بھنور میں پھنس ہوا شخص،افسانہ نگار: ندیم یعقوب گوہر
نقطہ نظر
مہینے کی پہلی تاریخ اصغر کے لیے کبھی خوشخبری بن کر نہیں آئی تھی۔ تنخواہ کا لفافہ جب اس کے کانپتے ہاتھوں میں آتا، تو اسے لگتا کہ وہ کوئی رقم نہیں بلکہ کاغذ کی ایک ایسی ناؤ تھامے کھڑا ہے جسے سمندر کی بے رحم لہروں میں اترتے ہی ڈوب جانا ہے۔
اصغر ایک نجی دفتر میں معمولی کلرک تھا۔ اس کی کل کائنات دو کمروں کا وہ کرائے کا مکان تھا جس کی دیواروں کی نمی اب اس کے وجود میں اتر چکی تھی۔ گھر میں بیمار بوڑھی ماں تھی، سلیقہ مند مگر حالات سے شل ہوئی بیوی شائستہ، اور دو معصوم بچیاں جن کی آنکھیں ہمیشہ کسی ان کہی امید سے چمکتی تھیں۔
"اس بار راشن کے ساتھ بچیوں کی اسکول فیس ضرور دے دیجیے گا، پچھلے مہینے کا نوٹس آیا رکھا ہے،" شائستہ نے چائے کی پیالی سامنے رکھتے ہوئے دھیمے لہجے میں کہا۔ اس کی آواز میں شکوہ نہیں تھا، صرف ایک بے بس گزارش تھی۔
اصغر نے پیالی اٹھائی۔ چائے کی پھیکی گرمائش اس کے حلق میں اتر گئی۔ اس نے جیب سے تنخواہ نکالی اور میز پر رکھ دی، ساتھ ہی وہ پرانی ڈائری بھی جس کے صفحات پر حساب کتاب کے نام پر مایوسی کے کھاتے کھلے ہوئے تھے۔
وہ ہر مہینے ایک نیا منصوبہ بناتا تھا۔ وہ خرچوں کو ایسے سمیٹتا جیسے بکھری ہوئی ریت کو مٹھی میں قید کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس بار بھی اس نے پورا خاکہ کھینچا: بجلی کا بل، دکان دار کا پچھلا ادھار، راشن، اسکول کی فیس اور ماں کی دوائیاں۔ سب کچھ کوڑی کوڑی جوڑ کر برابر ہو گیا۔ اس نے ایک گہرا سانس لیا اور سوچا کہ شاید اس بار وہ بھنور کے کنارے تک پہنچ جائے گا۔
مگر تقدیر کا بھنور شاید اسی انتظار میں رہتا تھا کہ وہ کب سکون کی سانس لے۔
دوسرے ہی دن ماں کی طبیعت اچانک بگڑ گئی۔ رات کے پچھلے پہر انہیں لے کر اسپتال بھاگنا پڑا۔ نجی کلینک کے باہر لگے میڈیکل اسٹور کے کاؤنٹر پر جب بل کی پرچی اس کے ہاتھ میں آئی، تو اس کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔ وہ رقم جو اس نے بچیوں کی چھ ماہ سے رکی ہوئی فیس اور گھر کے راشن کے لیے الگ رکھی تھی، چند لمحوں میں دواؤں اور ٹیسٹوں کے نام پر اڑ گئی۔
گھر لوٹتے ہوئے صبح کے دھندلکے میں اس کے قدم من من بھر کے ہو رہے تھے۔ وہ جانتا تھا کہ اب کیا ہوگا۔ راشن والا ادھار بند کر چکا تھا اور دودھ والے نے کل ہی دروازے پر کھڑے ہو کر سخت سست کہا تھا۔
