بے اثر نگاہیں،تحریر:دانیال حسن چغتائی
نقطہ نظر
انسانی تعلقات اور جذبات کی دنیا نہایت نازک، باریک اور حساس اصولوں پر قائم ہے۔ زندگی کے اس طویل سفر میں انسان بے شمار رشتوں سے جڑتا ہے، نئے چہروں سے شناسا ہوتا ہے اور اپنے جذبات، احساسات اور ضروریات کو دوسروں کے سامنے ظاہر کرتا ہے۔ انسان اپنے دکھ درد، التجا، محبت اور بے بسی کا اظہار صرف الفاظ ہی کے ذریعے نہیں کرتا بلکہ اس سے کہیں زیادہ گہرا اور سچا اظہار اس کی آنکھوں، نگاہوں اور انداز سے ہوتا ہے۔ لیکن جب انسان کا سامنا ایسے فرد سے ہو جائے جو اس کی خاموش آنکھوں کی التجا، نگاہ کے کرب اور دل کی تڑپ کو پڑھنے اور سمجھنے سے قاصر ہو تو وہاں اپنے الفاظ کا سہارا لینا، زبان سے منت و زاری کرنا اور اپنے سوال کو دہرانا درحقیقت اپنی ذات، وقار اور احساس کی توہین ہے کہ جو شخص نگاہ کی التجا نہ سمجھے اس کے سامنے زبان کو شرمندہ مت کرو۔
نگاہ یا آنکھیں انسان کے باطن کا سب سے بڑا آئنہ دار ہوتی ہیں۔ جب دل میں درد جاگتا ہے، روح میں التجا جنم لیتی ہے یا جب انسان سخت آزمائش اور بے بسی کا شکار ہوتا ہے تو اس کی آنکھیں بغیر بولے تمام حال بیان کر دیتی ہیں۔ نگاہوں کی اپنی زبان ہوتی ہے جو الفاظ کی محتاج نہیں ہوتی۔ تعلقات، دوستیوں اور مخلص رشتوں کی پہچان ہی یہ ہوتی ہے کہ وہاں گفتگو کے لیے الفاظ تلاش نہیں کرنے پڑتے۔ وہاں نگاہوں کے اشارے، آنکھوں کی نمی اور چہرے کی خاموشی سے دل کا حال معلوم ہو جاتا ہے۔ جسے آپ سے سچی محبت، ہمدردی اور تعلق ہوگا، وہ آپ کی آنکھوں میں چھپی التجا کو فوراً پڑھ لے گا اور آپ کے مانگنے سے پہلے، آپ کے زبان کھولنے سے پہلے آپ کی ضرورت یا جذبے کو مان دے گا۔
لیکن دوسری طرف، دنیا میں ہر شخص اس صلاحیت اور ظرف کا مالک نہیں ہوتا۔ کچھ لوگ جذباتی طور پر اس قدر بے حس، خود غرض یا نا آشنا ہوتے ہیں کہ وہ آپ کے چہرے پر لکھی ہوئی تحریر کو بھی نہیں پڑھ پاتے۔ یا پھر بعض اوقات وہ سب کچھ دیکھ اور سمجھ کر بھی انجان بننے کی اداکاری کرتے ہیں۔ جب آپ کسی کے سامنے اپنی نگاہوں سے مدد، توجہ، محبت یا رعایت کی التجا کرتے ہیں اور دوسری طرف سے مکمل بے حسی، سرد مہری یا لاپرواہی کا مظاہرہ ہوتا ہے تو اس کا صاف اور واضح مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس شخص کے دل میں آپ کے لیے یا آپ کے احساسات کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔
ایسی صورت حال میں اگر انسان اپنی انا اور خودداری کو بھول کر زبان کا استعمال کرے، الفاظ کے ذریعے اپنی التجا کو بیان کرے اور التجا و زاری کا راست اختیار کرے تو اسے سوائے ندامت، شرمندگی اور ذلت کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ زبان کو شرمندہ کرنے کا مطلب یہی ہے کہ اپنے الفاظ کو کسی ایسے شخص کے سامنے ضائع کرنا جو ان کی قیمت سے ناواقف ہے۔ جب آنکھوں کا پیغام کسی کے دل پر اثر نہ کر سکا تو زبان سے نکلے ہوئے الفاظ بھلا کیسے اس کے پتھر دل کو پگھلا سکیں گے؟ ایسے موقع پر مانگی گئی رعایت یا التجا انسان کو دوسرے کی نظر میں اور بعض اوقات اپنی نظروں میں بھی گرا دیتی ہے۔
خودداری اور پاسِ عزتِ نفس انسان کا وہ سرمایۂ حیات ہے جس کی حفاظت ہر حال میں لازمی ہے۔ مشکلات، غم اور ضرورت انسان کی زندگی کا حصہ ہیں اور کسی سے مدد مانگنا یا اپنے دل کا حال بیان کرنا کوئی گناہ نہیں لیکن اس کے لیے ظرف اور مخاطب کا انتخاب نہایت اہم ہے۔ اگر مخاطب کے اندر اتنی بھی حساسیت نہیں کہ وہ آپ کی نگاہ کا کرب دیکھ سکے تو اس کے سامنے اپنی زبان کھولنا اپنی خودداری کا سودا کرنے کے مترادف ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی تکالیف اور التجا کا بوجھ صرف اسی ذات کے سامنے رکھے جو بن مانگے دیتی ہے اور جو آنکھوں کے اشکوں سے پہلے دل کی دھڑکنوں کو سنتی ہے، یعنی اللہ تعالی کی ذات۔ اور اگر بندوں سے کچھ کہنا بھی پڑے تو صرف ان کے سامنے جو آپ کے مانگے بغیر آپ کے مان کو برقرار رکھیں۔
اس قول کا اجتماعی اور نفسیاتی پہلو یہ بھی ہے کہ یہ انسان کو اپنے اندر جذباتی دانشمندی اور خود ضبطی پیدا کرنے کا درس دیتا ہے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ہر جگہ اور ہر شخص کے سامنے اپنے جذبات کی نمائش نہیں کرنی چاہیے۔ جہاں احساس کی قدر نہ ہو، وہاں خاموشی سب سے بہترین جواب ہوتی ہے۔ خاموشی انسان کے وقار کو برقرار رکھتی ہے اور اسے بے عزتی اور شرمندگی سے بچاتی ہے۔ جب آپ یہ دیکھ لیں کہ آپ کی نگاہ کی التجا بے اثر ہو گئی ہے۔تو وہیں اپنے الفاظ کو روک لینا، اپنے قدم پیچھے ہٹا لینا اور خاموشی کی چادر اوڑھ لینا ہی عقل مندی ہے۔
عزت اور خودداری اسی میں ہے کہ انسان اپنی التجا کو ارزاں نہ کرے۔ جو شخص آپ کی خاموشی کو نہ سمجھ سکے، وہ آپ کی زبان سے نکلے ہوئے ہزاروں الفاظ کو بھی نہیں سمجھ سکتا۔ اس لیے، جہاں نگاہوں کی التجا کی قدر نہ ہو، وہاں زبان کو خاموش رکھ کر اپنی اور اپنے الفاظ کی حرمت کی حفاظت کرنی چاہیے۔ خاموشی کا یہ بھرم انسان کو دنیا کے سامنے شرمندہ ہونے سے بچاتا ہے اور اس کے وقار کو بلند رکھتا ہے۔
مزید پڑھیں





