی کے نام پر ذمہ داری کو بھی نظرانداز نہ کرے۔ ایسا صحافی جو طاقتور سے سوال کرنے کا حوصلہ رکھتا ہو، مگر کمزور پر الزام عائد کرنے سے پہلے تحقیق بھی کرے۔ ایسا قلم جو خبر کی رفتار سے زیادہ خبر کی صحت کو اہمیت دے اور ایسا میڈیا جو عوام کو صرف معلومات نہ دے بلکہ انہیں سوچنے، سمجھنے اور سوال کرنے کا شعور بھی عطا کرے۔
آخرکار آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 19 آزادیٔ اظہار اور آزادیٔ صحافت کے حق کو تسلیم کرتا ہے، جبکہ صحافت کا اخلاقی تقاضا اس آزادی کو سچائی، دیانت اور ذمہ داری کے ساتھ استعمال کرنا ہے۔
آزاد قلم معاشرے کو سوال کرنا سکھاتا ہے، اور ذمہ دار قلم معاشرے کو سچ سمجھنے کا شعور دیتا ہے۔ یہی صحافت کی اصل طاقت، قلم کی اصل حرمت اور آزادیٔ اظہار کی حقیقی روح ہے۔
مزید پڑھیں