اس نے بھنور سے نکلنے کے لیے مزید ہاتھ پاؤں مارنے کا فیصلہ کیا۔ دفتر کے بعد اس نے شام کو ایک گودام میں مال کی گنتی اور بوجھ اٹھانے کا کام شروع کر دیا۔ وہ رات گئے تک جاگتا، جسم کا ہر انگ درد سے چلاتا، مگر دل میں یہ آس رہتی کہ شاید ان اضافی پیسوں سے وہ خسارہ پورا کر لے گا۔
پندرہ دن یونہی گزرے۔ اصغر کی آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے گہرے ہو گئے اور اس کی کمر جھک گئی۔ مہینے کا تیسرا ہفتہ تھا جب دفتر کے پرانے موٹر سائیکل کا انجن دورانِ سفر بیٹھ گیا۔ روزی روٹی کا واحد سہارا، جس پر وہ دفتر اور شام کے کام پر جاتا تھا، دھواں چھوڑ کر رک گیا۔ مکینک نے خرچہ اتنا بتایا جتنا اس نے پندرہ دنوں کی اضافی مشقت سے کمایا تھا۔
اصغر سڑک کے کنارے بیٹھ گیا۔ سر اس کے گھٹنوں میں چھپ گیا۔ اسے محسوس ہوا کہ وہ ایک ایسی دلدل میں ہے جہاں سے نکلنے کے لیے اٹھایا جانے والا ہر قدم اسے مزید گہرائی میں دھکیل دیتا ہے۔ اس نے ہمت کی، دوستوں کے آگے ہاتھ پھیلایا، کچھ ادھار پکڑا اور بائیک ٹھیک کروا کر گھر لوٹا۔ مگر جب گھر کا دروازہ کھلا تو سامنے بچیوں کے روتے ہوئے چہرے تھے۔
"اسکول سے نام کاٹ دیا ہے بابا،" بڑی بیٹی نے سسکتے ہوئے کہا۔ "ہمیں سب کے سامنے کلاس سے باہر کھڑا کر دیا گیا۔"
یہ الفاظ نہیں تھے، تیر تھے جو اصغر کے سینے کے پار ہو گئے۔ اس کے اندر کا باپ پلک جھپکتے ہی مر گیا اور ایک لاچار مجسمہ باقی رہ گیا۔ شائستہ نے اسے سہارا دینا چاہا، تسلی کے دو بول بولنے چاہے، مگر اس کی اپنی آنکھوں سے بہتے آنسو اصغر کے زخموں پر نمک بن کر گر رہے تھے۔
رات کو جب سارا گھر سو گیا، اصغر چھت پر آ کھڑا ہوا۔ آسمان پر تارے چمک رہے تھے، بالکل بے نیاز، بے پروا۔ نیچے گلی میں ایک کتا رو رہا تھا۔
اصغر نے اپنے دونوں ہاتھوں کو دیکھا، جو دن بھر کی مشقت سے کھردری اور زخمی ہو چکے تھے۔ اس نے کبھی عیاشی نہیں مانگی تھی، نہ کوئی بڑا محل چاہا تھا؛ وہ تو بس اپنے بچوں کے لیے دو وقت کی عزت کی روٹی اور ایک پرسکون رات مانگ رہا تھا۔ مگر نظامِ زندگی کا بھنور اتنا بے رحم تھا کہ وہ جتنا زور لگاتا، اتنی ہی تیزی سے ڈوبتا چلا جاتا تھا۔
ہوا کا ایک سرد جھونکا آیا۔ اس نے جیب میں ہاتھ ڈالا، جہاں اگلے دن کے دودھ کے لیے بھی پورے سکے موجود نہیں تھے۔ اس نے ایک بار پھر آسمان کی طرف دیکھا، خالی آنکھوں میں نہ کوئی آنسو تھا، نہ امید۔ صبح پھر وہی سورج نکلنا تھا، پھر وہی دکان دار کا تقاضا، وہی دفتر کی جھڑکیاں، اور وہی نہ ختم ہونے والی جدوجہد۔ وہ جانتا تھا کہ وہ ہار چکا ہے، مگر المیہ یہ تھا کہ وہ اس بھنور میں جینے کے لیے ابھی مزید لڑنے پر مجبور تھا۔
مہینے کی پہلی تاریخ اصغر کے لیے کبھی خوشخبری بن کر نہیں آئی تھی۔ تنخواہ کا لفافہ جب اس کے کانپتے ہاتھوں میں آتا، تو اسے لگتا کہ وہ کوئی رقم نہیں بلکہ کاغذ کی ایک ایسی ناؤ تھامے کھڑا ہے جسے سمندر کی بے رحم لہروں میں اترتے ہی ڈوب جانا ہے۔
اصغر ایک نجی دفتر میں معمولی کلرک تھا۔ اس کی کل کائنات دو کمروں کا وہ کرائے کا مکان تھا جس کی دیواروں کی نمی اب اس کے وجود میں اتر چکی تھی۔ گھر میں بیمار بوڑھی ماں تھی، سلیقہ مند مگر حالات سے شل ہوئی بیوی شائستہ، اور دو معصوم بچیاں جن کی آنکھیں ہمیشہ کسی ان کہی امید سے چمکتی تھیں۔
"اس بار راشن کے ساتھ بچیوں کی اسکول فیس ضرور دے دیجیے گا، پچھلے مہینے کا نوٹس آیا رکھا ہے،" شائستہ نے چائے کی پیالی سامنے رکھتے ہوئے دھیمے لہجے میں کہا۔ اس کی آواز میں شکوہ نہیں تھا، صرف ایک بے بس گزارش تھی۔
اصغر نے پیالی اٹھائی۔ چائے کی پھیکی گرمائش اس کے حلق میں اتر گئی۔ اس نے جیب سے تنخواہ نکالی اور میز پر رکھ دی، ساتھ ہی وہ پرانی ڈائری بھی جس کے صفحات پر حساب کتاب کے نام پر مایوسی کے کھاتے کھلے ہوئے تھے۔
وہ ہر مہینے ایک نیا منصوبہ بناتا تھا۔ وہ خرچوں کو ایسے سمیٹتا جیسے بکھری ہوئی ریت کو مٹھی میں قید کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس بار بھی اس نے پورا خاکہ کھینچا: بجلی کا بل، دکان دار کا پچھلا ادھار، راشن، اسکول کی فیس اور ماں کی دوائیاں۔ سب کچھ کوڑی کوڑی جوڑ کر برابر ہو گیا۔ اس نے ایک گہرا سانس لیا اور سوچا کہ شاید اس بار وہ بھنور کے کنارے تک پہنچ جائے گا۔
مگر تقدیر کا بھنور شاید اسی انتظار میں رہتا تھا کہ وہ کب سکون کی سانس لے۔
دوسرے ہی دن ماں کی طبیعت اچانک بگڑ گئی۔ رات کے پچھلے پہر انہیں لے کر اسپتال بھاگنا پڑا۔ نجی کلینک کے باہر لگے میڈیکل اسٹور کے کاؤنٹر پر جب بل کی پرچی اس کے ہاتھ میں آئی، تو اس کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔ وہ رقم جو اس نے بچیوں کی چھ ماہ سے رکی ہوئی فیس اور گھر کے راشن کے لیے الگ رکھی تھی، چند لمحوں میں دواؤں اور ٹیسٹوں کے نام پر اڑ گئی۔
گھر لوٹتے ہوئے صبح کے دھندلکے میں اس کے قدم من من بھر کے ہو رہے تھے۔ وہ جانتا تھا کہ اب کیا ہوگا۔ راشن والا ادھار بند کر چکا تھا اور دودھ والے نے کل ہی دروازے پر کھڑے ہو کر سخت سست کہا تھا۔
اس نے بھنور سے نکلنے کے لیے مزید ہاتھ پاؤں مارنے کا فیصلہ کیا۔ دفتر کے بعد اس نے شام کو ایک گودام میں مال کی گنتی اور بوجھ اٹھانے کا کام شروع کر دیا۔ وہ رات گئے تک جاگتا، جسم کا ہر انگ درد سے چلاتا، مگر دل میں یہ آس رہتی کہ شاید ان اضافی پیسوں سے وہ خسارہ پورا کر لے گا۔
پندرہ دن یونہی گزرے۔ اصغر کی آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے گہرے ہو گئے اور اس کی کمر جھک گئی۔ مہینے کا تیسرا ہفتہ تھا جب دفتر کے پرانے موٹر سائیکل کا انجن دورانِ سفر بیٹھ گیا۔ روزی روٹی کا واحد سہارا، جس پر وہ دفتر اور شام کے کام پر جاتا تھا، دھواں چھوڑ کر رک گیا۔ مکینک نے خرچہ اتنا بتایا جتنا اس نے پندرہ دنوں کی اضافی مشقت سے کمایا تھا۔
اصغر سڑک کے کنارے بیٹھ گیا۔ سر اس کے گھٹنوں میں چھپ گیا۔ اسے محسوس ہوا کہ وہ ایک ایسی دلدل میں ہے جہاں سے نکلنے کے لیے اٹھایا جانے والا ہر قدم اسے مزید گہرائی میں دھکیل دیتا ہے۔ اس نے ہمت کی، دوستوں کے آگے ہاتھ پھیلایا، کچھ ادھار پکڑا اور بائیک ٹھیک کروا کر گھر لوٹا۔ مگر جب گھر کا دروازہ کھلا تو سامنے بچیوں کے روتے ہوئے چہرے تھے۔
"اسکول سے نام کاٹ دیا ہے بابا،" بڑی بیٹی نے سسکتے ہوئے کہا۔ "ہمیں سب کے سامنے کلاس سے باہر کھڑا کر دیا گیا۔"
یہ الفاظ نہیں تھے، تیر تھے جو اصغر کے سینے کے پار ہو گئے۔ اس کے اندر کا باپ پلک جھپکتے ہی مر گیا اور ایک لاچار مجسمہ باقی رہ گیا۔ شائستہ نے اسے سہارا دینا چاہا، تسلی کے دو بول بولنے چاہے، مگر اس کی اپنی آنکھوں سے بہتے آنسو اصغر کے زخموں پر نمک بن کر گر رہے تھے۔
رات کو جب سارا گھر سو گیا، اصغر چھت پر آ کھڑا ہوا۔ آسمان پر تارے چمک رہے تھے، بالکل بے نیاز، بے پروا۔ نیچے گلی میں ایک کتا رو رہا تھا۔
اصغر نے اپنے دونوں ہاتھوں کو دیکھا، جو دن بھر کی مشقت سے کھردری اور زخمی ہو چکے تھے۔ اس نے کبھی عیاشی نہیں مانگی تھی، نہ کوئی بڑا محل چاہا تھا؛ وہ تو بس اپنے بچوں کے لیے دو وقت کی عزت کی روٹی اور ایک پرسکون رات مانگ رہا تھا۔ مگر نظامِ زندگی کا بھنور اتنا بے رحم تھا کہ وہ جتنا زور لگاتا، اتنی ہی تیزی سے ڈوبتا چلا جاتا تھا۔
ہوا کا ایک سرد جھونکا آیا۔ اس نے جیب میں ہاتھ ڈالا، جہاں اگلے دن کے دودھ کے لیے بھی پورے سکے موجود نہیں تھے۔ اس نے ایک بار پھر آسمان کی طرف دیکھا، خالی آنکھوں میں نہ کوئی آنسو تھا، نہ امید۔ صبح پھر وہی سورج نکلنا تھا، پھر وہی دکان دار کا تقاضا، وہی دفتر کی جھڑکیاں، اور وہی نہ ختم ہونے والی جدوجہد۔ وہ جانتا تھا کہ وہ ہار چکا ہے، مگر المیہ یہ تھا کہ وہ اس بھنور میں جینے کے لیے ابھی مزید لڑنے پر مجبور تھا۔
مزید پڑھیں





